*1958 سے 1971: فوج
*1971 سے 1977: پی پی پی
*1977 سے 1988: فوج
*1988 سے 1990: پی پی پی
*1990 سے 1993: ن لیگ
*1993 سے 1996: پی پی پی
*1997 سے 1999: ن لیگ
*1999 سے 2008: فوج
*2008 سے 2013: پی پی پی
*2013 سے 2018: ن لیگ
*اور ملک کی بربادی کا ذمہ دار عمران خان ہے*
اگر عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا،تو ہر قیدی یہ سہولت مانگے گا جس سے پورا کریمنل سسٹم متاثر ہوگا۔۔ن لیگی وزاراء
میرےپیارے ن لیگی یہ بھول چکے کہ نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جسے سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں کیلئے آرا�� سکون کیلئےجیل سے گھر بھجوایا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کا 3 ہسپتالوں میں علاج ہوا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کیلئے لاہور،کراچی،اسلام آباد کے ڈاکٹر ایک چھت تلے جمع ہوئے،میڈیکل بورڈ بنا اور علاج ہوا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کیلئے عدالتوں میں فل ڈے سماعتیں ہوئیں،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کی عدالتوں نے عمران حکومت سے زندگی کی گارنٹیاں مانگیں اور نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جسے 50 روپے کے سٹامپ پیپر پر اور بھائی شہبازشریف کی گارنٹی پر جیل سے سیدھا علاج کیلئے لندن بجھوایا گیا،پیارے ن لیگیو جب مجرم نوازشریف کو بھانت بھانت کی سہولتیں مل ��ہی تھیں تب آپ کو باقی قیدی اور کریمنل سسٹم کیوں یاد نہ آئے۔۔
Doctors from around the world are raising serious questions about the assessment of Imran Khan's health issues and demanding access to independent medical professionals for comprehensive examinations and treatment.
#EnoughIsEnoughFreeKhan
کیا اب مولانا کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہو گا یا پھر کوئی مدرسہ کی زمیں کا کیس نیب میں فائل کیا جاے گا؟ NCCIA کا نوٹس نکلے گا یا پھر انکے کسی بھانجے کو فوجی عدالت سے سزا سنائی جاے گی؟
کیا انکی جماعت کو کسی قاضی سے بین کروایا جاے گا یا پھر پھر انکی کابینہ کے لوگوں کی قطار در قطار پریس کانفرنسز ہونگی جس میں وہ مولانا سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟؟
ویسے سوال سارے ہی غور طلب ہیں @OfficialDGISPR
پاکستان کی تاریخ کے پہلے مسنگ پرسن قائدِاعظم تھے۔ زیارت میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا، نہ کوئی علاج ہو رہا تھا۔ قائدِاعظم کو ریاستی امور سے الگ کرکے وہاں نظر بند کر دیا گیا! جاوید ہاشمی۔
بھٹو اور عمران خان کا کوئی موازنہ نہیں۔ بھٹو ایک کمپرومائزڈ انسان تھا، جس کے پاس عمران خان کے مقابلے میں آدھا عوامی مینڈیٹ بھی نہیں تھا۔ عمران خان اس وقت چاروں صوبوں میں عوامی مینڈیٹ رکھتے ہیں۔
یہ لوگ چاہے جو بھی کر لیں، وہ عمران خان کو زیادہ دیر جیل میں نہیں رکھ سکتے۔ ایک مہینہ، دو مہینے، تین مہینے، لیکن آخرکار انہیں عمران خان کو رہا کرنا ہی پڑے گا! جاوید ہاشمی ۔
فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ نے جو سیٹیں پی ٹی آئی سے چھین کر فارم 47 کے ذریعے دی تھی وہ ابھی تک واپس نہیں کی
فضل الرحمن کو عم��ان خان کا مقابلہ کرنے کیلیے لانچ کیا گیا ہے
عوام انکو انقلابی تب مانے گی جب انکے بیٹے نااہل ہونگے ان کے 25 ہزار ورکرز گرفتار ہونگے اور ان پر FiR ہوں گی
عمران ریاض خان
فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خا�� کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ڈٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔
عمران خان مرد کا بچہ ہے۔ وہ بہت بڑا لیڈر ہے۔ وہ مرد کا بچہ ہے جو تین سال سے 22 اور 25 کور کے کمانڈرز کی ط��قت کے سامنے اب بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے۔
۔علی احمد کرد
عوامی سوال
حلف کا انحراف کرنے والوں کو سزا کب ملے گی؟
نازک دور صرف عوام پر ہی کیوں آتا ہے؟
عوام اور ملک کے خیرخواہ رہنماؤں کو غدار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟
عوام کا ووٹ چوری کرنے کا حق کس نے دیا؟
#عوامی_سوال