پاکستان میں گورننس اصلاحات پر میرا خصوصی کام اب چار اہم کتابوں کی صورت میں پاکستان بھر کے بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔
1۔ Fixing the Executive Branch of Government
2۔ Fixing the Legislative Branch of Government
3۔ Fixing the Judicial Branch of Government
4۔ The Bureaucratic Coup
پاکستان میں گورننس ریفارمز کا پہلا exclusive تحقیقی و علمی کام !
پاکستان میں گورننس، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور آئینی انتظامی ڈھانچے پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، لیکن چند ہی ایسی تصانیف ہیں جو ریاست کے بنیادی اداروں کو آئینی، قانونی، انتظامی اور عملی تناظر میں ایک مربوط فریم ورک کے اندر سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرتی ہوں۔ ریپبلک پالیسی کی Governance Reforms Series اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ علمی کاوش ہے۔
یہ سیریز چار کتابوں پر مشتمل ہے: Fixing the Executive، Fixing the Legislature، Fixing the Judiciary اور The Bureaucratic Coup۔ یہ چاروں کتب پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کے تین بنیادی ستونوں اور ان کے باہمی تعلقات کا گہرا تجزیہ پیش کرتی ہیں۔ ان کتابوں کا مقصد محض تنقید کرنا نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کی روح کے مطابق ایک مؤثر، جوابدہ اور جدید طرزِ حکمرانی کے لیے اصلاحات کا واضح راستہ متعین کرنا ہے۔
اس سیریز کی پہلی کتاب Fixing the Executive پاکستان میں سول سروسز ، پولیٹیکل انتظامیہ اور انتظامی ڈھانچے پر ایک منفرد علمی کام ہے۔ کتاب کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ پاکستان میں سول سروسز کا موجودہ نظام آئین کے وفاقی تصور سے ہم آہنگ نہیں۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، لیکن اس کی بیوروکریسی بڑی حد تک نوآبادیاتی اور مرکزیت پسند اصولوں پر قائم ہے۔ کتاب میں استدلال کیا گیا ہے کہ وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کی علیحدہ اور آئینی حیثیت کے مطابق ان کی اپنی انتظامی خدمات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقی وفاقیت، مؤثر گورننس اور بہتر عوامی خدمات ممکن بن سکیں۔
کتاب کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سیاسی اور انتظامی ایگزیکٹو کے درمیان جوابدہی کا رشتہ واضح ہونا چاہیے۔ اگر ایک صوبائی اسمبلی وزیرِاعلیٰ کو منتخب کرتی ہے تو انتظامی سربراہان بشمول چیف سیکرٹری و آئی جی کو بھی اسی جمہوری ڈھانچے کے اندر جوابدہ ہونا چاہیے۔ اس تصور کا مقصد بیوروکریسی کو سیاسی بنانا نہیں بلکہ اسے آئینی اور جمہوری جوابدہی کے دائرے میں لانا ہے تاکہ حکومت کے تمام انتظامی اجزاء ایک ہی عوامی مینڈیٹ کے تابع ہوں۔
Fixing the Legislature قانون ساز اداروں کی کمزوریوں، پارلیمانی نگرانی کے فقدان اور قانون سازی کے معیار کے مسائل کا جائزہ لیتی ہے، جبکہ Fixing the Judiciary عدالتی نظام کی ساخت، انصاف کی فراہمی اور عدالتی اصلاحات پر تفصیلی بحث پیش کرتی ہے۔ دوسری جانب The Bureaucratic Coup پاکستان میں بیوروکریسی کے تاریخی ارتقاء، اختیارات کے ارتکاز اور ریاستی طاقت کے انتظامی پہلوؤں کا منفرد تجزیہ فراہم کرتی ہے۔
اس سیریز کی سب سے بڑی علمی اہمیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کے آئین کو محض ایک قانونی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق کے عملی رہنما اصول کے طور پر دیکھتی ہے۔ مصنف کا موقف ہے کہ پاکستان کے اکثر گورننس مسائل کی جڑ آئینی اصولوں اور انتظامی ڈھانچوں کے درمیان عدم مطابقت میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا اصلاحات کا آغاز بھی آئین سے ہی ہونا چاہیے۔
گورننس، پبلک ایڈمنسٹریشن، پبلک پالیسی، آئینی قانون، سول سروسز، وفاقیت اور ریاستی اداروں میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین، سول سرونٹس، سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کے لیے یہ سیریز ایک بنیادی حوالہ جاتی کام کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کتابوں میں محض نظری بحث نہیں بلکہ عملی مسائل، ادارہ جاتی تجربات اور قابلِ عمل اصلاحاتی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اگر کوئی شخص یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ پاکستان میں گورننس کے مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں، ریاستی ادارے کس طرح کام کرتے ہیں، اور آئین کے مطابق ان کی اصلاح کیسے ممکن ہے، تو ریپبلک پالیسی کی Governance Reforms Series اس موضوع پر دستیاب اہم ترین اور جامع ترین لٹریچر میں شمار کی جا سکتی ہے۔
گورننس پر بہترین کام ریپبلک پالیسی کی گورننس بکس میں دستیاب ہے، جو وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سعید بک ڈپو اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
برائے رابطہ!
