🛑 توبہ توبہ توبہ
📌پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میں 7 کھرب 2 سو 75 ارب روپے آئی پی پیز کو دئیے
جبکہ ان سے بجلی ایک دھیلے کی بھی نہیں ملی مطلب ایک یونٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی ۔
صرف پچھلے سال 1کھرب 1 سو 49 ارب آئی پی پیز کو دئیے گئے
ان پیسوں سے 5 دیامر بھاشا ڈیم بن سکتے تھے
🔥ظلم در ظلم یہ بھی کہ 7275 ارب پہ ٹیکس بھی نہیں لیا گیا
رواں سال کے یعنی 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ایک ہزار 4 سو 30 ارب آ��ی پی پیز مالکان کو دیا جا چکا ہے
🔥اگلا ظلم سنیں
نیپرا کے ایک ملازم نے لگے ہوئے 108 پلانٹس کی انسپیکشن کرنا ہوتی ہے مطلب اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ اس نے ان پلانٹس کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کونسا پلانٹ چل رہا ہے یا کونسا نہیں چل رہا
اس نے پچھلے 6 سالوں میں صرف 30 پلانٹس کا وزٹ کیا
🔥اگلا ظلم سنیں
چئیرمین نیپرا کی تنخواہ 11 لاکھ تھی
جسے بڑھا کر 32 لاکھ کیا جا چکا ہے
ان درندوں کا نا پیٹ بھر رہا ہے نا نیت ، دولت کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ھو رہی ۔
شاباش شاباش، بےشرمو۔ خوب جی بھر کر لوٹو اس غریب قوم کو۔ اور پھر ہاتھ جھاڑ کر کہہ دینا کہ "نظام" ہی ناکام ہو گیا ہے۔
ایک دوسرے کو "نظام" کی ناکامی کے طعنے دینے والے دراصل خود ہی "نظام صاحب" ہیں۔
مریم بی بی نے کسانوں کو 4,900 روپے فی من کی گندم 1,800 روپے میں فروخت کرنے پر مجبور کیا۔ احتجاج کے بعد اگلے سال گندم اگانے کی ترغیب دی، لیکن جب کسانوں نے گندم اگائی تو مریم بی بی کی حکومت میں انہیں 2,200 سے 2,300 روپے فی من میں بیچنا پڑی۔ 2,900 روپے میں گندم فروخت کرنے والے کسانوں کے خلاف بھی ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ نتیجہ: کسان تباہ، پنجاب کی گندم کی پیداوار متاثر اور فوڈ سیکیورٹی خطرے میں پڑ گئی۔
آپ چاہے غربت کی وجہ سے خودکشیاں کریں یا اپنے عزیز و اقارب کو قتل کریں، ہماری عیاشیاں، ہماری لوٹ مار اور ہماری عوام دشمنی کسی قیمت پر نہیں رک سکتی، پاکستان کی حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کا دبنگ اعلان
ابھی لوگ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی جانب سے موجودہ اور سابقہ اراکین اسمبلی اور ان کے اھل خانہ کیلئے آفیشل بلیو پاسپورٹ سمیت مختلف مراعات کی منظوری کے صدمے سے باھر نہیں نکلے تھے کہ سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی نے سابق پارلیمینٹیرینز اور انکے اھل خانہ کیلئے بلیو پاسپورٹ کی سفارش کر دی ھے
ایسے ھی اقدامات منتخب ایوانوں کو بے وقعت کرتے اور مسائل کی زنجیروں میں جکڑے عوام کی نظر میں سیاستدانوں کو قابل تحقیر بناتے ھیں ۔۔
جب تک سیاستدانوں ، بیوروکریٹس ، اعلٰی عدلیہ اور سینئیر فوجی افسران کو حاصل غیر معمولی مراعات کو مناسب سطح تک نہیں لایا جاتا ، ناانصافی سماجی ناھمواری اور عوامی اضطراب کی دیمک معاشرے کو گُھن کی طرح چاٹتی رھے گی ۔۔
