Heartiest congratulations to Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and Field Marshal Syed Asim Munir on successfully facilitating the historic Islamabad Memorandum of Understanding between the United States and Iran.
The #IslamabadMoU has averted a potentially devastating conflict, reopened vital regional trade routes, and reaffirmed the power of diplomacy over confrontation.
Pakistan did not merely host the dialogue—it helped lead a path to peace through wisdom, neutrality, and constructive engagement.
This landmark achievement is a proud moment for Pakistan and a testament to the leadership, vision, and statesmanship of Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir.
@CMShehbaz@OfficialDGISPR
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
#PeaceFromPakistan #PakistanZindabad
لاہور ایکسپو سینٹر میں منعقدہ "پاکستان کیمیکل ایکسپو 2026" میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت اور خطاب کا موقع ملا۔
کیمیکل انڈسٹری دراصل دنیا بھر میں ’’تمام صنعتوں کی ماں‘‘ کہلاتی ہے— چاہے وہ زراعت ہو، ٹیکسٹائل، ادویات یا تعمیرات؛ ہر شعبے کی بنیاد اسی صنعت پر استوار ہے۔ اگر فولاد صنعتی ترقی کا ڈھانچہ ہے تو کیمیکل صنعت اس کے جسم میں دوڑنے والا خون ہے۔
آج عالمی کیمیکل صنعت کا حجم 6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ چین، جرمنی اور سنگاپور جیسے ممالک نے اپنی معاشی ترقی کی بنیاد اسی شعبے پر رکھی۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا خام مال درآمد کرتا ہے، جبکہ یہ تمام مواقع مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور روزگار پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
اگر ہمیں 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنا ہے، تو ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات، گرین کیمسٹری، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان کی ترقی کی نئی داستان اب کھپت پر نہیں بلکہ پیداوار پر، اور قرضوں پر نہیں بلکہ جدت، سرمایہ کاری اور برآمدات پر لکھی جائے گی۔
اس موقع پر میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ بیانیوں اور ذہنوں کے میدان میں لڑی جاتی ہیں۔ دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار قوم کے اعتماد اور امید کو توڑنا ہے۔ ہمیں مایوسی کے ہر بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور "پاکستانیت" کے جذبے پر پختہ یقین رکھنا ہوگا۔
آئیے مل کر پاکستان کو تحقیق، صنعت اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے اپنا اجتماعی کردار ادا کریں۔
#AhsanIqbal #PakistanChemicalExpo2026 #ExportLedGrowth #UdaanPakistan #IndustrialInnovation #PakistanZindabad
جب ترقیاتی بجٹ (PSDP) اتنا کم ہو، تو ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ترقیاتی بجٹ سکڑ چکا ہے، لیکن محدود وسائل کے دور میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ سرمائے کو صرف انتہائی اہم اور کلیدی منصوبوں پر لگایا جائے۔
1126 ارب روپے کے موجودہ پی ایس ڈی پی (PSDP) میں سے غیر اہم منصوبوں کو بڑی حد تک خارج کر دیا گیا ہے، اور وہ منصوبے جو صوبائی نوعیت کے تھے انہیں صوبوں کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ اب ان کے پاس زیادہ فنڈز موجود ہیں۔ اب اس ترقیاتی بجٹ کا پورا رخ صرف اعلیٰ ترین ترجیحی منصوبوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ کم وسائل کے باوجود ملک کو درست سمت میں آگے بڑھایا جا سکے۔
#AskTheMinister #EconomicGrowth #PSDP #UraanPakistan
آپ نے برآمدات (Exports) کی بات کی ہے، حکومت اس سلسلے میں عملی طور پر کیا اقدامات کر رہی ہے؟
حکومت بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے خصوصی مراعات اور پیکیج لا رہی ہے تاکہ ان کے انتظامی مسائل ختم کیے جا سکیں۔
لیکن بنیادی طور پر ہمیں بطور قوم اپنی سوچ بدلنی ہوگی؛ بزنس مین صرف ملکی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی منڈیوں کا رخ کریں اور 'میڈ ان پاکستان' کو ایک عالمی برانڈ بنائیں۔
اس مقصد کے لیے حکومت ہر ضلع کی سطح پر ایک 'ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ پلان' تیار کر رہی ہے، کیونکہ پاکستان کے ہر ضلع میں زرعی مصنوعات، ہینڈی کرافٹس یا صنعتی اشیاء کا ایسا پورٹ فولیو موجود ہے جسے پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ کے ذریعے ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
#AskTheMinister #ExportLedGrowth #MadeInPakistan #ValueAddition #EconomicRevival #URAANPakistan
I am glad to share the Report of the “Committee to Review and Formulate ICT Governance Model” constituted by Hon’ble Prime Minister @CMShehbaz. The report envisages a Capital that is democratic, efficient, environmentally sustainable, technologically advanced and responsive to the aspirations of its Citizens.
