IIUI Alumnus Prof. Dr. Hafiz Aziz ur Rehman Named Chairman of IPO Pakistan
Prof. Dr. Hafiz Aziz ur Rehman, an alumnus of the International Islamic University Islamabad (IIUI), has been appointed Chairman of the Intellectual Property Organization (IPO) of Pakistan, one of the country's top legal and regulatory posts in the field.
A leading national expert in Intellectual Property Law, Dr. Aziz ur Rehman earned his LL.B. (Shariah & Law) from IIUI before completing an LL.M. at Stockholm University, Sweden, and a Ph.D. at The Australian National University, both specialising in Intellectual Property Law.
His career spans academia, legal practice and public service. He served as Legal Advisor to Médecins Sans Frontières (MSF), Switzerland, from 2011 to 2013, and most recently as Director of the Law School at Quaid-i-Azam University, Islamabad.
At IIUI, he served as Advisor to the President and Chairperson of the Department of Law in the Faculty of Shariah & Law, and was among the founding members of the committees that designed and launched the University's LL.M. programmes in 2005 and 2006.
The IIUI community congratulated Dr. Aziz ur Rehman on the appointment and wished him success in strengthening Pakistan's intellectual property regime.
حکیم نے فلسفی سے کہا:
تم ہمیشہ سوال کیوں کرتے ہو اور کبھی آرام کیوں نہیں کرتے؟
فلسفی نے مسکرا کر جواب دیا:
کیونکہ سکون سوال میں ہے جواب میں نہیں۔
حکیم خاموش ہو گیا، اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
کیا تم سمجھتے ہو کہ ہر سوال حکمت کی طرف لے جاتا ہے؟
فلسفی نے جواب دیا:
نہیں، لیکن ہر خاموشی جو سوال سے خالی ہو، عقل کی سست موت کی طرف لے جاتی ہے۔
اسی لمحے جبران گزرا، ہاتھ میں اپنی نوٹ بک اور قلم لیے، اور اُن کے درمیان سے گزرتے ہوئے کہا:
"کاش لوگ جانتے کہ کچھ سوال اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ہم اُن کے ساتھ زندہ رہیں، نہ کہ اُن کے جواب تلاش کریں۔"
پھر دوستوئیفسکی گزرا، اپنی گہری نظر اور مخصوص ہلکی سرگوشی کے ساتھ:
"نفس (خود) کے بارے میں کیا گیا ایک سوال، دنیا کے بارے میں قائم سو یقینوں کو ڈھا سکتا ہے۔"
راستے کے آخری کنارے پر، نطشے بیٹھا سورج کے غروب کو دیکھ رہا تھا، اور کہا:
"ہر وہ خیال جو تمہیں نہ بدلے وہ خیال نہیں، ایک اور نیند ہے۔"
پس سوال کرو، شک کرو، پڑھو، لکھو، بات کرو، سنو، مشاہدہ کرو، تلاش کرو،
کیونکہ وہ عقل جو تھکتی نہیں، وہ معرفت کا مزہ نہیں جانتی۔
اور وہ دل جو زخمی نہیں ہوتا، وہ حسن کی گہرائی کو نہیں پہچانتا۔
پروین شاکر کی غزل
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
قطری ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان کے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک تیل کراچی لا رہے ہیں اب تک 18 بحری جہاز اس راستے سے تیل لا چکے ہیں تو پھر حکومت پاکستان نے تیل کی قیمت میں اتنا اضافہ کیوں کیا؟ عوام پر ضرورت سے زیادہ معاشی بوجھ ڈال کر انہیں کسی ایسے سیاسی فیصلے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جو انہیں قبول نہیں ہو گا؟
Near, far, wherever you are
I believe that the heart does go on
Once more, you open the door
And you′re here in my heart
And my heart will go on and on
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے
ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے
ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے
کہوں بے درد کیوں اہل جہاں کو
وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے
ہمارے دل میں سیل گریہ ہو گا
اگر با دیدۂ پر نم نہ ہوں گے
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
حفیظؔ ان سے میں جتنا بد گماں ہوں
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے
حفیظ ہوشیار پوری
یہ خوبصورت غزل حفیظ ہوشیارپوری کے دل کی گہرائیوں، محبت اور جدائی کے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔
اشعار میں درد، شکوہ اور امید کا حسین امتزاج نظر آتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
یہ کلام عشق کی نازک کیفیات اور انسانی جذبات کی سچی ترجمانی کرتا ہے۔
🔴 امام اسماعیل ھنیہ جنہوں نے اپنا پورا خاندان شہادت کے لیے پیش کیا اور آخر میں خود میں شہادت کا جام پی لیا۔ سورت آل عمران کی آیت 169 تلاوت کرتے ہوئے:
"جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں"۔