+92 300 9552542
پاکستان کے سب سے بڑے بیوروکریسی کے آفس چیف سیکرٹری کی تعیناتی ابھی تک غیر آئینی کیوں ہو رہی ہے؟
میری کتاب Fixing the Executive میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر ایک نہایت بنیادی اور غیر معمولی آئینی و قانونی بحث پیش کی گئی ہے، جس میں پہلی مرتبہ چیف سیکرٹری کے عہدے کو بطور ایک مرکزی ادارہ تنقیدی تجزیے کا موضوع بنایا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صوبائی نظام میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی کا طریقہ کار ایک گہری آئینی بے قاعدگی (constitutional anomaly) کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی ڈھانچے میں موجود ہے مگر اسے درست نہیں کیا گیا۔
کتاب یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ چیف سیکرٹری کا تقرر بنیادی طور پر وفاقی حکومت کے ذریعے ہوتا ہے، جو صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات میں ایک ساختی مداخلت پیدا کرتا ہے۔ نتیجتاً یہ افسر عملی طور پر نہ مکمل طور پر وزیراعلیٰ کے ماتحت ہوتا ہے، نہ صوبائی کابینہ کے، اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کی حقیقی جمہوری نگرانی کے دائرے میں آتا ہے۔ اس صورتِ حال میں صوبائی خودمختاری ایک کمزور انتظامی تصور بن کر رہ جاتی ہے، کیونکہ بیوروکریسی کی اصل کمان ایک غیر واضح وفاقی کنٹرول میں رہتی ہے۔
مصنف اس پورے نظام کو ایک تاریخی انتظامی تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کی جڑیں 1950 کی دہائی کے انتظامی انتظامات اور بعد ازاں مختلف آئینی و قانونی ایگریمنٹس میں پیوست ہیں۔ ان کے مطابق مختلف آئینی ترامیم کے باوجود اس بنیادی انتظامی ڈھانچے کو ازسرِ نو نہیں دیکھا گیا، جس کی وجہ سے ایک “ڈی فیکٹو یونٹری بیوروکریٹک اسٹرکچر” وجود میں آ گیا ہے، جو بظاہر وفاقی ہے مگر عملی طور پر مرکزیت پسند (centralized) ہے۔
کتاب میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ جب ایک صوبائی چیف ایگزیکٹو سطح کا افسر صوبائی سیاسی قیادت کے مکمل کنٹرول میں نہیں ہوتا تو اس سے نہ صرف گورننس کا توازن متاثر ہوتا ہے بلکہ لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ اختیارات کی یہ غیر متوازن تقسیم ایک ایسے انتظامی ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں سیاسی ذمہ داری اور انتظامی اختیار ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، اور یہی وہ خلا ہے جسے مصنف پاکستان کے انتظامی نظام کی بنیادی کمزوری قرار دیتے ہیں۔
مصنف کے مطابق اس نظام کو درست کیے بغیر حقیقی وفاقیت (true federalism) کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ اگر چیف سیکرٹری کی تعیناتی اور جوابدہی کو واضح طور پر صوبائی حکومت کے دائرے میں نہیں لایا جاتا تو صوبائی خودمختاری محض ایک آئینی نعرہ رہ جاتی ہے، عملی حقیقت نہیں بنتی۔ اسی تناظر میں کتاب Fixing the Executive اور The Bureaucratic Coup پاکستان کے انتظامی نظام میں ایک بنیادی اصلاحاتی بحث کا آغاز کرتی ہے، جو بیوروکریسی، وفاقیت اور جمہوری احتساب کے درمیان تعلق کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
ریپبلک پالیسی کی کتابیں The Bureaucratic Coup & Fixing the Executive وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سید بک ڈپو اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
برائے رابطہ
+92 300 9552542
As a civil servant, I am absolutely convinced that Pakistan can't grow with this colonial generalist bureaucracy.
It must be disbanded and restructured on democratic federalism.
