کیا ایک بیوروکریٹ خیبرپختونخوا کو انارکی کی طرف لیکر جارہا ہے
خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی پولیس اورحکومت کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانے کا گھناونا کھیل کیوں کھیل رہی ہے
کہیں ایسا تو نہیں کہ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کی صفائی مہم سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، منشیات سمگلنگ، قبضہ مافیا کیساتھ براہ راست ملوث اور جرائم پیشہ افراد کو پالنے والے بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے نام باہر آنے کا خوف پیدا ہو گیا ہے
بیوروکریٹس کی خواہش پر پولیس سے اختیارات لینے کا جو قانونی مسودہ تیار ہوا ہے اس سے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ کام حکومت کے کہنے پر کیا جارہا ہے
مگر درون پردہ یہ خواہش بیوروکریٹس، مافیاز اور بعض سیاستدان اپنا کالا دھندہ چھپانے کیلئے پولیس کے پر کاٹ رہی ہے
اس گھناونا کھیل کو حکومت کے کھاتے میں ڈال کر مستقبل میں اپنے لئے محفوظ راستہ بنانا ہے
"کیسی عجیب بات ہے کہ امریکہ کو صرف تیل کے ذخائر والے ممالک میں ہی "دہشتگردی" کا مسئلہ نظر آتا ہے۔
کل اگر سویڈن میں تیل کے ذخائر نکل آئے تو امریکہ کیلئے وہاں بھی "دہشتگردی" کا مسئلہ نکل آئے گا"
😊😊
Feeling deeply saddened by the tragic martyrdom of Maulana Khan Zaib. May Allah grant him the highest place in Jannah and give strength to his family in this difficult time. He will always be remembered in our prayers.
State terrorism is underway in Bannu. Security forces open fire on peaceful protestors, killing & injuring many. They were protesting against the state sponsored ‘Project Taliban' May the perpetrators of this atrocity be held accountable for their crimes against humanity.
پاکستان چاہے توپشتون اور ریاست کے درمیان پیدا کیا گیاخلا کم ہوسکتا ہے اور یہ تبھی ممکن ھے جب وہ ایک زمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے گیلامن وزیر کو علاج کے لئے جرمنی منتقل کریں۔
#EvacuateGilamanWazirToGermany
افغانستان کے طالبان امریکہ سے سفارتی تعلقات نہ ہونے اور بیس سالہ جنگی تاریخ کے باوجود اگر اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر سکتے ہیں تو پاکستان ڈاکٹر عافیہ کا کیس امریکی ایڈمنسٹریشن کے ساتھ کیوں نہیں اٹھاتا؟؟ پاکستان اگر امریکہ سے ملٹری آپریشن کیلئے ہتھیار مانگ سکتا ہے ��و ڈاکٹر عافیہ کو کیوں نہیں مانگتا؟؟ یہ چند مہینے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے حکومتِ پاکستان باقاعدہ تحریری طور پر خط کے زریعے اور ملاقاتوں میں امریکی ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کا کیس اٹھائیں۔ یہی وہ موقع ہے کہ ڈاکٹر عافیہ آسانی کے ساتھ پاکستان آسکتی ہیں۔
عوام ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور سیو عافیہ مہم کا ساتھ دیں۔
@Aafiamovement
@HamidMirPAK
@ImranRiazKhan
@GovtofPakistan
@FowziaSiddiqui
@bilal_bpiracha
#SaveAafiaNow
https://t.co/CVIN7djU7h
Why is the world so cruel?
Why don't we love one another? Why don't we respect, care, praise & acknowledge one another?
Loving, caring & respecting our fellow-beings can be very charming.
ناست وي په محفل کې خو تنها لګي
پته د مین سړي صفا لګي
دا واړه اعجاز دې د سرو شونډو دی
ته که دروغ هم وایې، رښتیا لګي
ناز او په ستم کې فرق اسان نه دی
ښکلي موږ ته ځکه بې وفا لګي
غشي چې کاږه وي هدف نه لګي
ستا باڼه کاږه دي خو رسا لګي
ارواښاد رحمت الله درد
الوداع نواز شریف
تحریر: مطیع اللہ جان
اسکے بعد نواز شریف کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے اور ن لیگ کبھی حکومت نہ بنا پائیگی، نواز شریف کیساتھ باقاعدہ ہاتھ ہو گیا ہے، شھباز شریف کی بھی آخری وزارت عظمیٰ ہے جس میں آصف زرداری کا ایوانِ صدر حاوی ہو گا اور پارلیمنٹ اتنی کمزور کہ جیسے کوئی صدارتی نظام- خیبر پختونخواہ کے علی امین گنڈاپور سے پنجاب کاشھباز شریف نہیں سندھ کا سربراہ ریاست ہی ڈیل کر سکے گا-