ترجیحات دیکھیے، سر دھنیے: پاکستان نے تین ہائیڈل پاور منصوبوں کو سرد خانے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں 700 میگاواٹ کا آزاد پتن، 1,124 میگاواٹ کا کوہالہ اور آٹھ میگاواٹ کا کتھائی II شامل ہیں۔ جبکہ اسلام آباد ائیر پورٹ کی توسیع کیلیے 200 ارب اور کھاریاں موٹروے کیلیے 200 ارب دستیاب ہیں۔
سفاک اور سنگدل شہباز حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرادیا،حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے،13 کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،عوام کے پاس اپنے پیاروں کی تدفین کیلئے کفن نہیں ہے لیکن سفاک حکومت کو رحم نہیں آریا،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بدترین عوام دشمن فیصلہ ہے،عوام کیلئے مہنگائی اور پٹرول بم ہیں اور حکمرانوں کیلئے 10 ارب کے جھاز اور اربوں روپے کے پروٹوکول۔۔۔۔عوام کے جیبوں ہر اس ڈاکے کی مذمت کرتا ہوں،پیٹرولیم ڈویژن کے م��ابق ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 13روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈیزل کی نئی قیمت 323 روپے 30پیسے اور پیٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
مہنگا پیٹرول پہنچنے میں دیر نہیں لگتی ،ادھر دو پٹاخے چلے اور ادھر قیمتیں بڑھ گئیں مگر سستا پیٹرول پہنچنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے ۔۔۔۔یہ کیا سائنس ہے ؟ رہنمائی فرمائیں
ایک مہینے میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمت کا ریلیف عوام تک نہیں پہنچ سکا لیکن دو میزائل چلتے ہی قیمتوں میں اضافے کا منصوبہ تیار۔
اللّٰہ کریم ہدایت دے
ظلم کی داستان۔۔۔۔۔ زمین پھٹی نہ آسمان
ماں بمعہ 9 ماہ کا پیٹ میں بچہ شوہر اور ساس کے ہاتھوں بے دردی سے قتل۔۔۔۔
میانولی شہر سے 5 سے چھ کلومیڑ کے فاصلے پر ایک قصبہ ٹبی جو کہ حلقہ پی پی 87 میں آتا ہے۔حواء کی بیٹی عزیزاں بنت محمد کلیار جو کہ یتیم ہیں والدہ وفات پاچکی ہے۔اسکی شادی تین سال پہلے ٹبی شہر کے ایک درندے سے کردی گئی۔ایک بچہ ہوا، شادی کے بعد ساس اور شوہر نے بچی کی زندگی جہنم بنا دی وجہ یہ تھی کہ شوہر کسی اور کو پسند کرتا تھا۔بچی دوسری بار حاملہ تھی اسی ظلم سے تنگ آکر بچی اپنے والد کے گھر کافی عرصہ سے بیٹھی تھی۔سسرال میں صرف ایک سسر تھا جو اس مظلوم کیساتھ تھا۔
شوہر اور ساس نے پلان بنایا عزیزاں اور اسکے پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کرنے کا، اسی منصوبے کیساتھ لڑکی کو منا کرلایاگیا۔دوسری رات ماں بیٹے نے ملکر عزیزاں کو قتل کر دیا، اور کہا کہ رات کو عزیزاں پر دیوار گر گئی حالانکہ دیوار کی اونچائی تین فٹ نہ��ں ہوگی۔
بدقسمتی سے اس رات مقتولہ کا سسر بھی گھر پر نہیں تھا جھنگ گیا ہوا تھا۔