پاکستانی نوجوان بالخصوص CSS/PMS کے Aspirants کیسے سول سروس گروپ کا انتخاب کرتے ہیں؟
پاکستان کی بیوروکریسی ایک پیچیدہ اور کثیر سطحی انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں مختلف سروس گروپس ریاستی امور کی انجام دہی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم طاقت، اختیارات، ادارہ جاتی اثرورسوخ اور کیریئر پروگریشن کے اعتبار سے تمام سروسز یکساں حیثیت نہیں رکھتیں۔ عملی طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)، پولیس سروس آف پاکستان (PSP) اور صوبائی مینجمنٹ سروس (PMS) ملک کی تین بنیادی انتظامی سروسز تصور کی جاتی ہیں۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس تاریخی طور پر ریاست کی سب سے بااثر سول سروس رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا جنرل کیڈر ہونا ہے، جس کے افسران وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور مختلف خودمختار و نیم خودمختار اداروں میں اعلیٰ انتظامی مناصب پر تعینات ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہزار سے زائد سرکاری اداروں اور تنظیموں میں قیادت کی متعدد اہم پوزیشنیں اس سروس کے افسران کے لیے دستیاب رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے PAS کے افسران کو کیریئر کے دوران متنوع تجربات، وسیع اختیارات اور گریڈ 22 تک پہنچنے کے نسبتاً زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔
ماضی میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ پاکستان کی انتظامی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ عدلیہ اور پولیس کی علیحدگی، اختیارات کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کے ارتقا کے باعث اس عہدے کی روایتی حیثیت میں کمی آئی، تاہم مالیاتی، ریگولیٹری اور کوآرڈینیشن اختیارات نے اسے اب بھی ضلعی انتظامیہ کا مرکزی ستون بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ PAS مسلسل اس کوشش میں رہتی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو ریاستی گورننس کے بنیادی مرکز کے طور پر برقرار رکھا جائے۔
پولیس سروس آف پاکستان ملک کی دوسری بڑی طاقتور سروس سمجھی جاتی ہے۔ ریاستی طاقت کے کلاسیکی نظریات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی حکومت کی بنیادی قوت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں PSP کے افسران ضلعی پولیس، صوبائی پولیس، وفاقی تحقیقاتی اداروں اور مختلف تربیتی و انٹیلی جنس ڈھانچوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ پولیس کو اپنے اختیارات کے استعمال میں عدلیہ اور قانونی ضابطوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے، لیکن عملی سیاست اور انتظامی امور میں اس کا اثرورسوخ نمایاں ہے۔ PSP کی قیادت بھی مسلسل اس بات کی کوشش کرتی رہی ہے کہ اس کے افسران کو گریڈ 22 تک زیادہ مواقع ملیں اور ادارہ جاتی دائرۂ کار مزید وسیع ہو۔
صوبائی مینجمنٹ سروس (PMS) اگرچہ وفاقی سطح پر PAS جیسی رسائی نہیں رکھتی، لیکن صوبائی گورننس میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صوبائی خودمختاری کے بعد صوبائی بیوروکریسی کے کردار میں اضافہ ہوا ہے اور کئی اہم انتظامی عہدے PMS افسران کے لیے دستیاب ہوئے ہیں۔ صوبائی سطح پر پالیسی کے نفاذ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں یہ سروس ایک اہم ستون کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس بھی انتہائی اہم سروسز ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس PAS یا PSP جیسا وسیع انتظامی دائرۂ اختیار نہیں ہوتا، لیکن ریاستی مالیات، ٹیکس وصولی، تجارت اور ریونیو مینجمنٹ میں ان کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالیاتی وسائل ریاستی صلاحیت کا بنیادی پیمانہ ہیں، وہاں ان سروسز کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے سول سروس کے امیدوار اختیارات کے ساتھ ساتھ مالیاتی امکانات اور پیشہ ورانہ مواقع کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
دیگر گروپس جیسے آفس مینجمنٹ گروپ (OMG)، کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ، پوسٹل گروپ، ریلوے گروپ اور مختلف تکنیکی سروسز اپنی مخصوص افادیت رکھتے ہیں، لیکن ریاستی طاقت کے مرکزی ڈھانچے میں ان کا کردار نسبتاً محدود ہے۔ ان سروسز کے افسران مخصوص شعبوں میں مہارت اور انتظامی خدمات فراہم کرتے ہیں، تاہم انہیں عمومی طور پر وہ ادارہ جاتی اثرورسوخ حاصل نہیں ہوتا جو PAS، PSP یا بعض صورتوں میں PMS کو حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کی بیوروکریسی میں اگر کسی سروس کو حقیقی معنوں میں "Government" کہا جا سکتا ہے تو وہ PAS اور PMS ہیں۔ ضلع سے لے کر سیکرٹریٹ تک، پالیسی سے لے کر عملدرآمد تک، ریاستی مشینری کا انتظامی چہرہ یہی افسران ہوتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں، مگر گورننس کا تسلسل انہی کے ذریعے برقرار رہتا ہے۔
یہ موضوع ریپبلک پالیسی کی کتاب Bureaucratic Row میں تفصیل سے زیر بحث آیا ہے۔ یہ پاکستان میں بیوروکریسی کے ڈھانچے پر ایک منفرد اور اصل تحقیقی کاوش ہے، جو CSS اور PMS کے امیدواروں، سول سرونٹس، محققین اور پبلک پالیسی کے طلبہ کے لیے مفید مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کتاب وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سید بک ڈپو اسلام آباد اور ملک کے دیگر معروف کتب خانوں پر دستیاب ہے۔
سول سروسز کے باہمی تنازعات اور پاور کنٹرول !
