انشاء اللّٰہ کل مختلف عدالتوں میں درج ذیل قانونی ٹیم موجود ہو گی جس کا انتظام ILF لاہور کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم کارکنان کو قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک رہے گی۔ عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے وکلاء بھرپور طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
@AdvShujaat_ILF
بطور وکیل آج میں نے جسٹس خالد اسحاق صاحب کی عدالت سے رجوع کیا، لیکن عدالت نے مؤقف اپنایا کہ یہ مناسب فورم نہیں ہے۔ جسٹس صاحب نے ہدایت کی کہ اگر ATC کے حکم پر عملدرآمد درکار ہے تو کسی نامزد ملزم کو ہی متعلقہ ATC میں دوبارہ درخواست دینی ہوگی، کیونکہ شریکِ ملزم ان ٹرائلز کی اشاعت پر اعتراض کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عدالت نے اس تمام معاملے میں "اوپن ٹرائل"کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کیا گیا، جو انصاف کے ��فاف عمل کی ضمانت ہوتا ہے۔
اب اگلا قدم ATC میں درخواست دینا ہے۔
جدوجہد جاری ہے۔
میں نے کوٹ لکھپت جیل میں جاری مقدمات تک میڈیا کی رسائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت کا واضح حکم موجود ہے جس میں 12 افراد بشمول 7 صحافیوں کو کوٹ لکھپت جیل میں جاری ٹرائلز کی سماعت میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس عدالتی حکم پر جیل حکام کی جانب سے عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
یہ درخواست صرف میڈیا رسائی کے لیے نہیں بلکہ عدالتی احکامات کے احترام اور کھلی عدال��وں کے اصول کے تحفظ کے لیے ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہائی کورٹ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتی ہے یا نہیں۔
آج مال روڈ پر یہ بورڈز ہر طرف لگے ہوئے دیکھے جن پر لکھا تھا
"چھ سال سے کشمیر محاصرے میں ہے"
میرا ان الفاظ پر شدید اعتراض ہے۔ کشمیر صرف چھ سال سے نہیں بلکہ عرصہ دراز سے ظلم، جبر اور محاصرے کا شکار ہے۔
یہ مسئلہ 5 اگست 2019 سے شروع نہیں ہوا، بلکہ دہائیوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی انسانی، سیاسی اور آئینی حقوق کے لیے قربانیاں دے رہے ہ��ں۔
محض چھ سال کا حوالہ دینا اس طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کو محدود اور مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
کشمیر کی کہانی ایک دن یا ایک آرٹیکل کی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی صبر و مزاحمت کی داستان ہے۔ کشمیر کل بھی قید تھا، آج بھی قید ہے۔
ایاک نعبد و ایاک نستعین
آج 5 اگست فجر کے بعد ہم نے اس فرسودہ، کرپٹ اور بدبودار نظام کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ احتجاج عمران خان @ImranKhanPTI کی رہائی ��ک جاری رہے گا، کیونکہ عمران خان صرف ایک نام نہیں وہ اس قوم 🇵🇰کی دھڑکن ہے۔
جو دلوں میں بستے ہیں، انہیں مائنس نہیں کیا جا سکتا۔
اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مہرے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔
انشاء اللّٰہ کل مختلف عدالتوں میں درج ذیل قانونی ٹیم موجود ہو گی جس کا انتظام ILF لاہور کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم کارکنان کو قانونی معاونت فراہم کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک رہے گی۔ عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے وکلاء بھرپور طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
@AdvShujaat_ILF
Imran Khan walked into prison with his head held high, two years later, he hasn't given up despite inhumane conditions, no deal, no fear and no excuse of platelets shortage, there's nobody like him
پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 ہمیں پرامن اجتماع کی آزادی دیتا ہے، آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، آرٹیکل 17 سیاسی سرگرمیوں اور جماعتوں میں شمولیت ک�� حق دیتا ہے، آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے اور آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سا��نے برابری کا حق دیتا ہے۔ ان حقوق کی بنیاد پر ہم 5 اگست کو پرامن احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دیں گے کہ ہم اپنے حقِ رائے دہی، آزادیٔ اظہار اور انصاف کے حصول سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ احتجاج کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے لیے ہے۔ جب ووٹ کی توہین ہو، جب میڈیا کو دبایا جائے، جب کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں قید کیا جائے، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ ہم آئین کے مطابق پرامن طریقے سے آواز بلند کریں گے کیونکہ یہ ملک بھی ہمارا ہے، آئین بھی ہمارا ہے اور مستقبل بھی ہمارا ہے۔
پاکستان زندہ باد!