Urgent appeal to the caretaker government of Sindh: Lift the ban on teaching recruitment that has been in place since 2021! Let deserving candidates step into classrooms and shape the future.
#RestartPSTJESTProcess
Dear Jazz Support Team,
I am facing a serious internet speed issue on my Jazz 4G connection. Although my phone shows a strong 4G signal, the internet speed is extremely slow and often becomes unusable for browsing, streaming, and other online activities.@jazzpk
پ ٽ الف ضلعي لاڙڪاڻي جي سڏ تي گذريل سورنهن مهينن کان IBA طرفان ڀرتي ٿيل استادن جون پگهارون نه ٿيڻ خلاف پنجين ڏينهن به علامتي بُک هڙتال ڪئي وئي , سائين @sardarshah1 مهرباني ڪري لاڳاپيل آفيسرن کي ڌٻ ڏئي اسان جي ڊيٽابيس ڪليئر ڪرائي پگهارون جاري ڪ��ا وڃن✌
ٹرمپ نے نقاب اتار دیا اور اپنے تمام غلاموں (عربوں) اور چاہنے والوں کو بے نقاب اور رسوا کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ بات کرتا ہے: ایک ایسی صراحت کے ساتھ جو شاید بہت سے لوگ کہنے کی جرأت نہیں رکھتے، اگرچہ اس کے الفاظ بے شرمی، خباثت اور دشمنی سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن اس کی باتوں میں شفافیت کی وجہ سے وہ قابل توجہ بن جاتی ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ ان باتوں میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے ٹرمپ کی براہِ راست گفتگو کا خلاصہ:
میں نے آج فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو سب کچھ بتا دوں کہ دنیا کس سمت جا رہی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جو گزشتہ 400 سالوں میں رونما ہوئی ہیں۔
کیا آپ کو یاد ہے 1717ء کا سال، جب نئی دنیا نے جنم لیا؟
کیا آپ کو یاد ہے کہ پہلا ڈالر 1778ء میں چھاپا گیا تھا؟
اور اس ڈالر کو حکمرانی دلانے کے لیے دنیا کو ایک انقلاب کی ضرورت تھی، جو کہ فرانسیسی انقلاب تھا 1789ء میں۔
اس انقلاب نے سب کچھ بدل دیا۔
دنیا جو پچھلے 5000 سالوں سے مذاہب اور اساطیر کے زیرِ اثر تھی، اس نے ایک نئے عالمی نظام کو جنم دیا جس میں پیسہ اور میڈیا حکمرانی کرتے ہیں۔
ایسی دنیا جس میں نہ خدا کی جگہ ہے، نہ انسانی اقدار کی حیران نہ ہوں! ہم خود اس نئے عالمی نظام کی ایک مثال ہیں۔ ایسا سسٹم جس میں میرے جیسے پیشے (جو انسانی اقدار اور اخلاقیات سے خالی ہیں) ممکن بن جاتے ہیں۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک پہلوان مر جائے، میرے لیے اہم یہ ہے کہ جس پہلوان پر میں نے شرط لگائی ہے وہ جیتے اس کے باوجود، یہی نظام مجھے صدر کے عہدے پر لے آیا — میں جو جوا بازی کے ادارے چلاتا ہوں!
جب اخلاقیا�� معیار نہ رہیں، تو پھر جو چیز دنیا کو چلا رہی ہے وہ صرف مفادات ہیں۔
ہمارا نظام صبر کے ساتھ اور بغیر تھکے کام کرتا رہا، یہاں تک کہ چرچ کی طاقت ختم ہو گئی، دین سیاست سے الگ ہو گیا اور سیکولر ازم عیسائیت سے نمٹنے کے لیے پیدا ہوا۔
جب سلطنت عثمانیہ نام کی چیز ختم ہو گئی، اور ہم نے یہاں تک کہ یہودیت کو بھی اس نظام کا شکار بنایا ہم نے اسے عالمی نظام میں گھسیٹ لیا۔
آج دنیا کی اکثریت یہودیوں سے نفرت کرتی ہے، اسی لیے ہم نے یہودیت کے تحفظ کے لیے قانون بنایا ورنہ دنیا میں ہر جگہ یہودی مارے جاتے۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نئے عالمی نظام میں مذاہب کی کوئی جگہ نہیں آپ آج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر انتشار اور افرا تفری دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک نئی پیدائش ہے، ایسی پیدائش جس کی قیمت بے شمار خون ہے۔
ہم، اس عالمی نظام کے حصے کے طور پر، اس صورتحال سے پریشان نہی��، کیونکہ ہم میں اب کوئی جذبات اور احساسات باقی نہیں۔
ہمارا عمل ایک مشین کی طرح ہو چکا ہے۔
مثلاً: ہم بے شمار عربوں اور مسلمانوں کو مارتے ہیں، ان کا پیسہ لیتے ہیں، ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ان کے وسائل ضبط کرتے ہیں۔
شاید کوئی کہے یہ قوانین کی خلاف ورزی ہے،
لیکن ہمارا جواب سادہ ہے:
جو کچھ ہم عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ اس سے کہیں کم ہے جو وہ خود ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔
وہ خائن اور احمق ہیں
دنیا عرب میں ایک افواہ ہے کہ امریکہ اربوں ڈالر اسرائیل کو دیتا ہے،
لیکن یہ جھوٹ ہے!
