رواں مالی سال انکم ٹیکس گوشواروں سے ایف بی آر کو کم ٹیکس موصول
29 اکتوبر تک 73 لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں پر 85 ارب ٹیکس ملا جبکہ پچلے سال 86 لاکھ گوشواروں پر 88 ارب 50 کروڑ ملے تھے
رواں مالی سال ایف بی آر کو انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ پچھلے سال کے مقابلے میں کم ٹیکس وصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے،
ایف بی آر کو موصولہ انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد 73 لاکھ سے تجاوز کرگئی
پچھلے سال 29 اکتوبر تک موصولہ 60 لاکھ انکم ٹیکس گوشوراوں کے مقابلے میں ساڑھے 13 لاکھ زیادہ ہیں۔
29 اکتوبر کی شام تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مجموعی طور پر ساڑھے 73 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، ذرائع ایف بی آر
ان انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ایف بی آر کو مجموعی طور پر 85 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا
پچلے سال 86 لاکھ گوشوارے موصول ہوئے تھے 88 ارب پچاس کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا تھا۔
ابھی تک ساڑھے 73 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ اگلے دو دن تک جمع کروائے گئے گوشواروں کی تعداد اسی لاکھ سے تجاوز کرجائے گی، حکام
رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں چونکہ تاخیر سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے پر جرمانوں کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، ذرائع
ٹیکس دہندگان جرمانے سے بچنے کیلئے مقررہ تاریخ سے پہلے پہلے انکم ٹیکس گوشوارے تو جمع کروارہے ہیں
ان میں قابل ٹیکس آمدنی کم ظاہر کررہے ہیں اور اس بار صفر ٹیکس کے ساتھ جمع ہوئی انکم ٹیکس ریٹرن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
لوگ پہلے ایک ہزار روپے کا چالان جمع کرواکر ایکٹو پیئر بننے کیلئے مقررہ تاریخ کے بعد بھی ٹیکس گوشوارے جمع کروا دیتے تھے
پچھلے سال ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد بڑھ کر چھیاسی لاکھ تک پہنچ گئی ہے
جرمانوں کی شرح بہت زیادہ ہے اس لئے لوگ جرمانوں سے بچنے کیلئے مقرہ تاریخ سے پہلے گوشوارے جمع کروا رہے ہیں
انڈر رپورٹنگ ہورہی ہے اور ابھی بھی ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم نومبر سے بھاری جرمانوں کا اطلاق ہوگا۔
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے
یکم نومبر سے تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے
انفرادی گوشوارہ وقت پر جمع نہ کرانے پر جرمانہ ایک ہزار روپے کی بجائے بڑھ کر 25 ہزار روپے تک پہنچ جائے گا۔
یکم نومبر سے لیٹ فائلر ایسوسی ایشن آف پرسنز سے جرمانہ 10 ہزار کی بجائے 50 ہزار روپے، جبکہ لیٹ فائلر کمپنی سے جرمانہ 20 ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپے وصول کیا جائے گا۔
تاجر برداری کے لیے بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن کیلئے 31 اکتوبر کو آخری موقع قرار دیا گیا ہے
آسان ٹیکس اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے جن کے تحت مقررہ تاریخ کے بعد پہلے مہینے میں 10 ہزار روپے، دوسرے مہینے میں 25 ہزار روپے، اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا
وزیر دفاع خواجہ کا کہنا ہے میرا منہ نہ کھلوائیں کہ انہوں نے PDM کے دور میں کیا کیا وارداتیں ڈالی ہیں۔
وارداتیں ڈالی مل کرتھیں ،اگر یہ نورا کشتی نہیں تو ن لیگ کے لئے مشکل ہو سکتی ہے
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired a meeting to review Pakistan’s foreign policy priorities and ongoing diplomatic engagements today.
Discussions covered key regional and international developments, forthcoming high-level engagements and efforts to further strengthen Pakistan’s bilateral and multilateral cooperation.
The DPM/FM underscored the importance of sustained diplomatic engagement to advance Pakistan’s national interests. He directed officers to maintain close coordination and ensure timely follow-up on key priorities.
