سابق وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں اور وکلأ سے گفتگو:
“آج اہل خانہ نے مجھے اسلام آباد قتل عام کی کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا کہ کیسے ہمارے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور آئین و قانون کی بات کرنے والے درجنوں نہتے شہریوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کیا گیا- اب تک 12 شہدا کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں-
یہ جو بربریت ہوئی ہے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے- یحیٰ خان پارٹ ٹو ملک پر مسلط ہو کر بیٹھ گیا ہے-
میں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر نہتے اور پرامن شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں-
میری اس معاملے پر مزید مشاورت جاری ہے اور میں تفصیلات اکٹھی کر رہا ہوں ہم اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ ایسے خوف پیدا کرنے سے عوام چپ بیٹھ جائیں گے تو یہ اسکی خام خیالی ہے ۔ ہم اس ظلم کے خلاف تمام عالمی فورمز پر اپنی آواز بلند کریں گے- تحریک انصاف کی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ داران بشمول شہباز شریف اور محسن نقوی پر FIR کٹوائیں- دنیا کے کس ملک میں جمہوری احتجاج پر یوں سیدھے فائر کھولے جاتے ہیں؟
شہدا اور زخمیوں کے حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام ہسپتالوں اور سیف سٹی کی CCTV فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ 9 مئی کی طرح شواہد غائب نہ کیے جا سکیں-
میں نے اپنی پارٹی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایات دی ہیں کہ شہدأ کے لواحقین اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیں- جو لوگ لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کے لیے تمام توانائی خرچ کریں اور جو لوگ گرفتار ہیں ان کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلا کی ٹیمز کی حوصلہ افزائی کریں-
جہاں تک آپریشن کی کامیابی اور ناکامی کا سوال ہے تو آپریشنز تو بندوق کے زور پر کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ لال مسجد آپریشن بھی کامیاب ہی تھا ، یحیی خان نے بھی آپریشن کامیاب کیا تھا مگر اس کے ایک ماہ بعد ملک دو ٹکڑے ہو گیا تھا ۔ اسلام آباد میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی اسکا اثر بہت دیر پا ہو گا ۔
بشریٰ بی بی کو میں نے ہدایت دی تھی کہ احتجاج کو کس طرح اسلام آباد لے کر جانا ہے انہوں نے جو کیا میری ہدایات کے مطابق ہی کیا-
تحریک انصاف کے عہدیداران اور کارکنان متحد اور منظم ہو کر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں- یہ سیاست نہیں جہاد ہے-”
گذشتہ دس گھنٹوں سے اپنی ٹیمز اور گراؤنڈ پر موجود ساتھیوں کی خبر لینے کی کوشش کررہا ہوں۔ کئیوں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا نہ دیگر کو ان کی کوئی خیر خبر ہے، کون زندہ ہے، کون زخمی، کون گرفتار کوئی اتاپتا نہیں۔ جن سے رابطہ ہوا ان میں سے بیشتر شاک میں ہیں، موصول ہونے والی معلومات کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں کہ جس میں خلاصہ ہوسکے۔
عوام کی بڑی تعداد کے ڈی چوک پہنچنے پر فوجی جوانوں کی جانب سے انہیں تسلی دی گئی کہ احتجاج آپ کا قانونی حق ہے آپ پر امن طور پر بیٹھیں یہاں وغیرہ۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی نیتوں کا فتور ظاہر ہوتا گیا۔ قریب کی بلڈنگز سے سنائپر پکڑے گئے تو فرنٹ پر موجود ٹیموں کو لیڈ کرنے والے افراد (جن میں آئی ایس ایف یوتھ کے نوجوانوان کے علاوہ ایم پی ایز، ایم این ایز بھی شامل تھے) سے درخواست کی گئی کہ اپنے اپنے کارکنان کو لے کر پیچھے آجائیں۔ پوری دنیا کی سامنے ہے کہ یہ سب پر امن لوگ تھے نہتے جان ہتھیلی پر رکھے آگ کا دریا پار کرکے وہاں تک آئے تھے۔
