Afghanistan’s national revenue is kept hidden from the public, with a huge chunk being diverted toward anti-national agendas and strengthening the Taliban’s militia power structure.
This short clip from the Spin Boldak border shows the harsh reality of Afghanistan’s economy. Thousands of young Afghans are literally lining up, desperately hoping to get even a basic job carrying goods just to make ends meet.
سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے پر، ٹی ٹی پی بھی رو رہی ہے اور بھارت بھی رو رہا ہے افغانستان میں بھی صف ماتم ہے جبکہ جہاں سے حکومت ختم ہوئی وہاں ساری رات جشن رہا عوام آتش بازی کرتی رہی
ایسا کیوں؟؟
شہزاد اقبال : خیبرپختونخوا کو آپ اپنا گڑھ کہتے تھے ، شفیع جان ، شاہد خٹک سوشل میڈیا پکارتے رہے نکلو باہر
لیکن لوگ گھروں سے ہی نہیں نکلے
شیخ وقاص اکرم : حکومت نے اتنا خوف پھیلا دیا کہ لوگ نہیں نکلے تم کیا چاہتے ہو لوگ گھروں سے نکلتے اور ہنگامہ ہوتا
شہزاد اقبال : تو پھر لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا کیوں کہہ رہے تھے؟؟
عوام تو نہیں نکلی البتہ باڑہ بازا میں منشیات اور اسمگلنگ سے وابستہ مسلح دہشتگرد سہیل آفریدی کے لیے باہر نکلے
پولیس پر سیدھی فائرنگ کی..
اس سے اندازہ کریں وزارت اعلی پر چہرہ سہیل آفریدی کا تھا اور چلانے والے ہاتھ منشیات فروشوں اور اسمگلر کے تھے جو ٹی ٹی پی کے مقامی کارندے بھی ہیں
#کے_پی_یوم_نجات
ورلڈ اکنامک فورم (WEF) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی، دور دراز علاقے سہولتوں کے لحاظ سے مزید دور ہو جائیں، محرومی کے باعث لسانیت مزید بڑھ جائے گی، سکیورٹی کے مسائل حددرجہ ہونگے، اگر پاکستان اس پر قابو پانا چاہتا ہے تو پاکستان کو اپنے انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کرنی ہوگی
4 صوبائی دارالحکومت 30 کروڑ آبادی کو مینیج کرنے میں ناکام ہونگے
کروڑوں انسانوں کو غربت اور بیروزگاری سے بچانے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) نے معاشی اصولوں کے تحت پاکستان کو 4 جغرافیائی اجارہ داریوں (Geographical Monopolies) سے نکال کر 16 سے 32 فنکشنل اکنامک زونز (Functional Economic Zones) میں تبدیل کرنے کا روڈ میپ پیش کیا ہے
جہاں ہر زون کی اپنی مخصوص ایکسپورٹ پروڈکٹ (مثلاً سرگودھا کے لیے ایگری ٹیک، گوجرانوالہ کے لیے لائٹ انجینئرنگ) ہو۔صوبہ سیالکوٹ (لائٹ مینوفیکچرنگ و اسپورٹس کلسٹر)، اور صوبہ گوادر (میری ٹائم لاجسٹکس کلسٹر)۔ہو
صوبے کا مطلب قومیت یا لسانی گروہ کی الگ زمین نہیں " بلکہ صوبہ ایک "اکنامک انجن" ہونا چاہیے جو اپنی عوام کے لیے اکنامک حب بن جائے نوکریاں اور کاروبار ایجاد کرے جیسے چین کا ہر صوبہ اسپیشل اکنامک زون ہے
چین کے شہروں (شنگھائی، بیجنگ) یا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرز پر کراچی اور لاہور کو ان کے متعلقہ صوبوں سے الگ کر کے آزاد وفاقی میٹروپولیٹن صوبے (Independent Metropolis) کا درجہ دیا جائے