قاتلوں نے صبح سویرے ہی خاموشی۔ سے تدفین کردی۔ والد بیچارا درمیانے سے دماغ کا ہے اس نے جا کر تھانہ وآں بھچراں درخواست دی۔ پولیس آئی گھر کی تلاشی لی گئی تو ایک کمرے سے دوبٹہ جس سے گلہ دبایا گیا اور ایک خون آلود بہت بڑا ڈنڈا برآمد ہوا۔ پولیس گھر سے 20 کے قریب مرد عورتوں کو اٹھا کر لے گئی۔ تین دن پولیس جاتی رہی۔ قاتلین ن لیگ کے ووٹرز سپورٹرز ہیں سیاسی اور چٹ کپڑیے ایکٹیو ہوئے۔ ایک MPA اور سفید پوش نے پولیس سے لین دین کروایا۔ والد کو بھی قاتلنے دھمکی دی کہ بیٹا تیرا ہے کوئی نہیں اور تجھے قتل کردونگا تیرا جنازہ اٹھانیوالا کوئی نہیں ہوگا۔
بیچارے کی دو جوان بیٹیاں ہیں مجبور ہے، یہ فیملی پیشہ ور قاتل ہے سال پہلے بھی اسی طریقے سے ایک لڑکی بیاہ کر لائے اور قتل کردی۔
30 دن ناح�� دو معصوموں کے قتل کو گزر گئے مگر پولیس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ڈی پی او میانوالی کو فوری ایکشن لینا چاہیے اور سب سے پہلے SHO تھانہ وآں بھچراں اور اسکی پوری ٹیم جس نے اس دوہرے قتل کو چھپانے میں رول ادا کیا اسکو ہتھکڑی لگوائے۔
لڑکی کے غریب والد کو تحفظ دیکر ماں بچے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔
فوری طور پر قبر کشائی کروا کر پوسٹمارٹم کیا جائے۔معصوم بنت حواء اور سکے بچے کو انصاف دلایا جائے۔
یہ قصبہ ٹبی سابق MPA ملک احمد خان بھچر اور عمران خان کے وکیل ملک پرویز اموی کے حلقہ پی پی 87 کا قصبہ ہے انکو بھی اس ظلم پر آواز اٹھانی چاہیے اور مظلوم کیساتھ کھڑا ہو��ا چاہیے۔
من رامی تے حجتاں دے ڈھیر
جب قیمت بڑھتی تو راتوں رات سو ڈیڑھ سو لیٹر بھی بڑھا لیتے جب کم کرنی ہوتی تو ہزار حجتیں موجود ہیں
فرعون بھی موجودہ حکومت کے سامنے نیک نظر آنے لگ گیا ہے یہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہیں
ٹویشن سینٹر کی چھت گری بچے حادثہ کا شکار ہوئے گھر کے مالک اور اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے یہ سیالکوٹ میں چند دن پہلے سرکاری سکول جو ٹھیکے پر دیا اس کا گیٹ بچی پر گر گیا اس کی ٹانگ ٹوٹ گی اس ٹھیکدار کو گرفتار نہی کیا گیا الٹا والدین سے زبردستی بیان لکھوا لیا کہ سکول ذمہ دار نہی ہے کیونکہ سکول جن کو ٹھیکے پر دیے اس کے ترجمان وزیر تعلیم خود ہیں
اس بل کےپاس ہونے کے بعد آپ بجلی گیس پانی فون کا بل بھول جائیں گے
نجاب ہابیچوئل آفینڈرز اور اینٹی سوشل بیہیوئر کنٹرول بِل
2026
پنجاب حکومت کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ فوراً بند کر سکتی ہے آن لائن اکاؤنٹس ختم فون ڈیجی��ل اور الیکٹرانک نگرانی کا نظام چلا سکتی ہے کوئی بھی کڑا سٹچنگ یا سینیٹائزر بھی پہناسکتی ہے اور یہ سب کچھ ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش اور منظوری پر کیا جا سکتا ہے
یہ بِل اب صرف پنجاب اسمبلی کی منظوری کا انتظار رہ گیا ہے بِل کو لیگی رکن اسمبلی سابقہ ضلعی اور سیشن جج خالد محمود رانجھا نے پیش کیا ہے اس کا بنیادی قانونی اڈہ 1 871میں برطانوی حکام نے بنایا گیا ظالمانہ قبائل ایکٹ ہے
پنجاب اسمبلی کے ایک آفیشل کلپ میں اسپیکر صاحب نے بڑی حیرت کا اظہار کیا علی یہ بِل میرے دستخط کے بغیر کیسے آگے بڑھ گیا یہ تو میرے نوٹس میں بھی نہیں تھا
اسپیکر نے خود اعتراف کیا کہ یہ بِل تو انگریز سامراج کی یاد تازہ کررہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ذاتی راے یہ ہے کہ
