سات ستمبر کو یومِ فتح سے قبل ہم چھ ستمبر کو یومِ دفاع بھی مناتے ہیں،تس��سل کے ساتھ پاکستان ایک دن چھ ستمبر اور اگلے روز سات ستمبر کا دن مناتا ہے۔
چھ ستمبر 1965 کو جب سیالکوٹ اور لاہور کی سرحدات پر انڈیا کی فوجوں نے حملہ کیا اور ہماری افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کو پسپا کیا،وہ بھی تاریخی دن تھا۔
چھ ستمبر پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور سات ستمبر 1974 کا واقعہ پاکستان کی نظریاتی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تو یہ سمجھ دینا چاہیے کہ جہاں پاکستان کو جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ضرورت ہے، وہاں پاکستان کو نظریاتی حدود کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے، اور یہ دونوں مل کر ہمیں جاننے چاہیے۔
پاکستان کے ع��ام پاکستان اور اسلام سے محبت کرتے ہیں، البتہ دونوں حوالوں سے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے نظریات کے حوالے سے بھی، پاکستان کا عوام اس وقت عدمِ تحفظ کے احساس سے وابستہ ہے۔
ہمیں ایک مضبوط پاکستان چاہیے اور ہمیں ایک اسلامی عادلانہ مملکت چاہیے، ایک ایسا نظامِ عدل جو انسانی حقوق کا محافظ ہے، جو قیامِ امن کا ضامن ہو، جو خوشحال معیشت کی ضمانت دیتا ہو۔
مولانا عبدالقیوم ہالیجوی اور مولانا راشد محمود سومرو کی قیادت میں جےیوآئی سندھ کی تنظیمی سرگرمیاں مختلف اضلاع میں جاری ہیں، جبکہ سکھر اجتماع آئندہ سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
#جےیوآئی_سندھ_کی_آواز#امن_عالم_اجتماع_سکھر#سندھ_راشدسومرو_کے_سنگ
7 ستمبر 1974؛ تاریخ کا ایک اہم باببن چکا ہے ۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 7 ستمبر 1974 کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختمِ نبوت سے متعلق آئینی مؤقف واضح کیا گیا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا اہم سنگِ میل بن گیا۔
مولانا مفتی محمودؒ؛ ایوان میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی توانا آواز تھے
1974 کی پارلیمانی کارروائی میں مولانا مفتی محمودؒ سمیت مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے ختمِ نبوت کے مسئلے پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ یہ بحث کئی ہفتوں تک پارلیمانی سطح پر جاری رہی۔
الحمدللہ
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا
جےیوآئی سندھ کے قائد علامہ راشد سومرو اور CMخیبرپخونخواہ سھیل آفریدی کی عمرکوٹ میں ملاقات، ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتح��ل پر تبادلہ خیال!
@SoomroOfficial
@sohailafridi_
#TeamJUISindh
Former Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi said, “The laws passed in the Assembly are made for the convenience of rulers, not for the people. Even if a thousand provinces are created, the country will not run.”
#TOKReports#ShahidKhaqanAbbasi