بریکنگ نیوز 🚨: انٹرنیشنل میڈی�� پر تازہ رپورٹ. عمران خان کے آج جیل میں دو سال مکمل ہوگئے جس پر پی ٹی ائی نے ملک گیر احتجاج کیا۔ دفعہ 144 کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل آئیں 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی ن�� گزرے 🚨
فورس کو گالی مت نکالیں، وردی پہننے والے آپ کے لیے راتوں کو جاگتے ہیں۔ آئی جی پنجاب
آئی جی کی فورس جاگتی ضرور ہے لیکن نہتے، معصوم، بیگناہ، لاچار شہریوں کے دروازوں کو ہتھوڑوں سے توڑ کر ان کے معصوم بچوں کو اٹھانے اور رلانے کے لیے، فی الحال یہ یزیدی فورس ہے۔
🚨🚨 بریکنگ نیوز
پارلیمنٹ کے اندر سے زنجیر توڑ کر محمود خان اچکزئی اڈیالہ جیل پہنچ کر علیمہ خان سے اظہار یکجہتی کر لی
لیکن تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرین نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر اسمبلی کے اندر واش روم میں خود کو بند کیا ہے
8 فروری کو عوامی مقبولیت نے سوشل میڈیا پر نہیں بیلٹ بکس میں اسٹیبلشمنٹ کو تاریخی شکست دی تھی۔ ماشل لاء جیسے ہتھکنڈوں سے آواز خلق کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کل یہ لڑائی کوئی اور لڑا آج عمران خان کی باری۔ اسٹیبلشمنٹ کی شکست تک یہ لڑائی رکنے والی نہیں ہے۔ ہاں ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان لڑا خوب ہے کہ آج آپ جیسے لوگ بھی مفاہمت والی آپشن پر بات کرتے ہیں۔
معلوم نہیں عماد یوسف کو ارشد شریف کا کارڈ کھیلنے کا مشورہ کس بیوقوف نے دیا۔ ارشد کا سب سے بڑا مجرم تو ARY ہے جس اسے نوکری سے نکالا اور قتل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔ جہالت دیکھیں کہ عماد یوسف نے یہ کارڈ اُس PTI کے خلاف کھیلا ہے جس نے آج بھی ارشد شریف کیس کو زندہ ہوا ہے۔
“ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ہمارا مذہب اور کلچر اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ڈی جی آئی ایس پی آر “
اور ہم نےاپنے ہی نہتے پرامن احتجاج کرنے والوں کے لئیے ڈی چوک میدان جنگ بنا دیا تھا کاش اس وقت بھی آپکو مذ ہب یاد آتا۔
پاک بھارت کشیدگی کے تین بینیفیشریز ہیں۔
1 نریندر مودی اور اس کی پارٹی اس جنگ کی پہلی بینیفیشری ہے۔ انھوں نے اپنی قوم کو جنگی جنون میں جھونک دیا اور پھر پاکستان کی مین لینڈ پہ حملہ کر کے اپنی سیاسی مقبولیت بڑھائی۔ مودی نے جس طرح زعم برتری میں مبتلاء ہو کر پاکستان کے خاتمے کی
ڈیپ سٹیٹس فالس فلیگ کرتی ہیں اسی لیے Concept of False Flag بنایا گیا ہےایک واقعہ کیا جاتا اور پھر الزام لگایا جاتا ہے 9/11پر بھی انٹرنیٹ پر بہت سے ثبوت ہیں کہ یہ امریکہ اور اسرائیل نے مل کر کیا ! نجم سیٹھی ۔
9 مئی بھی فالس فلیگ تھا جو ہماری ڈیپ اسٹیٹ نے PTI کو ختم کرنے کے لیے کیا
سوشل میڈیا پہ بغاوت پہ مبنی ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے جو انجانے میں انھی طاقتوں کو ایندھن فراہم کر رہی ہے جن سے وہ شدید نفرت کرتے ہیں۔
آپ پاکستان کا پرچم لگا کر ترانہ لگا دیں یا ریاست پاکستان کے حق میں بات کریں تو کافی سخت ردعمل آتا ہے ۔ نوجوان ریاست سے بیزار ہیں جو موجودہ
برطانوی پولیس کا شہزادہ ہیری اور ان کے بیوی بچوں کو عام شہری کی نسبت اضافی سکیورٹی دینے سے انکار، شہزادے نے عدالت سے رجوع کیا، وہاں بھی مقدمہ ہا�� گئے، یہ عوامی پیسہ ہے ایسے آپ پر خرچ نہیں کیا جاسکتا موقف!
اصل شہزادی شہزادیاں تو یہاں ہیں ،دنیا بھر سے پیسے مانگ کر! ایک چھوٹ افسر سے لے کر بڑے بڑے آئینی عہدوں والوں کے ساتھ ان کے عزیز واقارب ، ذاتی رہائش گاہوں پروٹوکول، سکیورٹی اور دیگر مراعات پر عوامی پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے!
https://t.co/GPCDk44bGZ
نواز شریف کو جیل میں زبردست سہولیات اس لیے دی گئی تھیں کہ انہوں نے واقعی جرم کیا تھا۔
اگر مجرم نہ ہوتے اور کسی اصولی مؤقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے سزا پائی ہوتی تو عمران خان والا حال ہوتا۔ پبلک سب جانتی ہے۔ 👌
ملٹری کورٹ کا جج کا ایک فوجی افسر ہوتا ہے اور DGISPR نے بار بار کہا ہے کہ ہمارے ساتھ pti نے سب کچھ کیا ہے نو مئی بھی انہوں نے ��یا ہے
تو کیا ایک فوج افسر جج اپنے جرنل کے خلاف فیصلہ دے گا اور کہے گا نہیں ایسا نہیں ہے
اسد طور
عاصم منیر نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف سے ہٹا کر مختلف ایشوز میں الجھا دیا ہے۔تاکہ کوئی انکی مدت ملازمت پر بات نہ کرے یہ پاکستانی امریکنز کو بلا کرعمران خان کی رہائی کی بات کرنا چاہتے ہیں یہ سب توجہ ہٹانے کی کوشش ہے تاکہ اصل ایشو کی طرف لوگ نہ آ سکیں عاصم منیر2027 تک ملک کو ایسے حالات کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ 2032 تکContinue
کریں اور وہ رشک قمر کو وزیراعظم بنائیں گے تاکہ لاہوراور چولستان کا فاصلہ کم ہو جائے اور انکو رشک قمر تک پہنچنے کے لئیے ذیادہ محنت نہ کرنی پڑے اور یہ ایک نائٹ مئیر ہو گا جسکے پوری فوج کے مورال پر برے اثرات ہوں گے ۔
کمپنی جس شدت سے عمران خان کو سیاسی اور ملکی معاملات سے مائنس کرنے کی کوشش کرتی ہے ، سوشل میڈیا ٹائیگرز اس سے دس گنا زیادہ شدت سے عمران خان سے مشاورت اور ان کے مؤقف کی ضرورت پہ زور دے کر انھیں سیاست کا مرکز بنا دیتے ہیں۔
سچ پوچھیں تو دستیاب قیادت بھی اس ٹرینڈ سے تنگ ہے کہ انھیں