As the Chairman of the Committee, I am grateful to the Members of the Committee for their time and efforts on this important task as well as the technical team at the Planning Commission for putting this document together.
On the directions of the Prime Minister, we are now sharing this report for public feedback and obtaining suggestions on further refinement. Please use the link below to download the report and use the feedback form to provide you input. Together, we can ensure that Islamabad stands as an example of transformative governance for the entire nation.
https://t.co/dDdcTX57yo
پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بڑے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے، لیکن اس کے لیے درکار وسائل ہمارے کل ترقیاتی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اگر ہم ملک کا پورا بجٹ بھی اٹھا کر صرف دیامر بھاشا اور داسو جیسے ڈیموں پر لگا دیں، تب بھی ان کی ضرورت پوری نہیں ہوگی اور باقی تمام وزارتوں کے کام ٹھپ ہو جائیں گے۔
دوسری طرف، ہم ان منصوبوں کو روک بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ ہماری پانی کی بقا کا معاملہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور پڑوسی ملک کی طرف سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرات کے پیشِ نظر، ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ہر حال میں بڑھانا ہوگا۔ یہ ہم سب کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ روایتی بجٹ سے ہٹ کر ان بڑے قومی منصوبوں کو وقت پر پورا کرنے کے لیے وسائل کہاں سے لائے جائیں۔
#APCC2026 #ExportLedGrowth #Budget2026 #HumanDevelopment #PakistanEconomy #UraanPakistan
عام رائے یہ ہے کہ وزارتِ منصوبہ بندی فنڈز روک لیتی ہے، لیکن ہماری اصل مجبوری کوئی نہیں دیکھتا۔ مثال کے طور پر، صرف نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے اس سال ہم سے چودہ سو چالیس (1440) ارب روپے مانگے ہیں۔
اب حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ملک کا پورا ترقیاتی بجٹ بھی اٹھا کر صرف سڑکوں کو دے دیں، تب بھی ان کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔ اسی کٹھن صورتحال کی وجہ سے ہمیں مجبوراً سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
#APCC2026 #ExportLedGrowth #Budget2026 #HumanDevelopment #PakistanEconomy #UraanPakistan
آج ہمارے پاس نئے منصوبوں کے لیے بالکل جگہ نہیں ہے، اور کسی بھی قوم کے لیے یہ کوئی خوش آئند صورتحال نہیں ہوتی۔
اس محدود فنڈنگ میں ترقیاتی بجٹ (PSDP) کو فائدہ مند بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے اپنے تمام وسائل ان ہائی امپیکٹ پراجیکٹس پر لگائیں گے جو آخری مراحل میں ہیں اور مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ باقی منصوبوں کو کچھ وقت کے لیے پیچھے روکنا ہوگا تاکہ جو پیسہ بھی لگے، اس کا ملک کو فوری اور بھرپور فائدہ مل سکے۔
#APCC2026 #ExportLedGrowth #Budget2026 #HumanDevelopment #PakistanEconomy #UraanPakistan
سالانہ پلان رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں مالی سال 27-2026 کے سالانہ ترقیاتی منصوبے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
عزت دار قومیں ادھار پر اپنا مستقبل نہیں بناتیں بلکہ پیداواری صلاحیت، مسابقت اور خودانحصاری سے آگے بڑھتی ہیں۔ آج پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ اور ماضی کے معاشی جھٹکوں کی وجہ سے ہمارا ترقیاتی بجٹ شدید سکڑ چکا ہے۔