گوادر اور کراچی جیسے اسٹریٹجک ساحلی علاقوں کو روایتی صوبائی اثر و رسوخ (کراچی یا کوئٹہ کے سیکرٹریٹ) سے آزاد کر کے، ویتنام کے ماڈل پر آزاد میری ٹائم اکنامک زونز (Autonomous Maritime Zones) بنایا جائے،
چین نے بھی شینزن (Shenzhen)، ژوہائی (Zhuhai)، اور شانتو (Shantou) جیسے چھوٹے مچھیروں کے دیہاتوں کو اسپیشل اکنامک زونز کا درجہ دیا
ان زونز کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان سے حاصل ہونے والا ٹیکس بیجنگ جانے کے بجائے پہلے 10 سال کے لیے 100% اسی زون کی ترقی پر دوبارہ خرچ ہوا ۔اج یہ دنیا کے لیے عجوبہ ہیں
گوادر بھی شینزن کی طرح مچھیروں کا قصبہ ہے، بالکل 1979 کے شینزن کی طرح) ہم اسے اج کا شینزن بنا سکتے ہیں
پاکستان کو اپنی 26 کروڑ آبادی کو محرومیوں سے بچانے کے لیے سیاسی صوبوں کی نہیں، بلکہ شینزن جیسے 32 پیداواری انجنوں (Production Engines) کی ضرورت ہے۔
#نئےصوبےبنائیں_ملک_بچائیں
#ایمرجنسی_نافذ_کرو
#یوتھیا_بھگاو_صوبہ_بچاو
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان ایک مانیٹرنگ ادارے کے بجائے ایک "جاسوسی ایجنسی" (Detective Agency) کے طور پر کام کر رہا ہے
اس کے لیے یورپی یونین سے باقاعدہ فنڈنگ لیتا ہے،اور پاکستان کے اداروں کے خلاف باقاعدہ مہم چلاتا ہے
پشاور ہائی کورٹ کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان جعلی سروے کے نتائج مرتب کرتا ہے
یہ سروے کی بیس پہ پاکستان کے متعلق انڈیکس میں "کرپشن کا تاثر" (Corruption Perception Index) دکھاتا ہے یہ سروے کی بنیاد پر اداروں کو کرپٹ قرار دیتا ہے حالانکہ براہِ راست ثابت شدہ کرپشن اور خود سے مرتب کردہ سروے میں دکھائی گئ کرپشن، حقیقت اور خیالی کا فرق ہے
خیالی لوگوں کے تاثرات کی بنیاد پر پورے ملک کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اس کرپٹ اور مجرم دکھانا، کیا یہ مجرمانہ فعل نہیں؟؟
#FraudulentTransparencyIntl
#فراڈیا_ٹرانسپیرینسی_انٹرنیشنل
Afghanistan is not being ruled by an ordinary government it is being ruled by men now wanted by the International Criminal Court.
On October 5, 2026, the International Criminal Court (ICC) unsealed four arrest warrants against senior Taliban leaders over alleged crimes against humanity:
• Hibatullah Akhundzada — Supreme Leader of the Taliban
• Abdul Hakim Haqqani — Chief Justice
• Nida Mohammad Nadim — Minister of Higher Education
• Habibullah Agha — Minister of Education
The warrants concern alleged persecution on gender grounds and systematic violations of the fundamental rights and freedoms of Afghan women and girls.
This is a major legal development in the ICC’s Afghanistan investigation and places some of the Taliban’s most senior figures under international criminal scrutiny.
