میں نے عید کے فوراً بعد اپنا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان شاء اللہ۔
یہ چینل آپ کی مدد کے لیے ہو گا۔
کوئی سنسنی خیز مواد نہیں، کوئی سستی سیاست نہیں۔
ٹاپکس ہوں گے:
خود کو بہتر بنانا (Self Improvement)، عالمی امور (Global Affairs)، فنانس (Finance)۔
1. میں اپنے تمام کیپیٹل مارکیٹس کے ویڈیو کورسز سب کے لیے مفت اپ لوڈ کروں گا، بشمول میرا انویسٹمنٹ بینکنگ کورس بھی مکمل طور پر FREE ہونگے۔
2. میں عالمی مسائل، عالمی معیشت اور سیاسی معیشت پر ویڈیوز بناؤں گا۔
3. میں نوجوانوں اور تمام عمر کے لوگوں کے لیے سیلف امپروومنٹ ویڈیوز بناؤں گا تاکہ وہ زندگی کی رکاوٹوں کا سامنا کر سکیں، مثبت سوچ پیدا کریں اور کامیاب ہو سکیں۔ تمام ویڈیوز اردو میں ہوں گی اور کبھی کبھی انگریزی میں بھی۔
ج
4. ہفتے میں ایک بار میں ناظرین کے سوالات لوں گا اور انہیں رہنمائی دیتے ہوئے جواب دوں گا۔
براہ مہربانی ری ٹویٹ کریں۔
President Trump's Middle East Peace Plan essentially legitimizes Israeli annexation of Jerusalem & illegal settlements on the land of Palestinians. An unjust, biased and oppressive “peace plan” has rightly been torn into pieces by Palestinians.
/ pic courtesy: BBC
Quaid-e-Azam’s clear stance was that Israel is a bastard state, and every Pakistani stands by it. Shame on you, your masters, and those puppets whose hands drip with the blood of Palestinians. History won't forgive you.
Grand Annual Ghaus-ul-Azam (RA) Conference in Canada
Organized by Minhaj-ul-Quran International and Bazm-e-Ghausia Canada, the magnificent annual Ghaus-ul-Azam (RA) Conference will be held on October 4, 2025, at 6:00 PM (local time) at Jamia Al-Mustafa, Mississauga Muslim Community Centre, Toronto, Canada.
The keynote address will be delivered by His Eminence Shaykh-ul-Islam Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri
This spiritually uplifting gathering will highlight the teachings of Mahbub-e-Subhani, Qutb-e-Rabbani, Sultan-ul-Awliya, Muhyuddin, Sayyiduna Shaykh Abdul Qadir Jilani (RA) under the theme of “Spirituality and the Path of Sufism.”
#GhausAlAzamConference #GhausAlAzam #ShaykhUlIslam #DrTahirulQadri #BazmGhausia #SpiritualityAndSufism #Mississauga #Canada #Sufism #SpiritualTeaching #IslamicTeachings #SpiritualGathering #LoveOfTheProphet #Spirituality #TahirulQadri #Islam #Quran #MinhajulQuran #DrQadri
@qaiseraraja Dear Sir/Madam,
Thank you for reaching out to us.
The processing of complaints through emails has been discontinued by this office. No further correspondence shall be made through emails. You can lodge your complaint on our web portal (CMS) at link: https://t.co/5l2SW1Ggbg
چوہدری رحمت علی گجر
قومی ہیرو نقاش پاکستان کی آج برسی ہے
چوہدری رحمت علی16 نومبر 1897ء میں ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کی تحصیل گڑھ شنکر کے ایک گاؤں موہراں میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی شاہ محمد گجر تھا جو ایک معمولی زمیندار تھے۔ رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم قران مجید کی حاصل کی ۔ اینلگو سنسکرت ہائی اسکول سے 1913 میں میٹرک کی سند حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے بالترتیب 1915ء اور 1918 میں اسلامیہ کالج سے پاس کئے۔ 1925 تک آپ لاء کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں سے آپ نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
چوہدری رحمت علی اسلامیہ کالج لاہور کے نامور طالب علم تھے۔ جنوری 1931 میں انھوں نے کیمبرج کے کالج ایمنویل میں شعبہ قانون میں اعلٰی تعلیم کے لئے داخلہ لیا۔ اسلامیہ کالج کے مجلے "دی کریسنٹ" کے ایڈیٹر اور اور کئی دیگر طلباء سے متعلق بزموں کے عہدیدار بھی رہے ۔ اسلامیہ کالج میں بزم شبلی قائم کی ، جس کے 1915ء کے اجلاس میں محض 18 برس کی عمر میں تقسیم ملک کا انقلاب آفرین نظریہ پیش کیا ، جس کی مخالفت پر آپ اس بزم سے الگ ہو گئے ۔ آپ نے یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے فرمایا