2017-18 میں جو PSDP قومی بجٹ کا 19.6% تھا، وہ اب گر کر محض 4% رہ گیا ہے۔ ہمیں اب بقا کی جنگ سے نکل کر پائیدار معاشی خودمختاری کی طرف بڑھنا ہوگا، اور اس کا واحد راستہ برآمدات (Exports) ہیں۔ برآمدات ہی معاشی خودمختاری کی اصل کلید ہیں۔
محدود مالیاتی گنجائش کے باوجود، ہمارا وژن اور ترجیحات بالکل واضح ہیں - ترقیاتی بجٹ 27-2026 کی اہم سفارشات اور ترجیحات:
قومی ترقیاتی آؤٹ لے: کمیٹی نے مجموعی طور پر 4,715 ارب روپے کے قومی ترقیاتی فنڈ کی سفارش کی ہے، جس میں 1,126 ارب روپے** کا وفاقی PSDP شامل ہے۔
جاری منصوبوں پر فوکس: دستیاب وسائل کا 98 فیصد سے زائد حصہ پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ پانی، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی ڈھانچے کے اہم ترین منصوبے (جیسے ML-I، دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم) جلد مکمل ہو سکیں۔
بلوچستان اور پسماندہ علاقوں کی ترقی: بلوچستان، گوادر، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کو تحفظ دیا گیا ہے۔ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل N-25 پاکستان ایکسپریس وے کے لیے 125 ارب روپے جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے لیے 153 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
اتحادی جماعتوں کے منصوبے: پائیدار ترقی کے لیے 87 ارب روپے تجویز۔
📈 معاشی استحکام کے مثبت اشارے:
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی سخت معاشی اصلاحات کے ثمرات اب واضح طور پر ظاہر ہو رہے ہیں:
✅ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر کی مستحکم ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
✅ کاروباری برادری کے لیے بڑی خوشخبری؛ پالیسی ریٹ 23 فیصد سے تاریخی کمی کے ساتھ 10 فیصد پر آ گیا ہے۔
آئی ایم ایف (IMF) کا پروگرام ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے سے نکالنے کے لیے ایک تلخ لیکن ضروری "معاشی تھراپی" ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بحالی سے آگے نکل کر معاشی اڑان (Take-off) کی طرف بڑھیں۔ ہم وزارتِ منصوبہ بندی میں 'Uraan Pakistan' اور '5Es Framework' کے تحت ملک کو ایکسپورٹ ایمرجنسی کی بنیاد پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ان شاء اللہ، ہم مل کر پاکستان کو معاشی طور پر ایک مضبوط، باوقار اور خودکفیل ملک بنائیں گے۔
#AhsanIqbal #PakistanProgress #PSDP2026 #ExportLedGrowth #SelfReliance #EconomicStability #MovingForward
ندیم بھائی میں آپ کو یا یہاں موجود کسی بھی امیر شخص کو، جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے غریب لوگ سست ہیں اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہیں، چیلنج کرتا ہوں کہ ایک رات بغیر ائیر کنڈیشنر کے گزار کر دکھائیں۔ صرف ایک رات۔
ہمارے غریب بھائی اور بہنیں، ہماری ہی طرح انسان ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وہ غریب ہیں، انتہائی سخت زندگی گزارتے ہیں جہاں کھانا بھی ایک عیاشی بن جاتا ہے اور علاج معالجہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔
جب غریب لوگ اپنے گاؤں واپس جاتے ہیں تو وہ فصل کی کٹائی یا بوائی میں اپنے خاندان کی مدد کرتے ہیں، پچھلی بارشوں میں گری ہوئی دیواریں اور چھتیں دوبارہ تعمیر کرتے ہیں، بقرہ عید کے دوران جانور ذبح کرنے کاُکام کرتے ہیں، اور ہاں، وہ اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ وقت بھی گزارتے ہیں۔ کیا یہ بری بات ہے؟ کیا ہم سب ایسا نہیں کرتے؟
Deeply saddened by the tragic loss of life in the coal mine explosion in China.
