الخارجية// تُدين جرائم المستوطنين في قرية قريوت جنوب نابلس، وتدعو إلى تحركٍ دولي فوري لفرض الحماية والمساءلة.
تُدين وزارة الخارجية والمغتربين بأشدّ العبارات جريمة الارهاب المنظم التي ارتكبتها مليشيات المستوطنين، اليوم الاثنين، في قرية قريوت جنوب نابلس، والتي أسفرت عن استشهاد مواطنين اثنين وإصابة عددٍ من أهالي القرية بجروح متفاوتة الخطورة.
وتؤكد الوزارة أن سياسة التطهير العرقي التي تنتهجها سلطة الاحتلال، عبر القتل والترهيب والتوسع الاستيطاني ومصادرة الأراضي والتهجير القسري، والاعتقال التعسفي، ما هي الا إعادة لإنتاج جريمة النكبة واستمرارها في الأرض الفلسطينية المحتلة، بما فيها القدس الشرقية. وتحمّل مسؤوليتها الكاملة لحكومة الاحتلال المتطرفة والعصابات الاستيطانية المسلحة التي تعمل كأداة تنفيذية ارهابية ضمن مشروع استعماري يهدف إلى ابادة وتهجير الشعب الفلسطيني من أرضه وتقويض مقومات بقائه وصموده.
وتشدد الوزارة على أن منظومة الاستيطان الاستعماري القائمة على دعم وحماية المستوطنين وضمان إفلاتهم الممنهج من العقاب، تشجعهم على تكرار الاعتداءات لتطبيع الجرائم بطابعها العنصري بحق المدنيين الفلسطينيين، لتستحوذ على جغرافيا فلسطينية اكثر، بديمغرافيا اقل.
وتدعو الوزارة المجتمع الدولي إلى تحمّل مسؤولياته القانونية والأخلاقية، والانتقال من مرحلة الإدانة اللفظية إلى خطوات عملية ورادعة وملزمة، تشمل فرض عقوبات واضحة على منظومة الاستيطان وداعميها، وتفعيل آليات المساءلة الدولية ذات الصلة، وتوفير حماية فعّالة للشعب الفلسطيني.
وتؤكد الوزارة استمرارها في تكثيف تحركها السياسي والقانوني والدبلوماسي في مختلف المحافل الدولية، لملاحقة مرتكبي هذه الجرائم ومن يقف خلفهم، وضمان عدم إفلاتهم من العقاب، والعمل مع الشركاء الدوليين لتعزيز المساءلة وإنهاء الاحتلال الاستعماري لأرض دولة فلسطين، وتجسيد الدولة الفلسطينية المستقلة كاملة السيادة بعاصمتها القدس الشرقية، استنادًا إلى القانون الدولي وقرارات الشرعية الدولية ذات الصلة.
Africans! Right now, in El Fasher, Sudan they are killing this woman and her children just because their skin is black, and the UAE is sponsoring it.
If you have any honor, boycott the UAE and do not go there.
#BoycottUAE
Sudan’da Müslümanlar büyük bir katliamdan ve zulümden geçiriliyor. Fakat medya Müslümanlığı, Ümmet konusunda âdil olmayanları ortaya çıkarıyor.
Sudan ehli, Gazze ehlinden daha az bir acı ve kıyım yaşamıyor. Sudan’da zulüm, Gazze’de savaşın şiddetliği dönemde daha da şiddetlendi; özellikle 2023 yılının başından itibaren binlerce Sudanlı müslüman diri diri gömüldü, binlercesi işkenceyle öldürüldü, binlercesine açlıkla, susuzlukla ölüm yedirildi ve binlerce kadının iffetine dokunuldu. Bunları kim görüyor ve duyuyor? Medyanın duyurduğundan başkasını duymayanların kalplerinde ne îmânın sıdkı ne de Dînimiz İslâm’ın derdi görülüyor. Bize ne oluyor ki îmânımızın kuvveti medyanın çıkarlarına göre ortaya çıkmaya başladı? İşte bu Sudan ey Müslümanlar.. Ağlayanı olmayan İslâm toprağı. https://t.co/EwHj2nzfQe
مدنی ماں گھر میں بچوں کو سیرت کے واقعات سناتی رہتی تھی۔ ایک دن بچے نے ضد کی کہ مجھے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملانے کے لیے لے جائیں۔ ماں سمجھ رہی تھی کہ شاید یہ روضہ اقدس پر جانے کا کہہ رہا ہے۔ لیکن جب مسجد نبوی کے صحن میں پہنچ کر خاتون نے اسے بتایا کہ وہ سامنے والے گیٹ سے گزر کر آقائے کریمؐ کی قبر مبارک پر سلام پیش کریں گے۔ یہ سننا تھا کہ بچہ بلک بلک کر رونے لگا کہ میرے آقا کی وفات ہو چکی ہے؟ آپ نے ابھی تک مجھے بتایا ہی نہیں۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ آنحضرتؐ کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کروں گا۔ مگر..... بچے اور ماں کا مکالمہ
جب بچے کے آنسو دیکھے تو مدینہ میں اصحاب رسول کی وہ کیفیات نظروں کے سامنے چلنے لگیں کہ امت محمدیہ کا ایک بچہ رسول اللہ کی وفات کی خبر سن کر آنسو بہا رہا ہے جس نے آپکو دیکھا نہیں صرف سنا ہے وہ جنہوں نے ساتھ وقت گزارا ساتھ نبھایا ان شمع رسالت کے پروانوں کا عالم کیا ہوگا ۔
اب تک درجنوں افراد ریاستی گنڈہ گردی میں شہید ہو گئے ہیں۔۔۔!
تحریک لبیک پاکستان کا مارچ خون میں نہلایا گیا ہے۔۔۔!
ریاستی دہشتگردی نا منظور۔۔۔!
#tlp#پاکستان_بن_گیاغزہ
کیا تحریکِ لبیک کے کارکنان کا جرم بس یہ ہے کہ وہ دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح — ایک مظلوم قوم فلسطینیوں کے لیے اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنا چاہتے تھے؟
وہ پاکستانی ہیں، مسلمان ہیں، آئینِِ پاکستان کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ اپنی فوج و ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ وہ “لبیک یا رسول اللہ” کہہ کر گھر سے باہر آئے — کیا یہ بھی جرم بن گیا ہے؟
ریاست تو ماں کی جیسی ہونی چاہیے،— اسی صوبے کی سربراہ نے کل تہہ دل سے کہا کہ پنجاب کے لوگ اس کے بچے ہیں — مگر آج انہی “بچوں” کو، انہی نہتے، پُرامن شہریوں کو، کلمے کے قائل پاکستانیوں کو سڑکوں پر مارا جارہا ہے۔ آنسو گیس، واٹر کینن، اور گولیاں اور زخمی اور شہادتیں ، یہ منظر کسی بھی مذہب، کسی بھی آئین، کسی بھی ریاست کے وقار کے خلاف ہے پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے اس سے ریاست کمزور ہوگی اور اسکا فائدہ اسلام اور پاکستان کے مخالفوں کو ہوگا!
🔴 اسپین میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے:
“جنگ بندی ہو جائے تو بھی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
جب تک اسرائیل نسل کشی کا حساب نہیں دیتا، مزاحمت ختم نہیں ہوگی۔”