یہ عرب ہیں جو امریکہ کو اربوں ڈالر دیتے ہیں،
اور امریکہ وہ پیسہ اسرائیل کو دیتا ہے۔
عرب احمق ہیں،
کیونکہ وہ قبائلی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں،
حالانکہ ان کی زبان ایک ہے اور اکثریت ایک ہی مذہب کی پیروی کرتی ہے۔
لہٰذا، منطقی طور پر یہ قومیں زندہ رہنے کے قابل نہیں ایران کے بارے میں، ہم اس سے اس لیے جنگ نہیں کر رہے کہ اس نے ہم پر حملہ کیا ہو،
بلکہ ہم خود اسے تباہ کرنے اور اس کا نظام بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم نے یہ کام کئی ملکوں کے ساتھ کیا ہے۔
اگر آپ دنیا کی سب سے طاقتور ریاست بنے رہنا چاہتے ہیں،
تو آپ کو دوسروں کو کمزور کرنا پڑے گا۔
ہم اب "جمہوریت" جیسے بہانوں کے پیچھے نہیں چھپتے۔
آج امریکہ دنیا کا پولیس مین نہیں رہا، بلکہ ایک کمپنی ہے۔
کمپنیاں بیچتی اور خریدتی ہیں اور جس سے زیادہ ف��ئدہ ہو، اسی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔
اور جب تک تعمیر کرنا ہے، تباہ کرنا پڑے گا —
اور تباہی کے لیے دنیا عرب سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔
براہ کرم اس اعتراف نامے کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں
شاید کچھ لوگ ٹرمپ کے ان اعترافات کو پڑھ کر اپنی گہری نیند سے جاگ جائیں۔
Israel will attack
Global Sumud Flotilla
most probably' Today. Flotilla is around 150 Nautical Miles from Gaza' now.
If there are a few human left on Earth' it's time to reach out for 'not help' ... justice
ایک انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ پاکستان کی مایہ ناز ٹیکسٹائل مل، گل احمد نے ایکسپورٹ اپیرل سیگمنٹ کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے
گل احمد کئی عشروں سے ٹیکسٹائل مصنوعات ایکسپورٹ کررہی تھی۔ اس کا یہ اعلان کرنا ایک افسوسناک خبر ہے۔ میں چونکہ اسٹاک مارکیٹ سے لنک اپ رہتا ہوں تو آج یہ خبر اس کے شئیرز پر بھی کافی منفی اثر ڈالا ہے
گل احمد نے اس بندش کی وجہ بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کو قرار دیا ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ پاکستانی بزنس مین انٹرنیشنل مارکیٹ میں مقابلے سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ گل احمد نے اس بندش کے لیے حکومتی پالیسیوں کو بھی ذمہ دار قرار دیا ہے جن میں بجلی اور خام مال دونوں کا مہنگا ہوجانا شامل ہے
صرف ایک بجلی کے مہنگے ہونے پر اس ملک کی معشیت پر جو بد اثرات پڑے ہیں، ان کا شمار مشکل ہے۔
کسی بزنس مین سے پوچھیے کہ وہ کس عذاب کا شکار ہے۔
پاکستان کا فوکس بزنس، مینوفیکچرنگ، اکنامکس ریفارمز سرے سے ہے ہی نہیں۔ چونکہ ہماری ساری خارجہ پالیسی سیکیوریٹی اسٹیٹ بنے رہنے کے گرد گھومتی ہے، لہذا باقی ہر شعبے کو کھڈے لائن لگادیا گیا ہے۔
یقین جانیں کہ جسے آپ کامیاب خارجہ پالیسی سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت عوام کے گلے کا پھندا ہے۔ آپ ک�� معشیت مسلسل تباہ و برباد ہوتی چلی جارہی ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اکنامک ماڈل ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔
اس ریاست سے بزنس، تعلیم، امن و آمان اور قانون کی عملداری مانگیے۔ اس خونی خارجہ پالیسی میں مقتدرہ کے لیے بے انتہا مواقع ہوں گے پر آپ عوام کے لیے تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں رکھا
منقول
#موناسکندر