Afghanistan today is not simply under Taliban rule — it is under the rule of leaders facing allegations of crimes against humanity before the world’s highest international criminal court
مستقبل میں جب بھی کوئی طالب علم بیسویں اور اکیسویں صدی کی مسلم تاریخ کا ورق الٹے گا، تو اسے ہر صفحے پر بے بسی، لاچاری، اور اپنوں کی بے حسی کا مرثیہ لکھا ہوا ملے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی، دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے، اور زمین کے ستر فیصد قدرتی وسائل کے مالک مسلمان کس طرح اپنے ہی گھروں میں غیروں کی سازشوں اور اندرونی فتنوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔
لیکن جب تاریخ کا طالب علم 7 اگست 2026ء کی تاریخ کا ورق پلٹے گا تو یہ اس جملے پر ضرور یقین کرے گا کہ جب ظلم بڑھ جائے مسلمان پسنے لگیں تو رب تعالیٰ اسلام کا پاسبان ضرور پیدا کرتا ہے جو دھرتی اسلام، دین اسلام اور مسلمانان عالم کی حفاظت کرتا ہے جو لارنس آف عریبیہ کے جدا کئیے ہوے دوبارہ ملانے اور انھیں بچانے کی طاقت اور زہانت رکھتا ہے
7 اگست کو وہ دن تھا جب مکہ مکرمہ کی مقدس دھرتی پر "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" ہوا، جس نے پہلی بار مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کا تحفظ اب واشنگٹن، لندن یا پیرس کی بیساکھیوں کا محتاج نہیں بلکہ اسلام کی فوج کرے گی ۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ صدیوں کی اس جمود کو کس نے توڑا؟ وہ کون سا مائی کا لعل تھا جس نے امتِ مسلمہ کے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیا؟
اس تاریخی معرکے کے پیچھے پاکستان کا وہ بیٹا کھڑا تھا جسے دنیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام سے جانتی ہے۔ یہ صرف ایک فوج کا سپہ سالار نہیں ہے، یہ اس دور میں اسلام اور حرمین شریفین کا وہ پاسبان بن کر ابھرا ہے جس نے امت کو ڈور میں باندھ دیا
سید زادے عاصم منیر نے جب دیکھا کہ صیہونی ایجنڈے اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مہرے—چاہے وہ یمن میں حوثی باغی ہوں یا پاک افغان سرحد پر ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں بی ایل اے کے فتنہ گر—اسلام کے قلعوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں، تو انھوں نے انقرہ سے لے کر ریاض تک عسکری سفارت کاری کا وہ طوفان کھڑا کر دیا جس کی مثال ماضی کے ادوار میں نہیں ملتی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی دنیا کے سفارت کاروں کا سٹڈی سبجیکٹ بن چکا
مگر وہ یہ نہیں جانتے یہ صرف سفارت کاری نہیں یہ جذبہ ایمانی اور رسول اللہ کے گھرانے سے نسبت کا نتیجہ اور اسلام سے لازوال محبت تھی کہ انہوں نے سعودی عرب کے عزم اور ترکیہ کی جدید ترین ڈیفنس انڈسٹری کو پاکستان کے فولادی عزم اور مینوفیکچرنگ صلاحیت کے ساتھ اس مہارت سے جوڑا کہ نیٹو (NATO) کی طرز پر ایک ناقابلِ تسخیر مسلم ڈیفنس بلاک وجود میں آ گیا۔
انہوں نے ریاض میں قائم ہونے والے اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کے سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھوا کر دنیا کو بتا دیا کہ یہ کوئی زبانی کلامی بیان نہیں ہے، بلکہ اب مکہ اور مدینہ کی طرف اٹھنے والی ہر گندی آنکھ کو پھوڑنے کا باضابطہ، ادارہ جاتی اور عسکری انتظام کر دیا گیا ہے۔ جب پاکستان کا لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود اس سیکرٹریٹ کا پہلا سیکرٹری جنرل بنتا ہے، تو یہ دراصل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس تزویراتی سوچ کی فتح ہوتی ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کی حفاظت کرے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دنیا پر واضح کر دیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ ہمارے لیے محض ایک جغرافیائی سرحد کا دفاع نہیں، یہ ہمارا ایمان ہے، ہمارا دین ہے، اور ہماری آخرت کا سامان ہے۔ جب مکہ اور مدینہ کے تقدس پر بات آئے گی، تو پاکستان کے غیور سپاہی اپنے سینوں پر بم تو باندھ سکتے ہیں، لیکن ارضِ مقدسہ پر کوئی آنچ نہیں آنے دے سکتے۔
