بلکل گوہر صاحب یہ ہی دوٹوک موقف ہونا چاہیے کہ سہیل آفریدی ہی عمران خان کے نامزد وزیر اعلٰی ہیں اور وہ ہی وزیر اعلٰی رہیں گے
عمران خان نے جس جس کو نامزد کیا ہے اس اس کے ساتھ ہم سب کو کھڑا ہونا ہوگا
Imran Khan’s family is in Jail only because they have refused to bow to Dictator Asim Munir!
Everyone knows that there is no legit case against them.
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
The sisters of @ImranKhanPTI have been incarcerated only for the love of their brother.
Even in war , women and children are exempt from persecution, but this fascist establishment knows no bounds.
Illegal confinement of thousands will eventually come to haunt them.
جسٹس ابراڈ کے ڈائریکٹر مائیکل پولاک نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی مبینہ جبری گمشدگی اور غیرقانونی حراست کے معاملے پر اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی درخواست کردی۔
مائیکل پولاک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست اور ورکنگ گروپ برائے جبری و غیررضاکارانہ گمشدگیوں کو ہنگامی درخواستیں جمع کرا دی گئیں۔
جسٹس ابراڈ کی پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کو 11 اکتوبر 2026 سے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے ان کی موجودگی کے مقام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں منتخب عوامی نمائندوں کو اہل خانہ اور وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی اور ان کی حراست کے لیے کوئی وارنٹ یا قانونی حکم بھی پیش نہیں کیا گیا۔
مائیکل پولاک نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر دونوں رہنماؤں کے مقامِ حراست سے آگاہ کرے، انہیں اہل خانہ اور وکلا تک رسائی دے اور رہا کرے۔
جسٹس ابراڈ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے اہل خانہ کی جانب سے دائر حبسِ بے جا کی درخواستیں پشاور ہائی کورٹ میں 3 نومبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ حراست اور سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ معاملہ شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔
کرک میں جنازے میں شامل نہ ہونے پر جعلی گورنر فیصل کریم کنڈی کہتا ہے کہ ایک آدھ رہ جاتا ہے ثابت ہوا کہ صرف سہیل آفریدی کے خلاف بیانیہ بنایا جارہا تھا ،
اچھی گندم گورنر راج لگتے ہی کے پی جانا شروع ہو گئی یہ ہے ان کی سوچ
آج پندرہ دن گزر چکے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اور متعدد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ یہ انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت صورتِ حال ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ان افراد کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں اہلِ خانہ اور عوام کو مطمئن کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹیو اور اسپیکر صوبائی اسمبلی ایوان کے کسٹوڈین ہیں۔ ان سمیت منتخب عوامی نمائندوں کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی آئین، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ سیاسی انتقام، غیر قانونی حراست اور آئینی حقوق کی پامالی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور اسے صفائی کا مکمل حق دیا جائے۔ فاشسٹ طرزِ حکمرانی اور ریاستی جبر سے پاکستان تحریک انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام متعلقہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور مقامِ موجودگی سے آگاہ کیا جائے اور انہیں وکلا تک رسائی سمیت تمام قانونی و آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ایران اجلاس،،خواجہ آصف کا دفاع سویا رہا ، ڈار کی خارجہ خاموش رہی ، نقوی نے دونوں کا کام نپٹا دیا،،
یہی ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ، اور نظام کا کولپس ہو نے کی نشانی۔۔۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
اس ملنگ نظریاتی انسان کے لیے کوئی بھی اواز نہیں اٹھا رہا....💔
کوئی اسکی کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں ہے
جبکہ اپ دیکھ سکتے عمر سرفراز چیمہ اندر ہی اندر سے ختم ہو رہا ہے ان کے لیے اواز اٹھائے
CONSEQUENCES of IRAN BORDER CLOSURE: Silly, knee jerk, thoughtless decisions which damage Pakistan’s economic interests & also detrimental for people of Pakistan, who suffer the most because of exorbitant energy price! Is there RATIONAL Explanation for sudden closure & opening?
پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق ہیومن رائٹس سیل بھی موجود ہے
اور لاپتہ ہونے متعلق درخواستیں دو دو ہفتے بعد لگائی جا رہی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟؟