https://t.co/AchQXXu6oi
@HamidMirPAK@PakSarfrazbugti@Senator_Baloch
Grade 9 patwari posts recruited by BPSC , albeit , 17 and 16 grade posts or PDM posts are recruited by traditional way causes demerit.......in Baloch land ...
Cited link can be seen further grievance .....
ناروے میں 55 پرسنٹ ٹیکس ہے اور وہاں آپ کے کفن دفن تک کا انتظام کیا جاتا ہے ، بچوں کو وظیفے دیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں 68 پرسنٹ ٹیکس ریٹ ہے لیکن یہاں صرف بدلے میں سرکار جوتے ہی مارتی ہے اور جعلی پرچے ہی کاٹتی ہے،
مبین عارف جٹ
یہ ملک کوئی کمپنی نہیں
یہ 26 کروڑ عوام کا ملک ہے جسےآپ کمپنی کی طرح بیلنس شیٹ دیکھ کر اسےچلا رہے
بیلنس شیٹ سےملک نہیں چلتے
یہ زندہ لوگ ہیں،آپ نے ان کی ضروریات دیکھنی ہیں
ہمارے حکمرانوں کو پرواہ ہی نہیں
انہیں پتہ ہی نہیں کے کبھی گیس اور بجلی کا بل بھی جمع کروایا ہے
@SanaullahDawn
کوئٹہ شہر میں دوپہر ایک بجے ۔ علی بچوں کو سکول سے واپس لانے نکلا۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی،۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہوگیا۔ ایک ہاتھ سے بچے کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور دوسرے سے موٹر سائیکل گھسیٹ رہا تھا۔ چند ہی لمحوں میں کپڑے پسینے سے بھیگ گئے، سانس پھول گئی، مگر بچوں کو دھوپ میں چھوڑنا بھی ممکن نہ تھا۔
کسی طرح بچوں کو گھر تک پہنچایا، مگر مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ سوچا کسی پٹرول پمپ سے پٹرول لے آؤں، مگر شہر کے پمپ خالی پڑے تھے۔ پھر خیال آیا گھر فون کرکے کسی کو مدد کے لیے بلاؤں، مگر موبائل اٹھایا تو نیٹ ورک غائب تھا۔
تھکا ہارا، پسینے میں شرابور جب گھر پہنچا تو صرف ایک کپ چائے کی خواہش تھی۔ جواب ملا، گیس نہیں ہے۔ کہا، الیکٹرک کیٹل میں بنا دو۔ جونہی بٹن دبایا گیا، بجلی چلی گئی۔
یہ ایک علی کی کہانی نہیں، لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی ہے۔
دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جو ٹھنڈے کمروں، سرکاری گاڑیوں، پروٹوکول اور مراعات کے حصار میں بیٹھی ہے۔ انہیں نہ پٹرول کی قطاروں کا علم ہے، نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا احساس، نہ نیٹ ورک کی بندش کا دکھ اور نہ عدمِ تحفظ کا خوف۔ وہ پھر پریس کانفرنسوں میں آکر عوام کو صبر، حب الوطنی اور قربانی کے درس دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نظریات تقریروں سے نہیں بنتے، لوگوں کی زندگی آسان بنانے سے بنتے ہیں۔ جب ریاست عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوجائے تو ردِعمل جنم لیتا ہے۔ پھر جتنی مرضی پریس کانفرنسیں کرلو، جتنے مرضی بیانیے گھڑ لو، عوام کے خالی پیٹ، بجھتے چولہے اور ٹوٹتے حوصلے ان سب کو مسترد کر دیتے ہیں۔
لوگ ابھی خاموش ہیں، مگر خاموشی کو رضامندی مت سمجھو۔ یہ ضبط ہے، اور ضبط کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جس دن یہ حد ٹوٹ گئی، اس دن نہ بند دروازے کام آئیں گے، نہ سرکاری ریسٹ ہاؤس، نہ مسلح پہرے دار۔ عوام جب اپنے حق کا حساب مانگنے نکلتی ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ایوان بھی اس کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
فی الحال چلنے دو، جیسے چل رہا ہے۔ مگر یہ سمجھ لینا کہ سب کچھ معمول پر ہے، سب سے بڑی غلط فہمی ہوگی۔
قاسم مری
پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جاسکتا قلات کے حکمران خود کوخانِ بلوچ کہتے تھے، نہ کہ براہوی کنفیڈریسی کے سربراہ، یہ اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے، ثناء بلو چ
@Senator_Baloch
محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، وہ ھمارے بزرگ ہیں - لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھر #پشتونوں، #بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوؤں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک #نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
"براہوی کنفیڈریسی" کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ" کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی" کے سربراہ۔ خانۂ قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔
بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔
ہمارا بلوچ بھائیوں سے کوئی جھگڑا نہیں، برٹش بلوچستان کونسا علاقہ ہے، براہوی کنفیڈریسی یا جینون بلوچستان کونسا علاقہ ہے ہمیں سب پتا ہے، ڈویژنز اور ضلعے بنانے میں ہم ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ڈیموگرافک چینج وغیرہ تو فلسطین اور اسرائیل کا قیصہ بن جائے گا۔
محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھر #پشتونوں، #بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوؤں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک #نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
"براہوی کنفیڈریسی" کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ" کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی" کے سربراہ۔ خانۂ قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔
بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔
برٹش بلوچستان، براہوئی کنفیڈریسی یا جینوئن بلوچستان کون سا علاقہ ہے ہمیں پتا ہےبلوچوں سے کوئی جھگڑا نہیں، ہم ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں اگر بلوچ پشتون دونوں متحد ہوجائے تو انہیں بند وق اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، محمود خان اچکزئی
Can you imagine a provincial capital and a major metropolitan city in the 21st century without electricity, gas, petrol, internet, or security?
This is not fiction. This is Quetta.
A city where people survive under constant uncertainty while those in power continue making hollow promises. In any functional state, this would be called a humanitarian and governance crisis.
@Senator_Baloch@AzazSyed@HamidMirPAK@SajidTareen4@MeerLangau@a_siab@asmashirazi@AsadAToor
حالیہ لانچ ہونے والے مختلف رنگوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے اتنا سرمایہ کہاں سے آرہا ؟ ابھی بلوچستان کے حوالے سے ایک ویڈیو دیکھی " boosted " تھی ۔ ایک تو ان پلیٹ فارمز کے بنانے اور چلانے پر پیسہ لگایا گیا ہے پھر بُوسٹنگ بھی کی جارہی تو اسکا مطلب بوریوں کے حساب سےپیسہ چل رہا ۔ اگر بات میں دم ہو تو پھر boost کرکے بیانیہ کیوں بنانا پڑ رہا ؟
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی معاشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی
کوئٹہ (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خضدار، زہری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے سردار نصیر احمد موسیانی کے صاحبزادے میر خلیل احمد موسیانی کی شہادت، ان پر اہلِ خانہ کے سامنے مبینہ تشدد اور ان کے بیٹوں کو نمازِ جنازہ میں شرکت کی اجازت نہ دیے جانے کے واقعات کو نہایت افسوسناک اور انسانی و سیاسی اقدار کے منافی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بلوچستان میں پہلے سے موجود بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو جمہوری اور پُرامن سیاسی جدوجہد سے پہلے سے بد ظن مزید بدظن کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، خواتین کی گرفتاریوں، ماورائے آئین حراست اور سیاسی آزادیوں پر قدغنوں کے باعث صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے جمہوری اور آئینی جدوجہد کے راستے مکمل طور پر مسدود کر دیے جائیں تو اس کے انتہائی منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں، جن کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں جعلی اور جنگی بیانیے کے سہارے برسرِ اقتدار مخصوص ٹولے کی عیش و عشرت کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے پورے صوبے کے عوام کو ظلم و جبر کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔
اصغر خان اچکزئی اور سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، جبکہ تمام سیاسی مسائل کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ایک بڑی تباہی اور بربادی کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے بلوچستان نیشنل پارٹی اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں پشتون اور بلوچ عوام کے درمیان اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہو گا
During a raid on the home of Sardar Naseer Ahmed Moosani in Bulbul Zehri, the sanctity of the home was violated and his sons and close relatives were detained and taken to an undisclosed location. Among them was Sardarzada Khalil Ahmed Moosani, Senior Vice President of BNP Khuzdar and son of former District Chairman and Central Committee member Sardar Naseer Ahmed Moosani. Despite being injured, Khalil Ahmed Moosani was taken away by security forces, and his family was later informed to collect his body.
A new round of repression has begun. Raids against BNP's leaders in Balochistan, stopping PTI leaders from campaigning in Gilgit-Baltistan, FIR registered against opposition leader. Aim of these draconian measures is to distract from economic failures of this illegitimate govt.
پاکستانی حکمران اور بیوروکریٹس سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر پیسہ کیسے بنانا ہے یا بقول خواجہ آصف پرتگال جائیدادیں کیسی خریدنی ہیں۔
اگر آپ کو یاد ہو موجودہ کنونشن سینٹر سفید ہاتھی سمجھ کر 2014/2015 میں وزیراعظم نواز شریف کے دور میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا کہ اسے بیچ دیں یہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے۔2019 میں عمران خان دور میں بھی اس کی فروخت کا پلان بنایا گیا۔
اب فرمایا گیا ہے نہیں پرانے کو چھوڑیں چاہے وہ بھی خالی پڑا ہے، اب ہم اربوں روپوں سے ایک نیا کنونشن سینٹر تعمیر کریں گے۔
لوگوں کی مہنگائی سے چیخیں نکل رہی ہیں، لوگ بجلی پٹرول تک کے بلز تک نہیں دے پارہے اور ان حکمرانوں اور بابوز کو ایک اور کنونشن سینٹر کی فکر ہے۔
موجودہ کنونشن سینٹر سال میں 12 ماہ خالی پڑا رہتا ہے۔ کبھی کبھار سال بھر میں ایک آدھ بھولا بھٹکا کوئی فنکشن ہوجاتا ہے لیکن نئے کی ضرورت پڑ گئی ہے یا ہمارے سرکاری بابوز نے ضرورت پیدا کر لی ہے۔
اربوں روپے کے اس نئے کنونشن سینڑ کی فکر صرف ان سب کو اپنی چونچیں گیلی کرنے کے لیے ہے۔ اس سے بڑا پیسے کا ضیاع اور کیا ہوسکتا ہے جو اس وقت حکمران اور کرنے جارہے ہیں۔
کچھ برس بعد پھر یہی حکمران اور بابوز کہیں گے یہ پہلے والے سینٹر کی طرح یہ بھی سفید ہاتھی ہے اسے بھی بیچ دیں۔ اس دوران اس کی تعمیر کے کنٹریکٹس سے سب اپنی اپنی چونچیں گیلی کر کے یہی بابوز پرتگال کی فضائوں میں کافی پی رہے ہوں گے۔
بس ایک افسوس ہے کہ اربوں روپوں کے اس فضول منصوبے کی ساری کاروائی سابق چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ڈالی تھی لیکن اس کا پھل موجودہ چیرمین سہیل اشرف کی گود میں گرنے والا ہے۔
اپنی اپنی قسمت۔ دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والا کا نام۔ 😎
@CMShehbaz@SohailAshrafGor@MohsinnaqviC42@MIshaqDar50@CDAthecapital@BilalAKayani@Financegovpk@sherryrehman@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@betterpakistan@JunaidAkbarMNA@Ali_MuhammadPTI@sherafzalmarwat@NawazSharifMNS@DrTariqFazal@AyazSadiq122@RajakhurramNA48@sharmilafaruqi
لاہور کی ترقی کا راز
لاہور میں بننے والی 300 ارب روپے کی اورینج ٹرین سی پیک کے پیسوں سے بنائی گئی سی پیک گلگت سے لے کر گوادر تک ہےنہ گلگت میں بجلی ہے نہ گوادر میں ، سی پیک جہاں سے شروع ہوتا ہے نہ وہاں بجلی اور پانی ہے اور جہاں ختم ہوتا ہے نہ وہاں بجلی اور پانی ہے !چوہدری منظور
زہری میں پاکستان آرمی کی اندھا دھند فائرنگ سے میرے چچا زاد بھائی عمیر سمالانی ولد حاجی نصیر سمالانی شہید ہو گئے۔ ظلم کی انتہا ہے کہ نوجوان اپنی بہن اور گھر والوں کے ساتھ خضدار کی طرف گاڑی میں جا رہا تھا کہ اس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اسے شہید کر دیا گیا۔ یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ کرفیو کے دوران باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا، مگر ایک بے گناہ شہری کی جان لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس نے ہمارے خاندان کو گہرے صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
زہری بلبَل میں سردار نصیر کے گھر میں ہونے والے واقعے کے دوران ان کے بیٹے میر خلیل کو بھی گولی لگی تھی۔ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ سانحہ مزید المناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف، غم اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے
#Balochistan #Baloch @WGEID@kakibaloch