خاکسار کے لئے لا محدود شفقت اور محبت کے حامل، برادر امجد اسلام امجد کو ذکر محترمہ نورین سلیم جنجوعہ نے چھیڑا۔ سوچا امجد صاحب کو یاد کیا جائے
ان کی نظم آپ کی بصارتوں کی نذر
💐💐💐💐
زندگی کے میلے میں،
خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں،
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے،سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھی کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں!
درد کے سمندر میں
ان گنت جزیرے ہیں،بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجانا تھا
بات اس دیئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خ��وت میں چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے،بات رت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو ؟
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے
ہوسکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں
ان کو کاکروچ مت کہئیے، اس لفظ سے توہین اور کراہت جڑی ہے۔ یہ ہماری اگلی نسل ہے جس نے اس ملک کو سنبھالنا ہے، اس معاشرے کی روایات کو آگے لے کر چلنا ہے۔ اپنی اولاد کو کوئی انسان اتنی کراہت سے مخاطب نہیں کرتا۔ اگر وہ مطمئن نہیں تو انہیں اپنی راہ متعین کرنے دیں۔
قدرت کو اپنے فیصلے کرنے دیں، اس میں ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ آ گئے تو کیا ہو گا۔ ان کے آنے سے جو ہو گا بہتر ہو گا۔
انشا اللہ
💐🙏🦾
@a_jamal_aj@MaidahMuhammad@MaryamNSharif اور ایک ہمارا لیڈر بھی تھا جو ہمیشہ مو��ی والی قمیض پہنتا تھا 😜
نہ اس نے بوٹاکس کے ٹیکے لگوائے نہ بال لگوائے۔ آج کل دنوں خاوند بیوی جیل ہوتے ہیں
🙏
مہاتما نے کہا میرا مذاق اڑانے والوں کو پکڑا جائے۔
پولیس والے ایک میراثی کو پکڑ لائے کہ یہ لطیفے بناتے ہیں۔اس نے پوچھا,
” مجھ پر لطیفے تم بناتے ہو؟“
میراثی بولا,
” معاف کر دیں سرکار! اب نہیں بنائیں گے۔“
حکمران بولا ”تمہیں پتا ہے میں مُلک کا وزیر اعظم ہوں۔“
میراثی بولا”. . . . . .مولا خوش رکھے . . . . . . . سرکار یہ والا لطیفہ ہم نے نہیں بنایا۔“
او مار اوئے ڈپٹی
The building of One Constitutional Avenue should be preserved as monument to tell our coming generations how much we cared for Constitution and the rule of law.
رزق صرف یہی نہیں کہ جیب میں مال ہو، بلکہ آنکھوں کی بینائی بھی رزق ہے۔ دل کا احساس بھی رزق ہے۔ رگوں میں خون بھی رزق ہے۔ یہ زندگی بھی رزق ہے اور سب سے بڑھ کر ایمان بھی رزق ہے۔
واصف علی واصف