ایک ریٹائر جج جو کہ ابھی تحریک انصاف کے الیکشن کیسز سننے کی 'کوشش' کر رہے تھے، کیس تو نہیں سنتے۔۔
ان سے میں نے پوچھا جناب یہ سپریم کورٹ کی توہین ہوئی ہے تو اس پر کیا ہونا چاہیے۔
تاریخی جواب دیا انہوں نے۔۔۔۔۔۔یار توہین ہماری ہوئی ہے تمہیں کیا تکلیف ہے؟ پہلی بار تھوڑٰی ہوئی ہے۔🤣
میری خواہش ہے کہ عمران خان محفوظ رہے۔۔میں عمران خان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئی۔۔عمران خان عظیم لیڈر ہے میں چاہتی ہوں کہ پاکستان اس کی عزت کرے جس کا وہ حق دار ہے
کرسٹین بیکر
تحریک انصاف کے سیکٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور سینئیر قانون دان لطیف کھوسہ انگلش میں انٹرنیشنل میڈیا کو عمران خان کے کیسز کی تفصیل بتا رہے ہیں، اور عمران خان کی صحت کے متعلق آگاہ کر رہے ہیں،
اس ویڈیو کو ہر طرف پھیلا دیں۔
علمیہ خانم کی ایکس پوسٹ کے مطابق نورین نیازی سے پچھلے دو ہفتوں میں ہر جیل ملاقات سے ایک بیان حلفی دستخط کرایا جاتا ہے کہ وہ ملاقات سے باہر آکر میڈیا سے بات نہیں کریں گی
ڈونلڈ ٹرمپ:
“میرا بیٹا بیرن صرف 20 سال کا ہے اور ایران کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں کیونکہ وہ صدر کا بیٹا ہے۔”
ایران:
“زہرا صرف 14 ماہ کی تھی۔ اسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ خامنائ کی پوتی تھی۔“
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور
جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ
شاہ محمود قریشی کی ضمانت پر سماعت پراسکیوشن نے مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کی مہلت مانگ لی
عدالت نے سماعت پانچ ستمبر تک ملتوی کردی پراسکیوشن نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔۔۔۔
عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بیگم کو اہلِ خانہ سے ملاقات بچوں سے فون کالز روزانہ ایک گھنٹے واک اور مطالعے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جیل حکام کو پندرہ روز میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے
مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر بھی حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہوگا 17 جون 2026 کو وکالت نامہ کے معاملے پر توہینِ عدالت اگست 2026 میں ہسپتال منتقلی کے اوپر توہینِ عدالت اور ایسی کئی توہینی عدالتیں حکومت کر چکی ہیں
اگر عدالتی احکامات کی پاسداری نہ ہو تو اس سے نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور معاشرے میں بے چینی اور انتشار جنم لیتا ہے جو اب خود عدالتوں کو روکنا ہوگا
انتہائی تشویشناک صورتحال!!
قبائلی علاقے کے غیور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ مشکوک افراد کو گھیرے میں لے کر پکڑ لیا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں نے بھیس بدلنے کے لیے جعلی داڑھی اور مونچھیں لگا رکھی تھیں۔
لوگ ان کو سزا دینے ہی والے تھے کہ فوج کے ایک کیپٹن نے آ کر انہیں روکا۔
کیپٹن کا کہنا ہے, یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور فوجی اہلکار ہیں۔
اس بات پر عوام نے سیدھا مطالبہ کیا کہ اگر یہ ہمارے اپنے محافظ ہیں، تو پھر وردی کے بغیر یہاں بھیس بدل کر کیوں گھوم رہے ہیں