ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن�� کتنے عہدیداران اور جید علماء کرام نشانہ بنے۔ کس گناہ پر؟ انہوں نے کون سا گناہ کیا تھا؟
اگر کسی دوسری جماعت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو ہم وہاں بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ لیکن جمعیت علماء اسلام کا گناہ بتا دیجیے؟ علماء کرام کو کیوں شہید کیا جا رہا ہے؟
جو ہمیں قتل کر رہے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ جس ملک کو وہ توڑنا چاہتے ہیں، اسے جمعیت علماء اسلام ٹوٹنے نہیں دیتی۔
ہم پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ ہیں، الیکشن لڑتے ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ دھاندلیاں کرکے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھتی ہے۔
ایک طرف کچھ جاہل قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں، اور دوسری طرف پاکستان کے وفادار ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کے لیے انتخابات میں دھاندلیاں کرتے ہیں۔ ہم کدھر جائیں؟
ہم پر گولیاں برس رہی ہیں،باجوڑ سے لے کر کراچی تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں۔ صرف باجوڑ میں ہم نے ایک ہی اجتماع سے 80 جنازے اٹھائے ہیں۔ وزیرستان کے تمام اضلاع کے امراء دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ مہمند کے علاقے میں جائیں، کرم کے علاقے میں جائیں، وزیرستان کے علاقوں میں جائیں، علماء ہی نشانے پر ہیں، علماء ہی نشانے پر ہیں، علماء ہی نشانے پر کیوں؟
لیکن اگر کو��ی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ان حربوں سے جمعیت علماء اسلام کے پائے استقامت کو متزلزل کر سکیں گے تو یاد رکھیں، ہم نے اپنی تاریخ سے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے، کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا۔
ریاست میری جان، مال، عزت اور آبرو کی ذمہ دار ہے۔ میں ریاست کو اس اجتماع کی وساطت اور آپ کی تائید سے واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مجھے جو بھی قتل کرے، میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا، بلکہ میں اسٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا کراچی میں جلسے سے خطاب
صدر زرداری صاحب احکام شرعیہ کو نہ چھیڑ،
صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب آپ شریعت سے ناواقف ہیں۔
امریکہ کی خوشامد کےلئے پہلے دینی مدارس رجسٹریشن ��ل کو چھیڑا اور اب 18 سال سے کم عمر نکاحِ بل پر دستخط کیا۔
جو مکمل شریعت سے متصادم ہے۔
#غیرشرعی_بل_نامنظور
میں پاکستان کے تمام دینی طبقے، بالخصوص اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ اور وفاق المدارس العربیہ کے تمام زمہ داران اور ان سے منسلک تمام مدارس کے زمہ داران کو مدارسِ دینیہ کا دیرینہ مطالبہ منظور ھونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ھوں۔
اس میں جسطرح حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ نے ھماری ھر قدم پر رھنمائ کی ھم دل کی گہرائیوں سے انکے شکرگزار ھیں۔ یقینی طورپر اس پورے پراسس میں قانونی رھنمائ کے حوالے سے کامران مرتضی صاحب کا کردار بھی ناقابل فراموش ھے۔
اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ،جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اور مسلمانان پاکستان نے صرف مدارس کا مقدمہ ھی نہیں جیتا بلکہ انہوں نےاسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس شدہ اسی بل کو قانون کا درجہ دلوا کر پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی سپریمیسی کی جنگ بھی جیتی ھے جس پر سب مبارکباد کے مستحق ھیں۔
الحمدللہ!!!
قائد انقلاب ملت اسلامیہ جناب مولانا فضل الرحمان صاحب!
اللہ تعالیٰ آپ کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے آمین!!
یقیناً آپ داد کے مستحق ہے!!!
لب یو ڈئر قائد جمعیت!!
مدارس کے دیرینہ مطالبے کی منظوری پر تمام ذمہ داران اور کارکنان کو دل سے مبارکباد.
مفتی تقی عثمانی صاحب اور کامران مرتضی صاحب کا کردار واقعی قابلِ تحسین ہے۔
یہ صرف مدارس کی نہیں بلکہ آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کی جیت ہے۔
#محافظ_مدارس_مولاناسرخرو
کہاں وڑ گیئے ہیں وہ دانشوڑ جو کہہ رہے تھے کہ آئینی ترمیم پاس ہو جانے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور اب حکومت مدارس والے بل پر لفٹ نہیں کروائے گی📢