"ہندوستان کا شمالی منطقہ اسلامی علاقہ ہے ، ہم اسے اسلامی ریاست میں تبدیل کریں گے ، لیکن یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس علاقے کے باشندے خود کو باقی ہندوستان سے منقطع کر لیں۔ اسلام اور خود ہمارے لئے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ہندوستانیت سے جلد سے جلد جان چھڑا لیں"
آپ نے "پاکستان دی فادرلینڈ آف پاک نیشن" ، "مسلم ازم" اور "انڈس ازم" وغیرہ کتابچے بھی لکھے۔ چوہدری رحمت علی ایچی سن کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے اور جیفس کالج میں بھی ملازمت کی۔ آپ نے بعض اخباروں میں ملازمت بھی اختیار کی۔
1933 میں آپ نے لندن میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 28 جنوری 1933 ، جب وہ کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھتے تھے "اب یا پھر کبھی نہیں" (Now OR Never) کے عنوان سے چار صفحات پر مشتمل شہرہ آفاق کتابچہ جاری کیا ۔ جو تحریک ��اکستان کے قلعے کی آہنی دیوار ثابت ہوا۔ اور برصغیر کے مسلمانان و دیگر اقوام لفظ "پاکستان" سے آشنا ہوئے ۔آپ کے مطابق آپ نے یہ نام پنجاب (پ) افغانیہ (ا) کشمیر (ک) سندھ (س) اور بلوچستان (تان) سے اخذ کیا جہاں مسلمان 1200 سال سے آباد ہیں۔
1935 میں آپ نے ایک ہفت روزہ اخبار "پاکستان" کیمبرج سے جاری کیا۔ اور اپنی آواز پہنچانے کے لئے فرانس کا سفر کیا اور جرمنی کے ہٹلر سے انگریزوں کے خلاف مدد کا وعدہ لیا۔ اس کے علاوہ اسی سلسلہ میں امریکہ اور جاپان وغیرہ کا سفر بھی اختیار کیا۔
ایسے وقت میں جب ہندو و مسلم قائدین لندن میں جاری گول میز کانفرنسوں کے دوران وفاقی آئین کے بارے میں سوچ رہے تھے ، یکم اگست 1933 کو جوائینٹ پارلیمینٹری سلیکٹ کمیٹی نے چودھری رحمت علی کے مطالبہ پاکستان کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان وفد کے مسلم اراکین سے سوالات کئے۔ جوابا سر ظفر اللہ۔ عبداللہ یوسف علی اور خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے کہا کہ یہ صرف چند طلباء کی سرگرمیاں ہیں ، کسی سنجیدہ شخصیت کا مطالبہ نہیں جس پر توجہ دی جائے۔ 1938 میں آپ نے بنگال ، آسام اور حیدرآباد دکن کی آزادی کے حق میں بھی آواز بلند کی اور "سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ " کا تصور پیش کیا۔ جن میں پاکستان ، صیفستان ، موبلستان ، بانگلستان ، حیدرستان ، فاروقستان ، عثمانستان وغیرہ شامل تھے۔ جن میں جغرافیائی محل وقوع کا تعین کیا گیا تھا اور با قاعدہ نقشے دئیے گئے تھے ۔ اور 8 مارچ 1940 کو کراچی میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی سپریم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حیدر آباد دکن کے لئے "عثمانستان" کے نام سے آزاد اسلامی ریاست کا خاکہ پھر پیش کیا۔
مورخ ڈاکٹر راجندر پرشاد اپنی کتاب India Divided میں رقمطراز ہیں کہ
"جہاں تک مجھے علم ہے چوہدری رحمت علی پاکستان نیشنل موومنٹ کے بانی صدر ہیں۔ وہ واحد شخص ہیں جو ہندوستان کی وحدت کو تسلیم کئے جانے کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسلمانوں کو ظلم و بربریت میں مبتلا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں"
مشہور ترک ادیبہ خالدہ خانم کی مشہور کتاب Inside India کا ایک باب چوہدری رحمت علی کے انٹرویو پر مشتمل ہے جو 1937 میں پیرس میں شائع ہوئی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ
"پاکستان نیشنل موومنٹ کا منصوبہ فرقہ واریت سے الگ بات ہے۔ تحریک کے مطابق ہندوستان موجودہ حالت میں ایک ملک نہیں۔ بلکہ برصغیر ہے جو دو ملکوں ہندوستان اور پاکستان پر مشتمل ہے۔ تحریک کا بانی چوہدری رحمت علی کو قرار دیا جاتا ہے ، وہ قابل ترین قانون دان ہے لیکن وکالت ترک کر کے انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ان کی زندگی کا غالب مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل ہے ۔ میں نے ملاقات کے دوران یہ محسوس کیا ہے کہ یہ تلخی جو ان کے دل میں ہے ہندوؤں
بقیہ
کمنٹس میں