اس بِل میں ن لیگ اور اس کے تمام کارکنان بھی اس کا لقمہ بن ج��ئیں گے کیونکہ ایک بار یہ قانون بن گیا تو اس کا نفاذ نئی حکومت بھی یہی کرے گی
حکومت کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ رب تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے یہ کیوں غلام بنانے کی کوشش کر رہی ہے یہ تمام بل نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں انسانوں کو کنٹرول کرنے کا پلان ہے
ن لیگ کو بھی اس کا اندازہ ہے کہ یہ بِل کل ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے مگر پھر بھی وہ اسے پاس کروا رہی ہیں
گذشتہ دنوں وفاقی وزیر نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایسا اختیار دے دیا تھا کہ جس کی چھت پر چاہو کھمبا گاڑ دو
وہ تو سینٹ میں بحث شروع ہو گئی عوامی پریشر آ گیا جس پر بل ترمیم کے لیے چلا گیا
دعا کریں آواز بلند کریں کہ یہ بل قانون نہ بنے ورنہ یہاں سب کو زندہ درگور ہونا پڑے گا
سیاسی وابستگیوں کو بالاے طاق رکھتے ہوے اس کے خلاف آواز اٹھائیں یہ طوق سب کے گلے میں لٹک سکتا ہے
منقول
جیو پر توہین حامد میر ممکن نہی مگر نبی کریم ﷺ کی شان بارے ایڈیٹو ریل بورڈ سو جاتا ہے
میں جب پاکستان گیا تو جیو پر سلیم صافی صاحب نے میرے ساتھ ایک مکمل پروگرام کیا اس میں ڈیجیٹل میڈیا چیٹ جی پی ٹی اور سوشل میڈیا کے بچوں کی ذہنی صحت اور شخصیت پر تباہ کن اثرات ٹک ٹاک وغیرہ پر نفسیات کے حوالے سے ٹیکنکل گفتگو تھی جیو نے وہ پروگرام نشر نہی کیا تھا اور ان کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اعتراض لگایا کہ میں نے حامد میر کے خلاف سخت کمپین کی مجھے یہ سکرین شاٹ بھجوائے گے کہ ان کی وجہ سے آپ کا پروگرام آن ائیر نہی ہو گا اس پروگرام سے حامد میر کی دل آزاری پر گی سوچیں وہ ایڈیٹوریل بورڈ جو توہین حامد میر کی دفعہ میری ایک ایک پوسٹ ڈھونڈ سکتا تھا وہ نبی کریم ﷺ
اور پاک ہستیوں کے حساس معاملہ کی دفعہ سویا ہوا تھا تو یہ ماننا ممکن نہی کہ جیو میں چیزیں یوں ہی نشر ہو جاتی ہیں
مسلم لیگ نواز کے مجوزہ کالے قانون کے تحت حکومتی افسران کو دفعہ 7 کی ضمنی دفعہ 3 کے تحت دیگر آمرانہ اختیارات میژ ایک یہ آمرانہ صوابدیدی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر کمیٹی چاہے تو وہ کسی شہری کو بغیر شنوائی کے بھی منفی سماجی رویے والی شہری ق��ار دے کر ایک یا ایک سے زائد غیر آئینی سزائیں دے سکتی ہے، سزائوں کی سفارش کر سکتی ہے۔
پروگرام لائیو ود جامی میں میاں دائود ایڈووکیٹ کی گفتگو
مریم نواز کی حکومت پنجاب میں ایک ایسا قانون لانے جا رہی ہے جسے سن کر انسان کا خون جم جاتا ہے اور ذہن میں صرف ایک سوال گردش کرتا ہے کہ کیا ہم ابھی بھی ایک آزاد ملک کے شہری ہیں یا انگریز کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفنڈرز اینڈ اینٹی سوشل بی ہیویئر بل 2026 کے نام سے یہ خوفناک قانون پنجاب اسمبلی میں منظوری کا انتظار کر رہا ہے اور اس بل کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ برطانوی نوآبادیاتی دور کے کالے قوانین خاص طور پر 1871 کے کریمنل ٹرائبس ایکٹ کی اسی روح کو زندہ کرتا ہے جس میں عدالتی نگرانی کے بغیر انتظامی اختیارات کو بے پناہ طاقت دی جاتی تھی۔