وزارتِ عظمی برادرشھباز شریف اور اپنا صوبہ پنجاب دختر مریم نواز کے حوالے کر کے "میاں جدوں جاوے گا“ تے کسی نوں پتہ وی نہیں لگنا، ووٹروں کو جھوٹے لارے لگانے والے ایسے لیڈر کو شاید بہت پہلے ہی چلے جانا چاہئیے تھا، الیکشن سے پہلے میاں دے نعرے وجانے والے اب بغلیں بجاتے نظر آئینگے۔ وہ صفحہ اول کے سرخی نما "وزیر اعظم نواز شریف" کے اشتہارات نے بچے کھچے متوالوں کو ووٹ کے لئیے باہر تو نکال لایا مگر اب انہیں دوبارہ پٹواری ہونے کا احساس ہو گا۔ ن لیگ کے ووٹروں کو اگر یہ پتہ ہوتا کہ نواز شریف حسب معمول صرف پکی پکائی واضح اکثریت پر اقتدار سنبھالیں گے تو وہ گھروں سے شھباز شریف کو وزیر اعظم بنانے نکلتے؟ کیا ن لیگ پنجاب میں ق لیگ بننے جا رہی ہے؟ اور کیا مریم نواز پنجاب کے عوام اور یوتھ کو کسی نئی سوچ اور نظریہ کیساتھ ن لیگ کی جانب کھینچ سکیں گی؟ کیا نواز شریف کا ایسا سیاسی ورثہ ہے جسکی جانب مریم نواز فخر سے اشارہ کر سکیں گی؟ اس سے پہلے کہ اب کوئی میاں صاحب کو نکالتا میاں صاحب خود ہی پتلی گلی سے نکل لئیے، اب ووٹ کے لئیےباہر نکالے گئے ووٹروں کا سوال ہو گا کہ "میاں صاحب ہمیں کیوں نکالا"؟ الیکشن پانچ سال بعد ہوتے یا پانچ ماہ بعد لگتا ہے کہ میاں صاحب کو پورے پنجاب کا فارم ۴۵ خواب میں آ کر ڈرا رہا ہے ۔ ۲۰۲۴ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد میاں صاحب نے سوچا ہو گا کہ بیچارے جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ۲۰۱۸ میں کونسا کوئی ناقابلِ معافی گناہ کبیرہ کر دیا ہو گا۔
۹ مئی والا اندر ہے اور لیول پلئینگ فیلڈ کے لئیے ۲۸ مئی والا بارہ پتھر باہر، مائنس ٹو ہو چکا- لوگ تو پوچھیں گے نا کہ کیا یہ سب کسی لندن پلان کا حصہ تھا؟ کیا اب کی بار یہی ڈیل تھی اسٹیبلشمن�� کیساتھ کہ شیر پنجرے میں جائے گا اور نہ ہی جنگل میں بادشاہت کے لئیے چھوڑا جائیگا، جیل اور اقتدار دونوں میں واپسی نہ ہوگی اور اسکے بدلے اُسکی بیٹی کو وزارت اعلیٰ اور بھائی کو وزارت عظمی کی نوکری پر رکھ لیا جائیگا؟ نواز شریف کا وزارت عظمی سے دستبرداری کا فیصلہ در حقیقت قومی اسمبلی اور عملی سیاست سے بھی پییچھے ہٹنے کا آغاز ہے۔ لگتا ہے انکی زندگی کے دو ہی مقاصد تھے، ایک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا اور دوسرا مریم بیٹی کو وزیر اعلی پنجاب بنانا۔
میاں صاحب کے سیاسی منظر نامے سے کھسکنے کی ایک اور وجہ بھی ہے، میاں صاحب کے دو انتخابی حلقوں میں نتائج ایسے مرتب کئیے گئے کہ وہ انکے گلے کی ہڈی بن گئے۔ اب ایسے نتائج کی بنیاد پر کوئی وزیر اعظم بنے اور عدالت اسکی انتخابی جیت کالعدم کر دے تو اسکی جماعت کا کیا بنے گا؟ ویسے بھی خان کو اندر کرنے والی عدالتیں دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی نا؟ ایسے انتخابی نتائج کے ذریعے نواز شریف کیساتھ شاید وہ ہاتھ کیا گیا ہے کہ جو وہ کسی کو بتانے جوگے بھی نہیں- بلکل ویسے ہی جیسے ایک ریٹائرڈ کرنل کو ایک پراپرٹی ٹائکون نے دفتر میں بلا کر اسکے سامنے نوٹوں کی گڈیاں رکھ دی اور خفیہ ویڈیو بنا نے کے بعد وہ پیسے بھی واپس لے لئیے اور اُسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ لوگوں کو بتایا کہ اِس نے مقدمے واپس لینے کے لئیے رقم وصول کی تھی۔
میاں صاحب کی بھی واپسی ہوئی، سزائیں ختم ہوئی، الیکشن بھی لڑے اور بظاہر جیت بھی گئے۔ اگر نواز شریف وزیر اعظم بن جاتے تو ہم جیسے کہتے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے مہرے پانامہ ججوں کو عوام نے آئینہ دکھا دیا ہے، مگر بظاہر عوام کو جوتا دکھا دیا گیا ہے۔ بہتر ہوتا میاں نواز شریف ایک دھواں دار تقریر کر کے اقتدار کی دوڑ سے دستبردار ہوتے یوں خاموشی سے ایک ملزم یا مجرم کی طرح نہیں۔
میاں صاحب ہمیشہ سے ایک باپ ہی تھے قومی لیڈر نہیں، اسی لئیے اِس سے بہت کم ہی پر راضی ہو گئے اس شرط پر کہ جس طرح میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے ہتھکڑی لگائی گئی تھی اُسی طرح میری آنکھوں کے سامنے اُس سے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی کا حلف بھی لیا جائے، ایک باپ اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لئیے کتنے خواب دیکھتا ہے مگر ایسے لیڈر کی قوم جن ڈراؤنے خوابوں کے گھیرے میں ہوتی ہے اُسکا اندازہ ایک ڈیلر کیسے کر سکتا ہے۔
PS:
۲۴ سال پہلے انگریزی روزنامہ نے لیڈ لگائی
He who runs away lives to fight another day
اِس پر بے ساختہ میں نے ایک دوست سے کہا تھا
He who runs away lives to run another day