اندھیرا ہوتے ہی علاقے کی تمام لائٹس بند کردی گئیں۔ کچھ وقت بعد ڈی چوک کے قریب عمارتوں سے فائر کھول دیا گیا۔ ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ وزیر اعلی اور بشری بی بی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہوگی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی اندیشہ تھا کہ انہیں وہیں نقصان پہنچایا جائیگا۔ آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوان بی بی کی گاڑی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لئے پلٹے۔ گراؤنڈ پر موجود کارکن اندھیرے میں گولیوں کو ربڑ بلٹس سمجھ کر اپنی جگہ کھڑے رہے اور کئی منٹ تک گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے ڈٹے رہے یہاں تک کہ ایک ایک کرکے اپنے ساتھیوں کو گرتے دیکھا تو ادراک ہوا کہ جسے وہ اپنی فوج اپنی ریاست سمجھ رہے تھے وہ آدم خور درندے تھے۔ جتنے لوگ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے انہیں آگے جاکر گھیر لیا گیا۔ اس وقت تک ان میں سے بیشتر کے کوائف نامعلوم ہیں۔ ڈی چوک پر فائرنگ کے وقت محتاط اندازے کے مطابق بھی کم از کم دس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ لوگ کوئی لاوارث نہیں تھے ہمارے ہاتھوں پر شمولیت کرنے والے ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے ہونے والے نوجوان تھے۔ ہمارے بے لوث کارکن تھے جو ایک اچھے مستقبل کی امید لے کر نکلے تھے۔ یزید کے پیروکارو نے جس بےدردی سے ان بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ اس خون کا رائیگاں جانا ہماری ہستیوں پر لعنت ہوگا۔
متحد رہیں، منظم رہیں۔ افواہوں پر کان نہ دہریں۔ آپ نے جرات اور وفاداری کا امتحان پاس کرلیا ہے۔ آپ کا جذبۂ ایثار اور قربانی تاریخ میں رقم ہورہا ہے۔
اب آپ کے صبر اور حکمت کا امتحان ہے۔ آگے اعصاب کی جنگ ہے۔ اپنی جگہ جمے رہنا ہے۔ آپ ہی قیادت، آپ ہی عمران خان کے نظریے کے حقیقی وارث ہیں یہ آپ کی جنگ ہے۔ آپ نے اپنا لیڈر، اپنا مینڈیٹ، اپنا آئینی اور قانونی حق واپس لینا ہے۔ آپ نے اپنا ملک ان غاصبوں سے واپس لینا ہے جو اپنا حق مانگنے پر آپ کو گولیوں سے بھوننے سے دریغ نہیں کرتے، جن کی نزدیک ہماری آپ کی زندگیوں کی کوئ حیثیت نہیں ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان کا میڈیا اپنے کردار پر غور کرے۔ یہ ملک صرف ہمارا نہیں آپ کا بھی ہے۔ اتنا نہ گریں چند ٹکوں کی خاطر، ابھی بہت سوں کی بہت زندگی باقی ہے کل کو کسی سے نظریں ملانے کے قابل رہنے دیں خود کو۔
عمران خان کا جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
پاکستانی قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے، پرامن احتجاج میں شامل ہیں اور ملک پر مسلط مافیا کے سامنے اپنے مطالبات اور حقیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں
میرا اپنی ٹیم کو بھی پیغام ہے کہ آخری بال تک لڑیں، جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے ہمارے ورکرز پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے پرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کیا، اسے اس کا حساب دینا ہو گا!
شہری ناصرف پرامن تھے بلکہ شیلنگ اور فائرنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز کو بھی ریسکیو کرتے رہے-
اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جو ناصرف پاکستان میں موبلائزیشن کر رہے ہیں، فنڈز بھیج رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں بھی تاریخی مظاہرے کیے
سوشل میڈیا وارئیرز بھی دنیا بھر میں ہمارے مطالبات اور پاکستان میں جاری ظلم و ستم کی بھرپور کوریج جاری رکھیں!!
مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
جو اب تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی ڈی چوک پہنچیں
مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی پرامن رہیں، متحد رہیں اور ڈٹے رہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے- یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے!!
With Trump’s victory in the #USA election, how would General Assim Munir explain the ongoing unjustified imprisonment of his friend Imran Khan. It is time to release Imran Khan and others who are being held without a fair judicial process. #Pakistan
Congratulations on behalf of myself & PTI to @realDonaldTrump for winning the US Presidential Elections. The will of the American people held against all odds.
President Elect Trump will be good for Pak-US relations based on mutual respect for democracy & human rights. We hope he will push for peace, human rights and democracy globally.
Jemima Goldsmith, ex-wife of Pakistan’s former PM Imran Khan calls for his immediate release, citing “serious and concerning” reports about his treatment in prison.
https://t.co/KxZ2w861KV
Concern is mounting over the health of Pakistan’s former Prime Minister Imran Khan, who has spent over a year in a squalid prison cell https://t.co/MvupBLRdMn
@Jemima_Khan’s concerns, we affirm that the Human Rights Council Pakistan shares deep concerns about the current state of human rights. Despite our efforts, our request to meet Imran Khan was denied by the prison administration. A petition filed by our lawyer @faraz_bina in Chief Justice Amir Farooq’s court has yet to be heard. #HumanRights #Pakistan
Sad and worrying news from Pakistan.
#Pakistan#ImranKhanLifeAtHighRisk#ImranKhan
Imran Khan is completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world.
Sky news reported today, quoting family members, that electricity and lights have been switched off in the prison cell where Imran Khan, the winner of the last Pakistani Elections, is detained.
He is no longer allowed to leave his cell and the jail's cook has been sent on leave.
@ImranKhanPTI@PTIofficial
Message from Imran Khan’s ex wife @Jemima_Khan
“In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.”
#Pakistan🇵🇰 International Human Rights Foundation expresses grave concern at the conditions of detention of Pakistan's legitimate Prime Minister Imran Khan.
16 October 2024 - New York City, USA.
The International Human Rights Foundation (IHRF) urgently draws attention to the alarming conditions of detention of His Excellency Mr Imran Khan, the legitimate Prime Minister of Pakistan. This matter is of the utmost importance and requires immediate international scrutiny.
Reports have emerged that Mr Khan is being held in conditions that violate basic human rights standards, including limited access to legal counsel, inadequate medical care and restrictions on family visits. Such treatment not only undermines the rule of law, but also violates international conventions to which Pakistan is a signatory.
«We are deeply concerned about the welfare of Prime Minister Imran Khan», said Mrs. Maria Claudia Cambi, president of the Board of Trustees of the IHRF. «The conditions of his detention raise serious questions about the commitment of the Pakistani authorities to uphold fundamental human rights and legal protections».
IHRF strongly expresses its full support for Mr Khan and calls on the Government of Pakistan to immediately improve the conditions of his detention to meet international human rights standards, allow full access to legal counsel and family members, and ensure transparency in all legal proceedings against him.
We also urge the international community, human rights organisations and allied nations to monitor this situation closely and to advocate for the fair and humane treatment of Mr Khan.
IHRF stands ready to work with all relevant stakeholders to ensure that justice and human rights are upheld in this critical case. #HumanRights #IHRF #ImranKhan #PTI
I usually don’t comment on Pakistani politics. I disagree with IK on many political issues. But this is not about politics- it’s about my children’s father, his human rights & international law. For the past few years, I’ve been bullied & harassed into silence by PML-N goons, including rape threats & countless conspiracy theories. Meanwhile Twitter/ X is banned in Pakistan, PTI party members & civilian supporters have been abducted, anyone with a platform who was speaking out is now in jail & silenced, Imran Khan’s photo and name have been censored on state television (they have even redacted his image from any coverage of Pakistan’s World Cup win of 92!)
I owe it to my children to try to create some awareness about what is happening in Pakistan. Please help in any way that you can. Thank you.