کوئٹہ پریس کلب
بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی بی ایس او ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس
بی ایس او چیئرمین بالاچ قادر اور جوائنٹ سیکرٹری ابوبکر بلوچ سمیت بی وائی سی قیادت مہرنگ بلوچ اور دیگر کو قتل کے جعلی مقدمات کے ذریعے ان پردباؤ ڈالنا کی کوشش کی جارہی
وزیرِاعلیٰ کے منصب سے انتقام نہیں تدبر اور برداشت کی توقع کی جاتی ہے“Revenge is a dish best served cold” جیسے بیانات عوامی خدمت نہیں بلکہ انتقامی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔بلوچستان کو انصاف اور مسائل کا حل چاہیے مگر فارم 47 کی حکومت سے ایسی توقع رکھنا مشکل ہے
@sakhtarmengal
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کی خواتین قیادت نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ خواتین کے خلاف تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے خواتین وفد نے سول ہسپتال کوئٹہ میں وائی ڈی اے کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ��یزاب گردی کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ میں شرکت کیاوفد میں مرکزی خواتیں سیکریٹری شکیلہ نوید دہوار، جمیلہ بلوچ شمائلہ اسماعیل، پروین لانگو اور ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ شامل تھیں
جب انگریزوں کا لشکر افغانستان میں داخل ہو رہا تھا تو بلوچ قوم نے ان کا راستہ روکا، پشتونوں اور بلوچوں کی چار سو سالہ پرانی تاریخ ہے، محمود خان جو خود ایک قزلباش ہیں اپنی ٹھیکیداری کیلئے پشتونوں اور بلوچوں کو لڑا رہا ہے، احمد خان غیبزئی
#Balochistan
Balochistan is observing a complete shutter down strike called by Balochistan National Party in response to the horrific Zehri incident a day that saw BNP Vice President Mir Khalil and Umair Jan Sumalani both martyred at the hands of security forces. #StopBalochGenocide
گرینڈ الائنس کے قائدین کی جبری ریٹائرمنٹ ملازمین کی نمائندہ آوازوں کو خاموش کرانے کی شرمناک کوشش ہے۔ فارم 47 کی حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے انتقام کی سیاست پر اتر آئی ہے۔اور یہ اِنکا پرانا شہوا رہا ہے۔
ایسے آمرانہ ہتھکنڈے نہ پہلے کامیاب ہوئے ہیں اور نہ اب ہونگے
کوئٹہ میں گزشتہ روز ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، ہماری اقدار اور بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر حملہ ہے۔ یہ اس سرزمین کی روح کے خلاف ہے جہاں عورت کو عزت، وقار اور احترام کا سب سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور کے گواہ ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہے۔ ہم خاموش بیٹھے ہیں جبکہ ہماری بیٹیاں ہسپتالوں میں نشانہ بنائی جا رہی ہیں، انہیں اٹھایا جا رہا ہے، قید کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ سب اُس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں کبھی عورت کی حرمت ہر شے سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی۔ یہ دیکھنا روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت صرف عزت کی علامت نہیں بلکہ قیادت، ہمت اور شعور کی نمائندہ بھی رہی ہے۔ جو لوگ پسماندہ، تنگ نظر اور فرسودہ سوچ کے ذریعے باعزت اور کامیاب خواتین کو بدنام کرنے، دبانے یا ان کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کسی بھی عورت کی عزت، ساکھ اور کامیابی پر حملہ دراصل ہماری اجتماعی اقدار پر حملہ ہے۔ ایسے رویوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کا احترام کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک اصول ہے جسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایات، اپنی غیرت اور اپنی بیٹیوں کے وقار کے دفاع کے لیے یک آواز ہو جائی!!
آج صبح 8 بجے سے مجھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ہم سردار نصیر احمد موسانی کے ص��حبزادے کے انتقال پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسانی کے وہ بیٹے جو حراست میں ہیں، انہیں اپنے ہی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور دوستوں کو بھی سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی سے روکا گیا۔
غم میں شریک ہونا، جنازے میں شرکت کرنا اور تعزیت کرنا نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور روایتی اقدار کا بھی حصہ ہے۔ ایسے حالات کا سامنا ہمیں جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والے نظام میں لوگوں کو اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
Since 8 this morning, I and members of the party’s central leadership have been held back and prevented from travelling to Zehri to offer condolences to Sardar Naseer Ahmed Moosani on the loss of his son. Even more tragic, Sardar Moosani’s sons in custody were denied the right to attend their brother’s funeral. Preventing families, friends, and political colleagues from mourning their dead is a dark stain on any democracy.
زہری کئی ماہ سےفوجی محاصرے آپریشن کی زد میں ہے۔اس دوران سردار نصیر کے گھر پر دھاوا بول کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ان کے بیٹوں کو جبری لاپتہ کیا گیا جبکہ میر خلیل اور عمیر سمالانی کو شہید کر دیا گیا۔اس جبر کےخلاف خواتین کے احتجاج پر ڈرون حملے اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی گئی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور مرکزی کمیٹی کے رکن سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزند اور بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ خضدار کے سینئر نائب صدر سردارزادہ خلیل احمد موسیانی کو شہید کرنا ریاستی بربریت کی بدترین مثال ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے انہیں زخمی حالت میں اٹھایا اور بعد میں ان کے اہلِ خانہ کو ان کی میت وصول کرنے کی اطلاع دے دی گئی۔ یہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جسے بلوچستان نیشنل پارٹی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
سردار نصیر احمد موسیانی کی رہائش گاہ پر سیکیورٹی فورسز نے چھاپہ مار کر گھر کی حرمت کو پامال کیا، ان کے بیٹوں اور قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اس پوری کارروائی میں سردارزادہ خلیل احمد موسیانی کو زخمی حالت میں جبری طور پر اٹھایا گیا اور انہیں شہید کر دیا گیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی یورپ اس ظالمانہ، بزدلانہ اور غیر انسانی کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے فرزند کو اس طرح شہید کرنا ریاستی دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