پاکستانی سول سروسز میں مختلف سروس گروپس کے درمیان اختیارات، عہدوں، کیریئر پروگریشن اور انتظامی اختیار کے حوالے سے اختلافات ایک پرانا اور مستقل مسئلہ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، Pakistan Administrative Service (PAS) اور Police Service of Pakistan (PSP) کے درمیان اختیارات اور انتظامی کنٹرول کے حوالے سے اختلافات تاریخی طور پر موجود ہیں۔ اسی طرح وفاق میں PAS اور Office Management Group (OMG) کے درمیان پوسٹنگز، پروموشنز اور سروس اسٹرکچر کے معاملات پر تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ دیگر وفاقی سروسز، جیسے Inland Revenue Service، Customs، Railways اور دیگر گروپس کے ساتھ بھی وقتاً فوقتاً اسی نوعیت کے مسائل سامنے آتے ہیں، خصوصاً جب ایک سروس کے افسران کو دوسری سروس کے لیے مختص عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔
تاہم، سول سروسز کا سب سے اہم اور بنیادی آئینی و ساختیاتی تنازعہ وفاقی Pakistan Administrative Service (PAS) اور صوبائی Provincial Management Service (PMS) کے درمیان ہے۔ یہ محض سروس اسٹرکچر کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کی تقسیم سے جڑا ہوا ایک بنیادی آئینی سوال ہے۔ ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Code میں اس مسئلے کا تفصیلی آئینی اور علمی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 240، 241 اور 242، انتظامی وفاقیت (Administrative Federalism)، قانون سازی پر مبنی وفاقیت (Legislative Federalism) اور مالیاتی وفاقیت (Fiscal Federalism) کے تناظر میں اس سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سول سروسز کی آئینی حیثیت کیا ہے۔
اس تحقیق میں صوبائی افسران کی جانب سے مختلف عدالتوں میں دائر کی گئی درخواستوں، وفاقی مؤقف، نوآبادیاتی دور کی Central Services اور Provincial Services کی اسکیم، اور پاکستان سروسز کے ارتقاء کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں کتاب ایک علمی اور آئینی تجزیے کی بنیاد پر ایک ججمنٹ لکھتی ہے کہ صوبوں میں وفاقی افسران کی تعیناتی کی آئینی حدود کیا ہیں، کن حالات میں یہ تعیناتیاں جائز ہو سکتی ہیں، اور وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی سروسز کے درمیان آئینی تفریق کس نوعیت کی ہے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی بنیادی سفارش یہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی وفاقیت (Administrative Federalism) کو آئین کے تقاضوں کے مطابق نافذ کیا جائے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح ہو، ادارہ جاتی تنازعات کم ہوں اور ریاستی نظم و نسق زیادہ مؤثر اور آئینی بنیادوں پر استوار ہو سکے۔
فیڈرلزم پر بہترین کام ریپبلک پالیسی کی گورننس بکس میں دستیاب ہے، جو وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سید بک ڈپو اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
برائے رابطہ!
+92 300 9552542
کیا خواتین سول سرونٹس سخت گیر ایڈمنسٹریٹرز ہوتی ہیں؟
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی کتاب The Bureaucratic Coup سے ایک اقتباس !
خواتین کی سول سروس میں بڑھتی ہوئی شمولیت پاکستان کے انتظامی نظام میں ایک اہم سماجی اور ادارہ جاتی تبدیلی ہے۔ وومن امپاورمنٹ کے تناظر میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ آج خواتین نہ صرف سول سروس میں نمایاں تعداد میں موجود ہیں بلکہ پولیس، ضلعی انتظامیہ، پالیسی سازی اور دیگر کلیدی انتظامی مناصب پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نے انتظامی کارکردگی، ادارہ جاتی کلچر اور عوامی خدمت کی فراہمی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس موضوع پر پاکستان میں بہت کم سنجیدہ تحقیق یا مکالمہ ہوا ہے۔ عمومی طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ خواتین افسران نسبتاً زیادہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرتی ہیں، مالی بے ضابطگیوں سے گریز کرتی ہیں اور انتظامی معاملات میں احتیاط کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ دوسری طرف، بیوروکریسی کے اندر یہ مشاہدہ بھی پایا جاتا ہے کہ خواتین مردوں جیسی ہی سول سرونٹس ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم ایک مشاہدہ قدرے تواتر سے سامنے آتا ہے کہ خواتین افسران اپنے ماتحت عملے کے ساتھ زیادہ سخت اور غیر لچکدار رویہ اختیار کرتی ہیں۔ بعض سرکاری ملازمین کی شکایت ہوتی ہے کہ خواتین سربراہان کے ماتحت چھٹی، انتظامی رعایت یا انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلے حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
