کل بنوں میں پولیس چوکی پر حملہ ہوا
دن کو بنوں میں ایک شخص کو پھانسی دیکر سڑک پر لٹکا دیا گیا۔
شام کو فورسز نے ایک رکشہ ڈرائیور کو گولی مار کر شہید کردیا۔
پختونخواہ کو بلوچستان بنانے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں میری تقریر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر نصب ٹی وی اسکرینوں پر دانستہ طور پر خاموش کیا گیا، جبکہ بعد ازاں قومی اسمبلی کے آفیشل ��یج پر جاری کردہ ویڈیو کو بھی کاٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا۔ یہ معاملہ محض میری آواز دبانے کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے آئینی تقدس، اراکین کے حقِ اظہار اور عوام کے حقِ آگاہی کا ہے۔ پارلیمنٹ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے نہیں، بلکہ ہر آواز کو سننے کے لیے ہے۔ اس معاملے کو اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھاؤں گا اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کروں گا۔ پارلیمنٹ کا وقار اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے میں نہیں، بلکہ ان کے حقِ اظہار کے تحفظ میں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن 1970 کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھے جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھی جائے اور اپنی وزارت کے منصب سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا،جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے تو یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدا�� سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
آئین چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتا ہے،فیڈریشن کے تحت تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں،اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں،آئین صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا ہے
خیبر پختون خواہ کے اضلاع سے بہت بڑی تعداد میں تحریک انصاف ورکرز کی گرفتاری کی خبر آ رہی ہے۔ ان میں وہ اضلاع بھی شامل ہیں جن میں لانگ مارچ پہنچی ہی نہیں۔ ایک بڑی تعداد میں ورکرز گھروں سے دور گرفتاری سے بچنے کے لئے بھی گئے ہوئے ہیں۔ ان ورکرز پر الزام کیا ہے؟ نا لانگ مارچ ہوا نہ کوئی قانون ٹوٹا!
ذرا سوچیے؛💔
"اگر صوبے کا وزیرِ اعلیٰ، اسپیکر اور کابینہ کے ارکان تین دن سے لاپتہ ہوں اور کوئی عدالت نوٹس تک نہ لے، تو سوچیں عام بلوچ، پشتون اور کشمیری کا کیا حال ہوگا؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نہیں، پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے لگائی گئی ہے۔ تین دن سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں، لیکن پی ٹی آئی کارکنان کے اغواء، گھروں پر دھاوا بولنے اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں اتارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
As Pakistan’s government arrests opposition leaders and suspends an elected provincial government, President Trump continues to embrace its military chief.
The United States should stand with the Pakistani people, not enable political repression. We must press for the release of political prisoners, including Imran Khan.
https://t.co/evitvY5gwk
آج اسحاق ڈار نے خود اعتراف کر لیا کہ مولانا صاحب کو فون کرکے کہا تھا کہ سہیل آفریدی کو ہٹاؤ اس کا مطلب دہشت گردی ایک بہانہ تھا اصل مقصد سہیل آفریدی کو ہٹانا تھا؟ کیونکہ سہیل آفریدی عمران خان کی جنگ لڑ رہے تھے۔
میں لکھ کر دیتا ہوں کہ پاکستانی ریاست دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتی، یہ ریاست کی پالیسی ہے۔ اسی پالیسی سے ریاست کو اربوں، کھربوں روپے ملتے ہیں۔ لہٰذا گورنر راج اور ایمرجنسی محض بہانے اور ڈرامے ہیں۔ اصل مقصد عوامی اختیار، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کو چھیڑنا، نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے بنانا ہے۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، اے این پی
#ANP | #AimalWaliKhan
مراد سعید کا پولیس والوں کے نام کھلا خط ۔۔
آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد ا��سوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