آج اگر سعودی عرب کے صحراؤں میں پاکستانی فضائیہ کے اثاثے اور ائیر ڈیفنس سسٹم تعینات ہیں، تو یہ اسی پاسبانِ اسلام کے پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ جدید دور کی ہائبرڈ وارفیئر، اطلاعاتی حربوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا مقابلہ اگر کوئی کر سکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف مسلمانوں کی یہ "اجتماعی طاقت" ہی کر سکتی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ کروا کر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا لیا ہے۔ انہوں نے صیہونی اور مغربی سازشوں کے اس جال کو تار تار کر دیا ہے جو مسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر حرمین شریفین کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ آج امتِ مسلمہ فخر سے سر اٹھا کر کہہ سکتی ہے کہ ہمارا پاسبان جاگ رہا ہے، ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، اور مکہ معاہدے کی صورت میں جو سیکیورٹی چھتری تانی گئی ہے، وہ خطے میں امن، استحکام اور اسلام کی سربلندی کی ابدی ضمانت بن چکی ہے
#سالار_امہ_عاصم_منیر
#رہبر_امت_عاصم_منیر
ہم آئینی حق کی گردان تو سنتے ہیں مگر جب آئینی حساب کی باری آتی ہے تو اسے سیاسی انتقام کا نام دے دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں حساب دہی کا رواج کیوں نہیں؟
18ویں ترمیم کے بعد آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 160 (این ایف سی ایوارڈ) صوبوں کو ان کا مالی حصہ دینے کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن آئین کا کوئی بھی آرٹیکل کسی صوبے کو فنڈز لے کر غائب کر دینے یا بلائنڈ چیک (Blank Cheque) استعمال کرنے کا حق نہیں دیتا۔ اگر وفاق سے رقم کا مطالبہ آئینی بالادستی کے تحت کیا جاتا ہے، تو رقم کا حساب دینا بھی اسی آئینی جوابدہی (Article 170 کے تحت آڈٹ) کا حصہ ہے
این ایف سی کے تحت 5,867 ارب روپے اور صرف دہشتگردی کی مد میں 799 ارب روپے لینے والے صوبہ خیبرپختونخوا کی سی ٹی ڈی کے پاس ضرورت کی محض 4.5 فیصد رائفلیں ہیں
اور وہ 5,867 اور 799 ارب روپے کہاں گئے کا حساب دینے کو بھی تیار نہیں
دہشتگردی کے لیے سی ٹی ڈی بنائی گئ اسے سپیشل ٹاسک دیا گیا
دنیا بھر میں جب بھی کسی محکمے کو "اسپیشل ٹاسک فورس" کا درجہ دیا جاتا ہے، تو اس کا بجٹ نان-لیپسیبل (Non-lapsable) اور براہِ راست آپریشنل ضروریات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ سوچیے اتنے بڑے فنڈز کے بعد بھی سی ٹی ڈی کے بنیادی ہتھیار مفقود ہیں،
جب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ جیسی فرنٹ لائن فورس کے پاس 95.5 فیصد رائفلوں کی کمی ہو،اور سامنے دہشت گرد نائٹ وژن گگلز، اور جدید ترین اسالٹ رائفلوں سے لیس ہوں تو آپ سپاہیوں کو جنگ نہیں لڑوا رہے بلکہ انہیں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں
پولیس کے جو اہلکار فنڈز نہ ملنے اسلحہ نہ ہونے عمارات نہ بننے سے شہید ہوے وہ عوام کے بیٹے تھے
عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ دہشت گردی کے نام پر ملنے والا وہ خطیر فنڈ کس بلیک ہول کی نذر ہو گیا جس نے ہماری سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا پولیس کو اس نہج پر لا کھڑا کیا۔
اگر نیت صاف ہے اور دامن پر داغ نہیں ہے، تو پھر اس دہشت گردی فنڈ کا فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔
یہ فوجی اور پولیس والے آگے آگے ہونگے اور عمران خان کے ٹائیگر ان کے پیچھے پیچھے ہونگے،
بےشک کتے پیچھے ہی بھاگتے ہیں
مگر
فوج اور پولیس کون؟
ریاست کی رٹ..