کتاب کے مصنف کے مطابق ایک واقعہ اس تاثر کی عکاسی کرتا ہے جو بعض سرکاری محکموں میں خواتین افسران کے انتظامی اندازِ کار کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ مصنف بیان کرتے ہیں کہ ایک ڈپٹی سیکرٹری کے والد کے انتقال کے صرف دو دن بعد متعلقہ خاتون سیکرٹری نے اپنے عملے کے ذریعے انہیں پیغام بھجوایا کہ وہ اپنی چھٹی ختم کرکے فوری طور پر دفتر واپس آجائیں۔ ڈپٹی سیکرٹری کی توقع تھی کہ ان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جائے گا، تاہم انہیں انتظامی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے واپسی کی ہدایت دی گئی۔ جب انہوں نے اپنے والد کی تدفین اور دیگر خاندانی ذمہ داریوں کی تکمیل تک چھٹی جاری رکھنے پر اصرار کیا تو انہیں سرنڈر کرنے کی دھمکی دی گئی، اور بعد ازاں سرکاری گاڑی اور اس سے متعلق سہولیات بھی واپس لینے کا حکم جاری کردیا گیا۔ مصنف کے نزدیک یہ واقعہ انتظامی سختی کی ایک مثال ہے جس میں انسانی ہمدردی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن برقرار نہیں رکھا گیا۔ اگرچہ بہت سی خواتین افسران اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں، اعتدال اور بہترین انسانی رویوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں، تاہم سیاست دانوں، سرکاری ملازمین اور ماتحت عملے میں یہ تاثر موجود ہے کہ خواتین افسران نسبتاً زیادہ سخت گیر طرزِ عمل اختیار کرتی ہیں، جس کے باعث ان کے ساتھ کام کرنا بعض اوقات مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس تاثر کو یہ ڈیٹا بھی تقویت دیتا ہے کہ خواتین افسران کی اکثریت خواتین افسران کے ساتھ کام کرنے کو بھی ترجییح نہی دیتی ، اور آفیشلز اور اٹیچ ڈیپارٹمنٹس کے ملازمین بھی خواتین ایڈمنسٹریٹرز کے ساتھ comfortable نہی ہوتے۔
تاہم، اس رجحان کو محض جنس کے ساتھ جوڑ دینا یا generalize کرنا علمی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت پاکستانی بیوروکریسی کی مجموعی ساخت ہی ایسی ہے جو اکثر افسران کو احتیاط، شک اور فیصلہ سازی میں غیر ضروری سختی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ آیا خواتین افسران نظام کے اندر موجود انہی رجحانات کا اظہار کرتی ہیں یا ان میں کوئی منفرد انتظامی رویہ بھی پایا جاتا ہے۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب Bureaucratic Coup میں بیان کردہ ایک واقعہ اسی بحث کو اجاگر کرتا ہے۔ اس واقعے میں ایک ڈپٹی سیکرٹری کو اپنے والد کی وفات کے بعد انتظامی ہمدردی اور سہولت فراہم کرنے کے بجائے سخت انتظامی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا بعض اوقات قواعد و ضوابط کی سختی انسانی ہمدردی اور انتظامی حساسیت پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف خواتین یا مرد افسران تک محدود نہیں بلکہ مجموعی انتظامی کلچر سے متعلق ہے، تاہم اس واقعے نے خواتین قیادت کے انداز پر ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے، کیونکہ ایسے رجحانات خواتین انتظامی افسران کے ماتحت زیادہ سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس ایک واقعہ کو generalize نہی کیا جا سکتا۔
پاکستانی بیوروکریسی کے مختلف پہلوؤں اور ادارہ جاتی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے ریپبلک پالیسی کی کتاب Bureaucratic Coup ایک اہم مطالعہ ہے، جو سول سروس میں آنے والے امیدواروں، سرکاری افسران اور پبلک پالیسی کے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
کتاب وین گارڈ بکس ، ریڈنگز، سنگ میل، سعید بک سٹورز اور باقی بک سٹورز پر دستیاب ہے۔
برائے رابطہ!
+92 300 9552542
Launched @EPBDT’s following Documents at the FPCCI Lahore on May 25th:
1) Shadow Federal Budget
2) Shadow Economic Survey
3) Shadow 5-Year Development Plan
4) Shadow Tax Policy & Tax Administration Reform paper.
Anybody interested may check them out at EPBD’s website.
پولیس، بیوروکریسی اور سفارش
پولیس پاکستان کی بیوروکریسی کا ایک لازمی اور طاقتور حصہ ہے۔ پولیس کی داخلی ورکنگ اور افسران کے باہمی تعلقات کو سمجھنے کے لیے ایک سابق ڈی پی او کا بیان کردہ واقعہ نہایت دلچسپ اور معنی خیز ہے۔
کتاب کے مصنف کو ایک دوست، جو مختلف اضلاع میں ڈی پی او کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے، نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک اہم فوجداری مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے۔ کیس کی نوعیت سنگین تھی اور ملزم کے بعض قریبی اہلِ خانہ کو تفتیش کی غرض سے تھانے لایا گیا تھا۔ اسی دوران ان کے آر پی او (ڈی آئی جی) کی کال آئی اور ہدایت دی گئی کہ ان افراد کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔
ڈی پی او نے مؤدبانہ انداز میں عرض کیا کہ کیس حساس ہے اور ان افراد کی موجودگی تفتیش کے لیے ضروری ہے، لیکن جب سینئر افسر کی جانب سے اصرار بڑھا تو انہوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں چھوڑ دیا۔ پولیس سروس میں کمانڈ اور چین آف کمانڈ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عملی طور پر کئی مواقع پر افسران اپنے سروس گروپ، بیچ یا ادارہ جاتی تعلقات کو قانون اور میرٹ سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماتحت افسر کے لیے سینئر افسر کی ہدایت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ اگلے ہی دن اسی آر پی او کی دوبارہ کال آئی اور ہدایت دی گئی کہ جن افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا، انہیں دوبارہ حراست میں لیا جائے۔ ڈی پی او اس حکم پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک بار قانونی کارروائی مکمل کر کے افراد کو رہا کیا جا چکا ہے، اب دوبارہ گرفتاری کس بنیاد پر کی جائے؟
