آج خیبرپختونخوا کی عوام مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بھائیوں کے ساتھ صرف خیبرپختونخوا بچانے نکلی ہیں اگر دہشت گردی کو مٹانا ہے خیبرپختونخوا کو بچانا ہے تبدلی سرکار کو گھر بھجوانا ہے ۔
لکھ کردے رہا ہوں ان کا باپ بھی ایمرجنسی اور گورنر راج نہیں لگاسکتا،یہ ردعمل کے ڈر سے ایمرجنسی نہیں لگائیں گے،شفیع جان کا چیلنج سنجیدہ لیکر ایمرجنسی لگادی گئی
خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ ک�� حق میں بنوں میں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئی اور پاک فوج زندہ باد پاکستان زندہ باد کے نعروں سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لینے کا فیصلہ حکومت سے خود پی ٹی آئی نے کروایا ہے۔
صوبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مسلسل غیر سنجیدہ رویے نے اس اقدام کو ناگزیر بنا دیا تھا۔
سہیل آفریدی صاحب کہتے ہیں کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے، یعنی وزیراعلیٰ صاحب دہشت گردی پر قابو پانے کے بجائے خود تشدد کی دھ��کیاں دے رہے ہیں-
عوامی عہدے پر بیٹھ کر ایسے بیانات دینا معمولی بات نہیں۔ امن و امان کی صورتحال اور ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیشِ نظر سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا جانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
اپ ڈیٹ ‼️‼️‼️
سابق وزیراعلی سہیل آفریدی کو حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے۔ باقاعدہ گرفتاری نہیں ہوئی۔ MPO کے تحت صرف حفاظتی حراست میں ہیں۔ یہ حراست بھی "فرمائشی" ہے۔ کیونکہ لانگ مارچ کو اب ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مزید جاری نہیں رکھنا چاہتے۔ کارکنان کو نکالنے میں ناکامی کے بعد اب سامنا کرنا مشکل ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھی 10 لوگ بھی KP میں کہیں بھی پی ٹی آئی کی سپورٹ میں نہیں نکلے۔
حیران کن ہے ! 25کروڑ کی سب سے مقبول ترین جماعت ۔۔۔ خیبرپختونخوا کی 14سال سے بلاشرکت غیرے حکمران جماعت ۔۔۔ ایمرجنسی لگ گئی، حکومت ختم ہو گئی، مگر کےپی میں ایک بندہ تک نہیں نکلا ۔۔۔ پنجاب میں کوئی نہیں نکلا ۔۔۔ سندھ بلوچستان میں ایک بھی پی ٹی آئی کا حمایتی نہیں نکلا ۔۔۔ نہ GB میں، نہ میرے کشمیر میں ۔۔۔۔ یہ تو مقبول ترین جماعت تھی۔۔۔ حیران کن ہے بھئی !
ختم شد ۔۔۔
اہم اطلا�� برائے حلقہ PK-79 پشاور
حلقہ PK-79 پشاور کے تمام معزز ساتھیوں اور کارکنان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آج بوقت 4 بجے سہ پہر جناب جلال خان صاحب کے حجرے، واقع یونیورسٹی ٹاؤن، اولڈ جمرود روڈ، پشاور میں یومِ نجات منایا جائے گا۔
اس موقع پر آتش بازی اور کھانے کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اپنی بروقت شرکت یقینی بنائیں اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
منجانب: حلقہ PK-79 پشاور
رابطہ 03009879998
طیب
Iranian hardliners are destroying their country and its relations with important neighbours like Pakistan and Turkiye.
I bet these are the type of men who harass Iranian women over hijab and institute impeachment proceedings against Foreign Minister Aragchi.