“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
@somethingcult
$SOMETH Yapping Campaign
10% of $SOMETH supply will reward yappers
How to join:
1️⃣ Keep yapping about $SOMETH & Tag us
2️⃣ RT + ❤️ this tweet
A like or RT from us = Your yap is counted
The louder you yap, the bigger your bag
Ends: Sep 12th, 10AM UTC
$SOMETH Yapping Campaign
10% of $SOMETH supply will reward yappers
How to join:
1️⃣ Keep yapping about $SOMETH & Tag us
2️⃣ RT + ❤️ this tweet
A like or RT from us = Your yap is counted
The louder you yap, the bigger your bag
Ends: Sep 12th, 10AM UTC
If anyone had any doubt of who is behind the shameful attack on Aleema Khan, this video will clear them all.
IG Punjab, under the illegal regime of Asim Munir and the illegal government of Maryam Nawaz, has transformed the police into a private militia, a force not for protecting the people, but for silencing political opponents, targeting women, and crushing dissent.
What we are witnessing is political victimization at its worst under Asim law.
علیمہ خان پر خواتین کے ذریعے چھپ کر اٹیک کیا اور پھر پولیس نے ان دو خواتین کو ریسکیو کرکے وہاں سے بھگایا ،دو اور ٹاؤٹ صحافی بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے دو خواتین کے حملہ کے بعد تاک لگائی ہوئی تھی کہ اب وہ کوئی ایسی حرکت کر کے حراساں کریں گے ،علیمہ آپا نے عمران خان کا پورا پیغام بھی دیا اور ہم ساتھ موجود رہے اور اب وہ گھر روانہ ہیں ،گاڑی تک پہنچنے تک ٹاؤٹوں کے وار کا خدشہ تھا لیکن ہم نے انہیں دونوں سائیڈوں سے پروٹیکٹ کر کے گاڑی میں بیٹھایا ،یہ ایک اچانک حملہ تھا جو چھپ کے کیا گیا ،اور پھر خواتین کے ذریعے کیا گیا ،جن لوگوں کو دنیا میں جوتیاں پڑی آج وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور عورتوں پر چھپ کے وار کرواتے ہیں ،