اس پر آر پی او نے جو جواب دیا، وہ بیوروکریسی کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے خاصا اہم ہے۔ ان کے مطابق جس شخص کی سفارش پر یہ افراد رہا کیے گئے تھے، اس نے بعد ازاں مناسب انداز میں شکریہ ادا نہیں کیا۔ آر پی او کے بقول انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے ایک غیر معمولی سہولت پیدا کی تھی، لیکن اس شخص نے نہ تو ذاتی طور پر رابطہ کیا اور نہ ہی اس احسان کا خاطر خواہ اعتراف کیا۔ اس پر ڈی پی او نے دوبارہ گرفتاری ڈال دی۔ حیران کن طور پر کچھ گھنٹوں کے بعد ڈی آئی جی نے ڈی پی او کو دوبارہ کال کی اور کہا کہ بندوں کو چھوڑ دیا جائے ۔ ڈی پی او کے استفسار کرنے پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ اب سفارش والا شخص خود اس کے پاس آیا تھا اور obliging تھا ۔
یہ واقعہ پاکستانی بیوروکریسی کے ایک غیر رسمی مگر طاقتور کلچر کی نشاندہی کرتا ہے۔ سرکاری قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ تعلقات، ذاتی روابط، احساسِ احسان اور باہمی وفاداریاں بھی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ طرزِ عمل کسی قانونی یا انتظامی اصول کا حصہ نہیں، لیکن عملی دنیا میں اکثر لوگ اس کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں۔
یہ قصہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف قوانین کے تحت ہی نہیں چلتے بلکہ ان کے اندر انسانی نفسیات، ذاتی تعلقات اور غیر رسمی طاقت کے ڈھانچے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ بیوروکریسی کو سمجھنے کے لیے صرف قواعد و ضوابط کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود غیر تحریری روایات اور ثقافت کو بھی جاننا ضروری ہے۔
آخر میں اگر کوئی بیوروکریٹ آپ کا کام کر دیے تو اسکا شکریہ بمعہ تحفہ دینا نہ بھولیے گا۔ یہ سطر طنزیہ ہے۔
بیوروکریسی کی ساخت اور ورکنگ پر ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup
ضرور پڑھیں ، جو پاکستان میں ریاستی اداروں، سول سروس اور اقتدار کے عملی ڈھانچوں کو سمجھنے کی ایک اہم کاوش ہے۔ یہ کتاب Vanguard Books، Readings، Sang-e-Meel اور پاکستان کے دیگر معروف کتاب فروش اداروں پر دستیاب ہے۔
+92 300 9552542
For contact
سول سرونٹس کا مضحکہ خیز پہلو یہ بھی کہ اگر وہ کسی کو oblige کرتے ہیں تو متعلقہ فرد کو اچھی خاصی تابعداری کرنی پڑتی ہے۔
اس کلچر میں نیکی کر دریا میں ڈال والا تصور نہی ہے۔
پولیس، بیوروکریسی اور سفارش
پولیس پاکستان کی بیوروکریسی کا ایک لازمی اور طاقتور حصہ ہے۔ پولیس کی داخلی ورکنگ اور افسران کے باہمی تعلقات کو سمجھنے کے لیے ایک سابق ڈی پی او کا بیان کردہ واقعہ نہایت دلچسپ اور معنی خیز ہے۔
کتاب کے مصنف کو ایک دوست، جو مختلف اضلاع میں ڈی پی او کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے، نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک اہم فوجداری مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے۔ کیس کی نوعیت سنگین تھی اور ملزم کے بعض قریبی اہلِ خانہ کو تفتیش کی غرض سے تھانے لایا گیا تھا۔ اسی دوران ان کے آر پی او (ڈی آئی جی) کی کال آئی اور ہدایت دی گئی کہ ان افراد کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔
ڈی پی او نے مؤدبانہ انداز میں عرض کیا کہ کیس حساس ہے اور ان افراد کی موجودگی تفتیش کے لیے ضروری ہے، لیکن جب سینئر افسر کی جانب سے اصرار بڑھا تو انہوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں چھوڑ دیا۔ پولیس سروس میں کمانڈ اور چین آف کمانڈ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عملی طور پر کئی مواقع پر افسران اپنے سروس گروپ، بیچ یا ادارہ جاتی تعلقات کو قانون اور میرٹ سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماتحت افسر کے لیے سینئر افسر کی ہدایت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ اگلے ہی دن اسی آر پی او کی دوبارہ کال آئی اور ہدایت دی گئی کہ جن افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا، انہیں دوبارہ حراست میں لیا جائے۔ ڈی پی او اس حکم پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک بار قانونی کارروائی مکمل کر کے افراد کو رہا کیا جا چکا ہے، اب دوبارہ گرفتاری کس بنیاد پر کی جائے؟
اس پر آر پی او نے جو جواب دیا، وہ بیوروکریسی کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے خاصا اہم ہے۔ ان کے مطابق جس شخص کی سفارش پر یہ افراد رہا کیے گئے تھے، اس نے بعد ازاں مناسب انداز میں شکریہ ادا نہیں کیا۔ آر پی او کے بقول انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے ایک غیر معمولی سہولت پیدا کی تھی، لیکن اس شخص نے نہ تو ذاتی طور پر رابطہ کیا اور نہ ہی اس احسان کا خاطر خواہ اعتراف کیا۔ اس پر ڈی پی او نے دوبارہ گرفتاری ڈال دی۔ حیران کن طور پر کچھ گھنٹوں کے بعد ڈی آئی جی نے ڈی پی او کو دوبارہ کال کی اور کہا کہ بندوں کو چھوڑ دیا جائے ۔ ڈی پی او کے استفسار کرنے پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ اب سفارش والا شخص خود اس کے پاس آیا تھا اور obliging تھا ۔
