رات گئے اس رختِ شب میں
تاروں کے جھرمٹ میں چھپ کر
نیل گگن کی گود میں بیٹھا
اپنے سوچ نگر میں گُم سُم
میرے جیسا تنہا تنہا
میری جانب دیکھ رہا ہے
آدھی رات کا پورا چاند
!!
@Mahnoor_dhillon A policy that sidelines its own system-trained graduates is not reform — it’s discrimination. CIP fails to uphold transparency and true merit.
#Govt_grad_reject_CIP
We want a fair, transparent policy:
• FSC & Matric marks included
• Parent Institute marks added
• Experience counted
• PG induction test removed
Govt continues to prioritise private interest groups over thousands of deserving government graduates
#Govt_grad_reject_CIP
.@GFarooqi, let’s be outraged about things that really matter.
Not standing up for the national anthem might be considered disrespectful behavior, but it’s not “anti-Pakistan conduct”.
Anti-Pakistan conduct is when you steal the people’s mandate.
Anti-Pakistan conduct is when you mutilate the constitution and make it unrecognizable.
Anti-Pakistan conduct is when you orchestrate coups and overthrow civilian rule.
Anti-Pakistan conduct is when you use lethal weapons against unarmed protesters.
Anti-Pakistan conduct is when you send young soldiers to die in conflicts of your own making
Anti-Pakistan conduct is intimidating judges, bribing politicians, abducting journalists, and imposing yourself with lifetime appointments and immunity on a weary nation.
And finally, anti-Pakistan conduct is justifying all these actions.
Again, let’s be outraged about things that really matter.
don’t bring your kids to weddings they’re going to ruin someone’s wedding
don’t bring your kids on flights they’re loud
don’t bring your kids to restaurants they’re annoying
These are little humans who deserve love and compassion from their community which will shape their-
اُچ شریف ساؤتھ پنجاب کا سیلاب سے متاثرہ معصوم بچہ، روزگار کی خاطر کراچی آیا اور سندھ پولیس کے ظلم کی بھینٹ چڑھ گیا! 💔
14 سالہ عرفان بلوچ — پنجاب کے سرائیکی وسیب کا ایک غریب بچہ، جس کا گھر سیلاب میں گر گیا تھا۔
بھوک اور افلاس سے تنگ آ کر روزگار کی تلاش میں کراچی آیا، مگر یہاں آ کر سندھ پولیس کی درندگی کا شکار بن گیا۔
سینئر صحافی شاہد جتوئی کے مطابق،
22 اکتوبر کو عرفان اور اس کے تین ساتھیوں کو سندھ پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) کے اہلکاروں نے عائشہ منزل کراچی سے اٹھایا۔
23 اکتوبر کی شام اہلکاروں نے لواحقین کو فون کیا کہ “عرفان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے، لاش جناح اسپتال سے لے جائیں!”
لیکن 14 سال کے بچے کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا —
یہ دراصل سندھ کے نظام کا ہارٹ فیل ہے،
یہ سندھ پولیس اور سندھ حکومت کے ضمیر کا ہارٹ فیل ہے۔
عرفان کا جرم یہ تھا کہ وہ روزگار کی تلاش میں سندھ آیا —
اور سزا یہ ملی کہ وہ پولیس کے ظلم کا نشانہ بن کر لاش بن گیا۔
اب ظلم پر ظلم یہ کہ ایف آئی آر تک درج نہیں ہو رہی!
یہ صرف عرفان بلوچ کا قتل نہیں،
یہ انصاف، انسانیت اور ضمیر کا قتل ہے۔
#JusticeForIrfanBaloch
#SindhPolice #Karachi #HumanRights #PoliceBrutality
ٹرمپ کو اس دفعہ مسلمان ملک ٹھیک راس آئے ہیں کہ سارے اسکے سامنے ناچتے رہتے ہیں حالانکہ امن معاہدے کے باجود جو کچھ غزہ میں ھورہا ہے تو اسے چپیڑیں مارنے کی تو کسی ملک میں اوقات نہیں لیکن کم از کم تھوڑی غیرت کا مظاہرہ کرکے اس بیغیرت سے ہلکی سی کنارہ کشی ہی کرلیں
اُوچ شریف کا 14 سالہ عرفان بلوچ، جس کا گھر سیلاب میں تباہ ہوا، روزگار کی تلاش میں کراچی آیا۔ اسے سندھ پولیس نے اٹھایا، تشدد کیا، اور اگلے دن اہلخانہ کو اطلاع دی کہ عرفان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ 14 سال کے بچے کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا، یہ سندھ کے نظام کا ہارٹ فیل ہے۔ نہ ایف آئی آر درج ہوئی، نہ انصاف ملا، نہ ضمیر جاگا۔ آخر کب تک بے قصور لوگ اس ظالم نظام کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟
