قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی سیاسی جدوجہد کا جواب دلیل سے دیا جائے، کردارکشی سے نہیں۔ نظریات کا مقابلہ نظریات سے ہوتا ہے، منظم تضحیک سے نہیں۔ جمعیت کے کارکنان کا عزم واضح ہے: آئین کی بالادستی، جمہوریت کا تحفظ اور سیاسی انتقام کے خلاف پُرامن جدوجہد!
#آمروں_کے_غلام_حکمران
#مقتدرہ_کے_سیاہ_چیلے
#سرخی_پاوڈر_برگیڈ
#ناکام_ریاستی_پروپیگنڈہ
#معدنیات_فروش
اس دہشت گردی کے ماحول میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران جمعیت علماء اسلام کے تقریباً ڈھائی سو علماء اور کارکن شہید ہوئے ہیں۔اس طرح کا بیانیہ دینا کسی جماعت کی ملک، ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے، ے کہ وہ اپنے ہی ملک کے وفادار لوگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑائے؟
ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے، بلکہ ہم ان کی پالیسیوں پر بات کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اصلاح کی نیت سے حکومت کے کسی فیصلے پر تنقید کرے اور پوچھے کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔
اگر انہیں ایسی گفتگو پسند نہیں تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے ملک کے اندر ایک بحث چھڑ جائے اور اپنے ہی جوانوں اور اداروں کی قربانیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے۔
میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ہم جائزہ لیں کہ ملک کہاں کھڑا ہے، ہمیں ان تمام محاذوں اور چیلنجز میں کامیابیاں کیوں نہیں مل رہیں، اور ہم جتنی زیادہ دوائیں استعمال کرتے ہیں، مرض اتنا ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
ان چیزوں کو غلط زاویے سے پیش کرنا بدنیتی ہے۔ میرے خیال میں حکومت اور ریاست ایک ذمہ دار ادارہ ہیں۔ انہیں اس طرح اپنے ملک کے شہریوں اور سیاست دانوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
افغانستان کے ساتھ لڑائی پوری مغربی سرحد بند ہو گئی، تجارت بند ہو گئی، لوگوں کے روزگار اور کاروبار تباہ ہو گئے، چین ہمارے اوپر اعتماد ختم کر چکا ہے، اور میں کہتا ہوں اگرچہ ابھی تک آن ریکارڈ کوئی بات نہیں ہے، باضابطہ پر کوئی بات نہیں ہے لیکن تم نے جو ایمرجنسی لگائی ہے فاٹا کے علاقوں پر یہ وہاں کے معدنی ذخائر پر قبضہ ہے اور صرف قبضہ ہی نہیں امریکیوں کے ساتھ جو تم نے سودے کئے ہیں اور جس طرح ہماری سر زمین پر ہمارے وسائل کا مالک تم امریکہ کو بنا رہے ہو اور ان کے سرمایہ کاری کے لیے راستے کھول رہے ہو اور اس کے بدلے میں اگر کچھ سکے آپ کو مل جائیں اور آپ اکتفا کرنے کی طرف جا رہے ہو، یاد رکھو! یہ سیاست اب ہمیں قبول نہیں ہے اور چین اور روس کو اس پر تحفظات ہیں، خطے میں آپ باہر کی قوتوں کو لا رہے ہیں میں کہتا ہوں ملٹی نیشنل کمپنی آتی ہیں، امریکہ میں بھی جاتی ہیں، یورپ میں بھی جاتی ہیں، چائنا میں بھی جاتی ہیں، روس میں بھی جاتی ہیں، سرمایہ کاری کرتی رہتی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے لوگ آ رہے ہیں اور پاکستان سے سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر لے جا رہے ہیں؟ سرمایہ کاری کے لیے سب دنیا دو تین چیزوں کو دیکھتی ہے سب سے پہلی بات یہ کہ جہاں کوئی امن ہو، سیکیورٹی ہو، تو وہاں پر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ نمبر دو یہ کہ وہاں پر معاہدات اور معاملات میں شفافیت ہو تو وہاں جا کر وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور تیسری بات ہے کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو وہاں پر لوگ جا کر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان تین حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنے آپ سے خود سوال کریں کہ ان تین باتوں کے ہوتے ہوئے افغانستان میں کیوں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور پاکستان میں کیوں نہیں ہو رہی؟ اور ہمارا اپنا پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر کیوں لے جارہا ہے؟ ان کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا آپ لوگوں نے اور ناز کیا جا رہا ہے کہ ہم ملک کو بچا رہے ہیں
2013 میں کے پی حکومت کی راہ کس نے روکی؟ حکومت آپ نے بنوائی اور متھے مولانا فضل الرحمن کے مار رہے ہیں ۔ پرویز خٹک سے محمود خان تک، سب آپ کے بنائے ہوئے، جلسے میں باجوہ کا نام کس نے لیا ؟ مریم نواز کے بیانات بھی ریکارڈ پر لائے جائیں
#آمروں_کے_غلام_حکمران#مقتدرہ_کے_سیاہ_چیلے
#سرخی_پاوڈر_برگیڈ
#ناکام_ریاستی_پروپیگنڈہ
#معدنیات_فروش
جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کی سیاسی تربیت، استقامت اور نظریاتی وابستگی ہی ان کی اصل قوت ہے۔ سوشل میڈیا پر کردارکشی کا جواب گالی سے نہیں، دلیل، حقائق اور منظم عوامی مؤقف سے دیا جائے گا۔ قائد جمعیت کی عزت و حرمت کے دفاع کے لیے ہر کارکن اپنا آئینی اور پُرامن کردار ادا کرے۔
#آمروں_کے_غلام_حکمران
#مقتدرہ_کے_سیاہ_چیلے
#سرخی_پاوڈر_برگیڈ
#ناکام_ریاستی_پروپیگنڈہ
#معدنیات_فروش
جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اقتدار میں آنے والوں سے سوال تو بنتا ہے کہ عوامی حاکمیت کہاں ہے؟ فیصلے عوام کریں گے یا بند کمروں میں طے ہونے والے معاملات مسلط کیے جاتے رہیں گے؟ پروپیگنڈے سے حقیقت نہیں بدلتی اور عوام کے سوالات دبائے نہیں جا سکتے۔
#آمروں_کے_غلام_حکمران
#مقتدرہ_کے_سیاہ_چیلے
#سرخی_پاوڈر_برگیڈ
#ناکام_ریاستی_پروپیگنڈہ
#معدنیات_فروش