📌ریاست ماں اور مولانا فضل الرحمان کی حقیقت میں فرق کیا ہے؟
📍ماں اگر تمہیں حرام کھانے سے روک'
بے ایمانی نہ کرنے دے'ناجائز کاموں پر ٹوکے اور دو نمبری کی کھلی چھوٹ نہ دے'تو اس ماں پر تھو؟
لیکن یہی ماں اگر تمہیں ذرا سی من مانی کی اجازت دے دے' تمہارے مفادات پورے کرنے لگے' تو فوراً اسی کے قدم چومنے لگتے ہو؟
❗ یہ ماں کی محبت ہے یا مفادات کی غلامی؟ شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے، کچھ حیا ہی کر لو!
◼📍ریاست کوئی تمہاری ذاتی جاگیر' سیاسی دکان یا بلیک میلنگ سے چلنے والا ادارہ نہیں کہ جب تک تمہاری مرضی کے فیصلے ہوتے رہے تو ریاست ماں تھی'اور جس دن تمہاری من مانی بند ہوئی' وہی ماں بری لگنے لگی۔
❗ماں کو ماں کہتے ہو یا اپنی سیاسی فرم کا اے ٹی ایم سمجھ رکھا ہے؟ پیسے نکلیں تو قدم چومو'حساب مانگے تو گالیاں دو؟ یہ محبت نہیں'کھلی مفاد پرستی ہے' جس پر اصولوں اور مذہب کا خوبصورت غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔
📍لڑکپن سے لے کر آج تک تمہاری سیاست کا محور اقتدار اور اس میں حصے داری رہ ہے۔ کبھی ایک حکومت سے اتحاد'کبھی دوسری سے مفاہمت' کبھی ایک آدھ وزارت' کبھی اقتدار میں حصہ' ہر دور میں اصولوں کی نئی تشریح' ہر حکومت کے ساتھ مفادات کا نیا حساب۔ ❗عجیب اصول ہیں تمہارے'اقتدار کا دروازہ کھلا ہو تو مفاہمت'بند ہو تو مزاحمت۔وزارت مل جائے تو نظام قابلِ قبول'حصہ نہ ملے تو پوری ریاست مشکوک۔ قوم کو دین' ایمان اور اصولوں کے لمبے چوڑے درس دینے سے پہلے اپنی سیاسی مصلحتوں کا حساب بھی تو دو۔
📍دہائیوں تک اسی ریاست میں سیاست ک' اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے' حکومتوں سے اتحاد کیے' اپنے حصے کی وزارتیں اور سیاسی مراعات حاصل کیں۔ تب یہی ریاست ماں تھی' اسی کا نظام قابلِ قبول تھا' اسی کے اداروں سے کوئی بنیادی شکایت نہ تھی۔ اب جب معاملات تمہاری مرضی کے مطابق نہیں چل رہے تو اچانک ماں سے اتنی نفرت کیوں؟
📍ریاست ماں ہے' تمہارے سیاسی مفادات کی دودھ دینے والی گائے نہیں کہ جب تک دودھ دیتی رہے مقدس' اور جس دن دودھ بند ہو جائے' اسی کے خلاف فتوے شروع کر دو
#عوام_کاسامناکرو
#سنسرڈ_پارلیمنٹ_نامنظور
🚨ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج طاہر عباس سپرا نے 29 اکتوبر 2026 کو ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مقدمہ FIR نمبر 1161/2024' تھانہ آبپارہ اسلام آباد'میں مجرم قرار دیتے ہوئے دونوں کو سزائیں سنائی ہیں۔
❗ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مقدمہ محض آزادیٔ اظہار کا نہیں بلکہ PPP 186
'PPC 353 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات سرکاری فرائض میں مداخلت اور مجرمانہ طرزِ عمل کے قانونی پہلوؤں سے متعلق ہیں۔
❗تنقید آئینی حق ہے' قانون شکنی نہیں. اختلافِ رائے اور تشدد یا غیرقانونی مداخلت میں فرق ضروری ہے۔ جرم کا فیصلہ نعروں سے نہیں' شواہد اور قانون سے ہوتا ہے۔
#حلف_سےوفاداری_نبھاؤ