شمس صاحب! آپ تو پی ٹی ایم کا بیانیہ بولنے لگے ہو۔ مجھے اس سال میں کسی مقامی تاجر، طالب علم یا وکیل کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ بتا دو؟ دوسری طرف ہماری فوج اور سیکیورٹی فورسز کا خون روز بہہ رہا ہے۔سیکیورٹی ادارے اپنی جانوں پر کھیل کر عام شہریوں کی دفاعی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کو اس سال کے آغاز میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز تنولی کی شہادت کا پتہ ہے؟ گزشتہ ہفتے ہی شمالی وزیرستان میں میجر حافظ احسان الٰہی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ کل ٹل (ضلع ہنگو) میں کیپٹن حمزہ وطن پر قربان ہوئے اور تیراہ میں ڈیوٹی کے دوران کرنل شاہد علی کو شدید زخم آئے اور ان کی ٹانگ کٹ گئی۔ یہ افسران اور جوان اپنے بچوں سے دور، اپنے جسم کے اعضا کٹوا کر اور جانیں قربان کر کے وہاں کے ہر شہری اور تاجر کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔جہاں تک معدنیات کی کانوں، مزدوروں اور ٹرکوں کا تعلق ہے، تو وہاں کام کرنے والے مزدور بھی اسی علاقے کے عام شہری ہیں جن کا روزگار اس کام سے وابستہ ہے۔ سیکیورٹی فورسز وہاں خصوصی انتظامات اس لیے کرتی ہیں تاکہ دہشت گرد خطے کی معاشی سرگرمیوں کو نذرِ آتش نہ کر سکیں اور مقامی لوگوں کا روزگار چلتا رہے۔
ایک مخلص دوست کے ناطے میری گزارش صرف اتنی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ان شہدا اور غازیوں کی بے لوث قربانیوں کو بھی اسی ترازو میں رکھ کر دیکھا جائے، تاکہ اصل تصویر پوری شفافیت کے ساتھ سامنے آ سکے۔
@Mehmood0629418@soulat_pasha مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ یہ ایمان بالغیب ہے ۔ ہر مذہب کا اپنا اپنا ہے۔ ہمیں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مزاہب کو برداشت کرتے ہوئے اس دنیا کی بہتری کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
کالعدم ملک دشمن پی ٹی ایم اس ویڈیو کو بنیاد بنا کر شمالی وزیرستان کی معدنیات کے نام پر ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں
ذرا جذبات سے ہٹ کر حقیقت سمجھیں، یہ معدنیات کسی نے چوری نہیں کیں اور نہ ہی انہیں مفت میں لے جا رہا ہے۔ معدنیات کا ٹھیکہ صوبائی حکومت کا متعلقہ محکمہ معدنیات (Mineral Department) قانونی طریقہ کار کے تحت دیتا ہے۔ ٹھیکیدار مقامی وزیر، محسود، داوڑ یا کوئی دوسری قومیت یا کوئی کمپنی، وہ پہلے طے شدہ رقم، رائلٹی اور دیگر واجبات ادا کرتا ہے، اس کے بعد قانونی اجازت کے تحت معدنیات نکالتا ہے۔
مقامی لوگوں اور حکومت کے حصے بھی اسی قانونی و انتظامی نظام کے تحت طے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کان کی آمدن میں تقریباً 60 فیصد حصہ مقامی حق داروں کو اور باقی حکومت کو جاتا ہے تو پھر اسے وسائل کی لوٹ مار کہنا حقائق کو مسخ کرنا ہے۔یہ جن ٹرکوں میں جارہا ہے یہ ٹرک بھی مقامی لوگوں کی ملکیت ہے،
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص یا صوبہ معدنیات مفت میں نہیں لے رہا۔ جس ٹھیکیدار نے مال خریدا یا قانونی طور پر حاصل کیا، اس نے اس کی قیمت اور متعلقہ واجبات ادا کیے۔ اس کے بعد وہ مال پنجاب میں فروخت کرے، سندھ لے جائے یا چین، امریکہ برآمد کرے، یہ ایک قانونی تجارتی معاملہ ہے۔
اگر واقعی اعتراض ہے تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ:ٹھیکہ کس کو دیا گیا؟ کتنی رقم وصول ہوئی؟ مقامی لوگوں کو کتنا حصہ ملا؟ حکومت کو کتنی رائلٹی ملی؟
حساب مانگیں، ریکارڈ سامنے لائیں اور شفافیت کا مطالبہ کریں۔
لیکن چند ٹرکوں کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ہماری سرزمین کی دولت منظم طریقے سے لوٹی جا رہی ہے عوام کو جذباتی طور پر بھڑکانے کے سوا کچھ نہیں۔اور اگر کسی کو معدنیات فروخت کرنے پر اعتراض ہے تو پھر صونائی حکومت کو کہیےکہ ٹھیکہ ہی نہ دیں، معاہدہ ہی نہ کریں اور اس کی رقم بھی وصول نہ کریں۔ جب قانونی طریقے سے ٹھیکہ دیا، رقم وصول کی، مال نکالا اور خریدار نے قیمت ادا کر دی تو بعد میں اس مال کی کسی دوسرے صوبے منتقلی کو لوٹ مار قرار دینا پروپگنڈہ لے سوا کچھ نہیں ہے ،
وزیراعظم کا جولائی میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے 3.6 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجنے پر اظہار اطمینان۔
اورسیز پاکستانیوں نے اپنے رشتہ داروں کو 3.6 ارب ڈالر بھیج دئیے ہیں اور ان کے رشتہ داروں سے نکلوانا اب ہمارا کام ہے، وہ ہم کر لیں گے۔ وزیراعظم کا دل ہی دل میں مزید اظہار اطمینان۔
@soulat_pasha بات سائنس اور فلسفے کی ہو رہی ہے۔ باقی خدا کا خوف کچھ لوگوں کو تو جرائم سے باز رکھ سکتا ہے لیکن پوری سوسائٹی کو پُرامن رکھنے کیلئے ریاست کا ڈنڈا انتہائی ضروری ہے۔
@soulat_pasha جس نظریے کے نزدیک دنیا کی حیثیت مکھی کے پر جتنی نہ ہو اور سارا زور مرنے کے بعد کی زندگی پر ہو اس نظریے کے حامی انسانیت کی بھلائی کیلئے سائنس اور فلسفے کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے ۔ طالبان اور داعش وغیرہ کو ہے لے لیں۔
@MohsinHijazee حجازی صاحب! کشمیر میں جو قوم پرست اٹھے ہیں ان کا مقابلہ بھرپور سیاسی ایکٹیویٹی سے ہی ہوا ہے۔ الیکشن ٹرن اوور نے قوم پرستوں کے دھرنے کا مومینٹم پاش پاش کر دیا۔ لہٰذا بوٹ پولش چھوڑیں اور سیاست کو مضبوط کریں۔
@awarahgard میدانِ جنگ میں فوج لڑتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ فوجی قیادت پچھلے 20 سال سے دہشت گرد سے عملی جنگ لڑ کر اُوپر آئی ہے اور بڑی بڑی مشکل جنگیں لڑی ہیں۔ ایسی ایسی گوریلا جنگیں جیتی ہیں کہ دنیا کی کوئی اور فوج نہ لڑ پاتی ۔