اس بل کے تحت ضلعی سطح پر انٹیلی جنس کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو کسی بھی شخص کو عادی مجرم قرار دینے کی سفارش کر سکتی ہیں اور اس ایک سفارش کے بعد اس شخص کو نو فلائی لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے اس کا پاسپورٹ ضبط کیا جا سکتا ہے اس کا بینک اکاؤنٹ منجمد کیا جا سکتا ہے اس کا اسلحہ لائسنس منسو�� کیا جا سکتا ہے اور اس کی جائیداد تک قبضہ کیا جا سکتا ہے۔
سوچیں ذرا غور سے سوچیں کہ یہ سب کچھ کس کی سفارش پر ہوگا؟ کسی جج کی نہیں کسی عدالت کی نہیں بلکہ ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر جو کہ خود حکومت کے ماتحت ہے۔ یہ وہی نظام ہے جو انگریز نے پاکستانیوں کو غلام رکھنے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن آج یہی نظام مریم نواز کی حکومت اپنے ہی عوام کو دبانے کے لیے لا رہی ہے۔
اس قانون کے تحت آن لائن اکاؤنٹس بند کیے جا سکتے ہیں فون ضبط ہو سکتا ہے ڈیجیٹل اور الیکٹرانک نگرانی کی جا سکتی ہے اور کپڑے تک ضبط ہو سکتے ہیں اور یہ سب کچھ پولیس کو بھی مکمل ڈیجیٹل نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔
وکلا حلقوں اور حزب اختلاف نے کہا ہے کہ یہ بل جرائم کنٹرول سے کہیں آگے جاتا ہے اور کافی عدالتی ضمانتوں کے بغیر انتظامیہ کو بے مثال اختیارات دیتا ہے۔
جب انگریز نے یہی کچھ کیا تھا تو ہمارے بزرگوں نے اسے ظلم کہا تھا اور اس کے خلاف جنگیں لڑیں تھیں۔ آج جب نواز شریف کی بیٹی یہی قانون لا رہی ہے تو اسے جدید قانون سازی کہا جا رہا ہے؟
یہ کیسا انصاف ہے کہ کسی پر عدالت میں مقدمہ چلانے سے پہلے ایک خفیہ کمیٹی اسے سزا دے دے اس کا کاروبار تباہ کر دے اس کا گھر چھین لے اور وہ بیچارہ دروازے دروازے انصاف کا بھکاری بنتا پھرے۔ یہ وہی پنجاب ہے جہاں آج بھی عام آدمی تھانے کی چوکھٹ پر رسوا ہوتا ہے اور اب اسی عام آدمی کو ایک انٹیلی جنس کمیٹی کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے جس میں نہ اس کی بات سنی جائے گی اور نہ اسے انصاف ملے گا۔
مریم نواز کو چاہیے تھا کہ اپنی حکومت کے پانچ سالوں میں عام پنجابی کے گھر میں روٹی لاتیں بجلی کا بل کم کرتیں اور سرکاری اسپتالوں میں دوائیں مفت دلواتیں لیکن انہوں نے وقت اور توانائی اس قانون پر لگائی جو آنے والے وقت میں ہر سیاسی مخالف ہر آزاد صحافی اور ہر بولنے والے کی زبان بند کرنے کا ہتھیار بن سکتا ہے۔
پاکستان کے باضمیر شہریوں کو آج آواز اٹھانی ہوگی کیونکہ کل جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو شاید آواز اٹھانے کی طاقت بھی نہ بچے۔
پنجاب اسمبلی میں جو متنازعہ قانون Habitual Offenders اور اینٹی سوشل behavior والا روکا گیا ہے اس پر پنجاب حکومت کی کوئی وضاحت یا تفصیل سامنے آئی اسے کیوں پورے ملک میں صرف پنجاب میں ضروری سمجھا گیا؟