یہ واقعہ پاکستانی بیوروکریسی کے ایک غیر رسمی مگر طاقتور کلچر کی نشاندہی کرتا ہے۔ سرکاری قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ تعلقات، ذاتی روابط، احساسِ احسان اور باہمی وفاداریاں بھی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ طرزِ عمل کسی قانونی یا انتظامی اصول کا حصہ نہیں، لیکن عملی دنیا میں اکثر لوگ اس کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں۔
یہ قصہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف قوانین کے تحت ہی نہیں چلتے بلکہ ان کے اندر انسانی نفسیات، ذاتی تعلقات اور غیر رسمی طاقت کے ڈھانچے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ بیوروکریسی کو سمجھنے کے لیے صرف قواعد و ضوابط کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود غیر تحریری روایات اور ثقافت کو بھی جاننا ضروری ہے۔
آخر میں اگر کوئی بیوروکریٹ آپ کا کام کر دیے تو اسکا شکریہ بمعہ تحفہ دینا نہ بھولیے گا۔ یہ سطر طنزیہ ہے۔
بیوروکریسی کی ساخت اور ورکنگ پر ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup
ضرور پڑھیں ، جو پاکستان میں ریاستی اداروں، سول سروس اور اقتدار کے عملی ڈھانچوں کو سمجھنے کی ایک اہم کاوش ہے۔ یہ کتاب Vanguard Books، Readings، Sang-e-Meel اور پاکستان کے دیگر معروف کتاب فروش اداروں پر دستیاب ہے۔
+92 300 9552542
For contact
ریپبلک پالیسی کی ریسرچ کے مطابق سب سے ذیادہ مایوس کن کارکردگی نظام تعلیم کی ہے۔ پاکستانی ریاست جو نصاب نوجوانوں کو پڑھا رہی ہے، حقیقت میں وہ نوجوانوں کے career سے کھیل رہی ہے۔
مصنف کے نزدیک پاکستان میں گورننس پر اپنی تحقیق کے دوران مجھے ملک کے تقریباً سو سرکاری اداروں کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس پورے عمل میں جس شعبے نے مجھے سب سے زیادہ مایوس کیا، وہ تعلیم کا شعبہ تھا۔ تعلیم چونکہ ایک صوبائی معاملہ ہے، اس لیے چاروں صوبوں میں مختلف تعلیمی محکمے موجود ہیں، جیسے پنجاب میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ۔ تاہم، ان تمام اداروں کے مطالعے کے بعد جو مسئلہ سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا، وہ پاکستان کا فرسودہ اور غیر مؤثر نصاب Curriculum ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اسکولوں، کالجوں اور حتیٰ کہ بہت سی جامعات میں پڑھایا جانے والا نصاب جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ یہ نصاب نہ صرف بین الاقوامی سطح پر مسابقت کی صلاحیت پیدا کرنے میں ناکام ہے بلکہ مقامی سماجی اور معاشی ضروریات کو بھی پورا نہیں کرتا۔ دنیا تیزی سے علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، تحقیق اور اختراع کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارا نصاب ابھی تک ماضی کی سوچ اور طریقہ کار میں جکڑا ہوا ہے۔
تعلیم کا بنیادی مقصد طلبہ کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے تعلیمی سطح بلند ہوتی ہے، نصاب کو زیادہ اسکل بیسڈ، ریسرچ بیسڈ، سائنسی، ڈیٹا ڈرائیون اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ طلبہ کو ایسے مضامین اور مواد پڑھائے جا رہے ہیں جو عملی زندگی، جدید معیشت اور عالمی روزگار کی منڈی سے کمزور تعلق رکھتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کے پاس وہ مہارتیں نہیں ہوتیں جو اکیسویں صدی کی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
یہ صورتحال صرف طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ پاکستان کے انسانی وسائل کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ ایک ملک کی سب سے بڑی دولت اس کے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں ایسا نصاب دیا جائے جو ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے محدود کر دے تو اس کا نقصان پوری معیشت، معاشرے اور ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آج کے نوجوان اپنے موبائل فونز، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ سے جتنا سیکھ رہے ہیں، کئی مرتبہ نصاب اس سے پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب ان کی شخصیت، تخلیقی صلاحیتوں اور فکری نشوونما میں وہ کردار ادا نہیں کر پا رہا جو اسے کرنا چاہیے۔
پاکستان کو اگر ترقی یافتہ اور مسابقتی ریاست بننا ہے تو تعلیم کے نظام خصوصاً نصاب کی فوری اصلاح ناگزیر ہے۔ نئی عمارتیں، نئے کالج اور نئی جامعات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ جدید، معیاری اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ نصاب سازی کے عمل میں ایسے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے جو عالمی تعلیمی رجحانات، جدید علوم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے واقف ہوں۔
