وفا میں آزمائش اک عجب دستورِ الفت ہے
اسے کھو کر بھی زندہ ہیں یہ کیسی خوئے چاہت ہے
عجب آشوب برپا سا ہے وحشت کے مکانوں میں
نسیمِ صبح روتی ہے، عجب رنگِ قیامت ہے
سکوتِ شب میں کرتے ہیں ترے ہی نام کی تسبیح
نگاہِ شوق میں رہتی تری خامش عنایت ہے
ایمن ساغر
وفا میں آزمائش اک عجب دستورِ الفت ہے
اسے کھو کر بھی زندہ ہوں یہ کیسی خوئے چاہت ہے
عجب آشوب برپا سا ہے وحشت کے مکانوں میں
نسیمِ صبح روتی ہے، عجب رنگِ قیامت ہے
سکوتِ شب میں کرتے ہیں ترے ہی نام کی تسبیح
نگاہِ شوق میں رہتی تری خامش عنایت ہے
ایمن ساغر
وفا میں آزمائش اک عجب دستورِ الفت ہے
اسے کھو کر بھی زندہ ہوں یہ کیسی خوئے چاہت ہے
عجب آشوب برپا سا ہے وحشت کے مکانوں میں
نسیمِ صبح روتی ہے، عجب رنگِ قیامت ہے
ایمن ساغر
عشق اس سے حلال ہے اے دل
وہ سراپا جمال ہے اے دل
نقص مجھ میں نکالتے ہیں سب
تیرا بچنا کمال ہے اے دل
دکھ چھپاتا رہا ہوں برسوں تک
اب اسی کا ملال ہے اے دل
اس کے رخ کی چمک کے آگے تو
چاند کو بھی زوال ہے اے دل
اپنے اندر جواب میں ڈھونڈوں
خود سے کیسا سوال ہے اے دل
ایمن ساغر
مری ذات رند ملنگی ہو ۔ مرے دل میں شیر خدا رہے
یہ ملنگی رنگ یہ بے خودی یہ ہی نور مجھ میں رچا رہے
مری فکر حق کی امیں بنے مجھے ہو عطاۓ کلامِ
حق
مری غزلوں نظموں میں ہو علیؑ تو یہ فن ایمن کی جزا رہے
ایمن ساغ