وجوہات جو بھی ہوں مگر ایک مڈل کلاس نوجوان شخص کا اعلیٰ سیاسی عہدے پر منتخب ہونا صرف قابلِ تحسین نہیں قابلِ تقلید مثال بھی ہے۔ یہ کتنی مدت کیلئے ہے، یہ اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ بجائے اسے سراہنے اور اسے کامیاب دیکھنے کی آرزو رکھنے کے، اسے ناکام دیکھنے کی یہ حسرت محض کج فہمی نہیں بلکہ اس سوچے سمجھے منفی اور غلام مافی الضمیر کا اظہار ہے جو بڑھتی عمر کے ساتھ پختہ ہو چکا ہے۔ جمہوریت اور مڈل کلاس کیلئے تمام عمر جد و جہد کے دعویدار سعد رفیق نے بھی بالآخر قے کر دی اور باطنی بغض کو اگل ڈالا۔ اگرچہ موصوف کی ایک بین الاقوامی طور پر مستند بدعنوان اور جمہوریت کش خاندان سے دیرینہ وابستگی ہی ان کے سیاسی و اخلاقی معیار کو منکشف کرنے کیلئے کافی تھی، مگر اب معلوم ہوا کہ وہ مڈل کلاس کو اچھوت سمجھنے اور رکھنے والوں میں بھی شامل ہیں۔
ہر طرف لاشوں کے ڈھیر ہیں۔ ہم اسرائیل اور نیتن یاہو کو دہائیاں دیتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں اپنے بھی کچھ کم نہیں۔وہ پرائیوں کو مارتے ہیں ظالم ہیں۔اور یہاں؟ یہاں اپنے ہی، اپنے خون سے زمین رنگین کرتے ہیں۔یہی فرق ہے ان میں اور ہم میں وہاں دشمن پہ گولی چلتی ہے، یہاں اپنی ہی عوام پہ۔
ایک پولیس والے نے اپنا ڈنڈا ایک لاش پر رکھا ہوا ہے ۔جیسے اُس نے کوئی دشمن کا مورچہ فتح کر لیا ہو۔دوسری طرف ایک شخص شدید زخمی ہے، مدد مانگ رہا ہے۔اور ایک بزرگ، خون میں لت پت، ہاتھ اٹھا کر رحم کی فریاد کر رہا ہے۔ اتنی بے رحم کیوں ہے۔ی، انسانیت کے جنازے کا منظرنامہ ہے۔
ریاست ہوگی ماں جیسی
پھر ریاست نے پنجاب کے ہر گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا!
کل ظلم پی ٹی آئی کی خواتین اور کارکنوں کے ساتھ تھا!
کل نشانہ وزیراعظم خان کی اہلیہ اور بہنیں تھیں !
آج ظلم کا نشانہ تحریک لبیک کے امیر کی کمسن بیٹی اہلیہ اور باپردہ خواتین ہے!
26 نومبر کی رات ہمارے شہداء کے جسد خاکی تھے اور ہمارے گھروں میں ماتم تھا!
آج شہدا تحریک لبیک کے ہیں!
ہم ظلم اور ناانصافی کے اس اندھیرے میں تحریک لبیک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں!
ختم نبوت سے لے کر مسئلہ فلسطین تک
نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے سے چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی تک
ہر ظلم ہر جبر کے خلاف تحریک انصاف پنجاب ہر قدم پر ہر مظلوم کی آواز ہے!
اگر پنجاب میں ظلم کا یہی سلسلہ جاری رہا
تو کم ازکم تحریک انصاف پنجاب مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئے گی!
پنجاب مزید یہ ظلم نہیں سہے گا
انشاء اللہ
کیا ایک فوجی کرنل اور وہ بھی ایس ایس جی کی ایسی زبان ہوسکتی ہے؟
یہ کیسے ظالم لوگ ہیں جنہیں کسی کی ماں بہن بیٹی کی عزت نظر نہیں آتی؟ یہ خواتین لبیک یا رسول ﷺ کہتے ہوئے گرفتاریاں دے رہیں ہیں ظالمو شرم کرو
When did we start dividing Pakistanis into provincial castes? Every time Maryam Nawaz says “my Punjab, my water, my money, my marzi,” she reduces a nation’s shared identity into a narrow, self-serving slogan of provincial nationalism. Punjab is NOT your property. Nor Sindh, nor Balochistan, nor KP anyone’s fiefdom. Each province is a lifeline of this federation, not a trophy to be claimed by politicians seeking applause from one region at the cost of alienating the rest. Does the PML-N not see that buses full of Punjabi and Siraiki dead bodies return from Balochistan, sons of Punjab who are killed because others are taught to hate them? This blood is on the hands of those who normalize division and feed provincial bias for political mileage. It’s shameful that instead of building bridges, PML-N’s politics continues to draw lines, bullying PPP members in Punjab and bad-mouthing Sindh. There is a war within Pakistan, not just of bullets, but of mindsets. Foreign terrorists exploit our internal fractures, our caste lines, our linguistic pride. And yet, some of our own ‘leaders’ choose to fan that fire, blinded by petty politics. This is not leadership. This is the politics of small minds, wrapped in loud slogans.
میڈم صاحبہ نے کہا این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے سب کو برابر پیسے ملتے ہیں۔ ذرا بتا دیں کہ آخری دیا گیا؟ 2010 میں پی پی پی کی گورنمنٹ نے یہ ایوارڈ دیا اور پانچ سال بعد 2015 میں ہونا چاہیے تھا لیکن نہیں ہوا۔ آپ کی پارٹی کی ہی سرکار تھی۔
بلوچ، پختون، سندھی اور کشمیری قوم پرستوں کو ہمیشہ برا کہا جاتا تھا لیکن آج مریم نواز نے بھی پنجابی قوم پرستی کا نعرہ لگایا ہے جس کا انہیں پورا حق ہے لیکن شازیہ مری نے جواب میں کہا ہے کہ جن لوگوں نے ماضی میں جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا تھا وہ ہمیں سندھ کارڈ کا طعنہ کیسے دے ہیں ؟