ریاست کو دھمکا کون رہا ہے
ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ جسے سکیورٹی ہی پولیس دیتی ہے
سوچیے اگر ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ اپنی کتا فورس کو ریاست کو کاٹنے کا حکم دے تو ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟
#فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو
#خارجی_مارچ_نامنظور
پہیہ جام ہڑتال مسترد کئیے جانے کا غصہ ،کالعدم ایکشن کمیٹی نے سدھنوتی میں نہتے شہریوں پر فائرنگ کر دی
فائرنگ کے نتیجے میں سدھنوتی سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی رمضان گولی لگنے سے شہید ہو گئے، جبکہ چار مقامی نوجوان شدید زخمی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت کے باعث راولپنڈی منتقل کیا گیا:
زخمیوں میں
• شفقت حسین ولد محمد یونس (عمر 44 سال)
• وارث ولد محمد شفیع (عمر 45 سال)
• واصف خان (عمر 28 سال)
• عدنان (عمر 33 سال) شامل ہیں
واضح رہے کہ کالعدم تنظیم نے 4 اکتوبر کو آزاد کشمیر بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ لیکن عوام نے ہڑتال کی بجائے کلعدم ایکشن کمیٹی کا ہی بائیکاٹ کر دیا سدھنوتی کی عوام نے کاروبار اور بازار کھلے رکھے،
عوام کی طرف سے خریداری کا رش اور تاجروں کی جانب سے بازار کھولے جانے کو حکم عدولی خیال کرتے ہوے ان کے اسلحہ بردار دستوں نے بازاروں میں موجود نہتے اور معصوم شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں
جس سے 1 کشمیری شہید اور چار زخمی ہو گئے
خود کو "عوامی" کہلانے والی کالعدم تنظیم عوامی تائید سے محروم ہونے کے بعد تشدد کے زریعے ڈرا کر حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے
#فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو
#خارجی_مارچ_نامنظور
اگر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے لاکھوں لوگوں کا سمندر نکل آیا ہے تو پی ٹی آئی اس سمندر کی تازہ وڈیوز کی بجائے تین سال پرانی( پاک افغان بارڈر پر ویزہ پاسپورٹ کے اجراء پر ہونے والے احتجاج کی)وڈیوز کو لانگ مارچ کے نام سے کیوں ٹویٹ کر رہی ہے؟؟
#فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو
#خارجی_مارچ_نامنظور
کرک وہ علاقہ ہے جہاں پولیس لائنز، چوکیوں اور سکیورٹی فورسز ، پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں حتی کہ زخمی پولیس اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینسز کو زخمیوں سمیت آگ لگا دی جاتی ہے دوسری جماعتوں کے لیڈران جہاں سرعام گھوم نہیں سکتے، مگر پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کا آغاز انھی علاقوں سے کیا ہے اور آزادانہ کیا، کوئی حملہ نہیں بلکہ لانگ مارچ میں TTP کے کارندے اسلحے کے ساتھ موجود ہیں
یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے تحریک انصاف فتنہ الخوارج کا ایک سیاسی ونگ ہے۔
#فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو
#خارجی_مارچ_نامنظور
ملک کو لہولہان کرنے والے خارجیوں کے سہولت کار اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ جب تک کے پی کی قیادت خوارج کی سہولت کاری چھوڑ کر ریاست کے ساتھ، مظلوم عوام کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی
ان کے ساتھ خوارج جیسا ہی سلوک کیا جائے،
#فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو#خارجی_مارچ_نامنظور