My heartfelt condolences to the families of the victims and wishes for a swift recovery to the injured.
Pakistan stands with our Chinese friends in this difficult hour.
#ChinaMineExplosion
https://t.co/OEysOCyLOF
Today marks 40 years since I graduated from The Wharton School with MBA on 19th May 1986, a milestone that fills me with gratitude, reflection, and humility.
My journey at Wharton was not an easy one. It was a period of intense struggle, hard work, and perseverance. I carried a full academic course load while also working weekends at the library and managing two teaching assistantships to support my studies and living expenses. There were moments when the pressure felt nerve-breaking. Yet, keeping my eyes fixed on the end goal gave me the strength, energy, and resolve to carry on.
That experience taught me one of life’s most enduring lessons: great achievements are rarely born out of comfort. They are shaped through sacrifice, discipline, resilience, and clarity of purpose.
Wharton was far more than an academic institution for me. It broadened my intellectual horizons, sharpened my analytical thinking, and instilled in me the values of leadership, excellence, strategic thinking, and service.
The exposure to global ideas and world-class scholarship deeply influenced my professional and public journey. Over the decades whether contributing to national development strategies, economic reforms, educational initiatives, or public service as a Parliamentarian and a Federal Minister, I have continuously drawn upon the lessons and perspectives shaped during those formative years.
As I reflect on this 40-year milestone, I remain deeply grateful to my teachers, mentors, colleagues, friends, and family whose support made the journey possible.
Most importantly, this experience reinforced my belief that education has the power not only to transform individual lives, but also to change the destiny of nations.
Forty years later, the journey of learning still continues. @WhartonAlumni@Wharton
Is it fine to talk to an on duty female doctor this way? Whatever the complain is and whoever you’re is this the right way ????
@MaryamNSharif is this acceptable ?
I can't digest his audacity to have a cameraman follow him while he is doing this clownery - For God Sake stop this @MaryamNSharif Sahiba-Curtail this abuse in the name of governance - it's people's politics at the end that create your social legitimacy - and people are not happy
If this AC is left without any accountability after publicly humiliating a doctor on duty, it will set a dangerous precedent.
No officer, no matter how powerful, should be allowed to misuse authority and disrespect healthcare professionals performing their responsibilities.
Looks like the AC’s PR team is working harder than the administration itself. Local Facebook pages and Burewala media suddenly becoming very active in his defense won’t change the actual facts.
Public sympathy is earned through conduct
These bureaucrats who struggle with color coordination of their clothes all their lives feel entitled enough to treat the doctors in such fashion- I hope dat CM @MaryamNSharif will take note & put a stop to this clownery otherwise in name of gov she will lose real pub servants
Who gave these bureaucrats the authority to violate hospital privacy and patient confidentiality for a random TikTok post? @MaryamNSharif, please look at his mic and take notice of this behavior. Doctors deserve respect too.
#WeCondemnACBurewala
Public health within public administration is a specialized area requiring appropriate education - I remember during the tenure of @NawazSharifMNS, immense attention & respect was extended to public health leading to estab of advanced healthcare facilities across Punjab
Dude came well equipped with mic and cameras, content creation seems like his main passion. For many CCS is their golden ticket to land of unaccountable power. Colonial system remnants are another reason of the rot in society
Unfortunate to see civil service reduced to such tiktokers - with a Mike on your blazer trying to undermine one of the most educated lot in the country - utterly disgusting!
Put a stop to them before the erode whatever is left of public health infrastructure
@MaryamNSharif
A clear case of workplace harassment.The conduct of the AC is creating a hostile and intimidating environment for the female doctor.She has the right to file a complaint with provincial Women Ombudsperson under the Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010