اس کے ساتھ نصاب کمیٹیوں کی تشکیل کے موجودہ طریقہ کار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کمیٹیوں میں حقیقی ماہرین کے بجائے بیوروکریسی سے وابستہ افراد، ان کے قریبی حلقوں یا عمومی نوعیت کے منتظمین کو شامل کر لیا جاتا ہے۔ نتیجتاً نصاب میں وہ جدت اور فکری تازگی پیدا نہیں ہو پاتی جس کی ضرورت ہے۔ نصاب سازی کو ایک خصوصی اور پیشہ ورانہ عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں تعلیمی ماہرین، سائنس دان، صنعت سے وابستہ افراد، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور محققین کو مرکزی کردار دیا جائے۔
علم اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں تبدیلی کی رفتار غیر معمولی ہو چکی ہے۔ جو قومیں اس رفتار کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں، جبکہ جو ایسا نہیں کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو ایک بہتر مستقبل دینا چاہتے ہیں اور قومی ترقی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو نصاب کی جدید کاری کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ بصورت دیگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کے مواقع اور ملک کے مستقبل دونوں کو محدود کرتے رہیں گے۔
یہ نوٹ آپ کی کتابِ گورننس کے ایک باب "تعلیم، نصاب اور انسانی وسائل کا بحران" کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی اصلاحات پر مبنی بکس وین گارڈ بکس ، ریڈنگز ، سنگ میل اور دوسرے کتاب خانوں پر دستیاب ہیں ۔
Pakistan's anti corruption agencies can't stop it. Corruption is a cultural issue now and sadly , a large segment of society approves it.
Pakistan needs a cultural response against corruption.
تحصیل دار، میجر اور کرپشن کی روک تھام!
پاکستان میں کرپشن پر بہت بات ہوتی ہے، مگر کرپشن کی ثقافتی اور ساختی جڑوں پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض نگرانی، احتساب یا وقتی مہمات اس مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کر پاتیں۔ جب کوئی خرابی ایک ثقافتی رویے کی شکل اختیار کر لے تو اسے صرف انتظامی اقدامات سے ختم نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے سماجی، ادارہ جاتی اور فکری اصلاحات درکار ہوتی ہیں۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مصنف، جو اس وقت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تھے، کو ان کے ایک تحصیل دار نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کے دفتر میں ایک فوجی میجر روزانہ آ کر بیٹھتے تھے تاکہ کرپشن کی روک تھام کی جا سکے۔ میجر صاحب نہایت دیانت دار افسر سمجھے جاتے تھے اور مسلسل نگرانی کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تحصیل دار اور میجر صاحب کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی قائم ہو گئے۔
جب میجر صاحب کی تعیناتی ختم ہوئی تو ایک روز ملاقات کے دوران انہوں نے فخر سے کہا کہ ان کے دور میں کرپشن کافی کم ہو گئی تھی۔ اس پر تحصیل دار نے برجستہ جواب دیا: "سر، آپ کے دور میں ہم نے پہلے سے دوگنے پیسے لیے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے ہم دفتر میں رقم لیتے تھے، اور جب آپ دفتر میں بیٹھنے لگے تو ہم لوگوں سے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ملنے لگے اور وہاں دوگنی رقم وصول کرتے تھے۔"
یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کرپشن محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا ثقافتی اور ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب بدعنوانی کے طریقے نگرانی کے ساتھ خود کو ڈھال لیں تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ افراد سے بڑھ کر نظام اور معاشرتی رویوں میں سرایت کر چکا ہے۔ اس لیے کرپشن کے خلاف جنگ کو صرف احتساب کی مہم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور ادارہ جاتی اصلاحی منصوبے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
پاکستانی بیوروکریسی، ریاستی ڈھانچے اور اقتدار کی پیچیدہ حرکیات کو سمجھنے کے لیے The Bureaucratic Coup ایک اہم اور مقبول کتاب ہے۔ یہ کتاب وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، سعید بکس، دی بکس، اسلام آباد سمیت ملک بھر کے معروف کتاب فروشوں سے دستیاب ہے۔
پاکستانی سول سروس: میرٹ، گروہی وابستگیاں اور انتظامی حقیقتیں
پاکستان کی سول سروس میں براہِ راست بھرتی کا نظام عمومی طور پر میرٹ پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ وفاقی سطح پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) اور صوبائی سطح پر صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں میں امیدواروں کا انتخاب زیادہ تر مسابقتی امتحانات اور انٹرویوز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات مختلف صوبوں، خصوصاً سندھ اور بلوچستان، میں بھرتیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ابتدائی تقرریوں کو نسبتاً میرٹ پر مبنی تصور کیا جاتا ہے۔
تاہم، سول سروس میں داخلے کے بعد کیریئر کا دوسرا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں پوسٹنگز، ٹرانسفرز اور بعض اوقات ترقیوں کے معاملات محض پیشہ ورانہ قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ سیاسی ترجیحات، انتظامی ضرورتیں، ذاتی تعلقات، گروہی وابستگیاں، صوبائی شناخت اور بعض اوقات برادری یا فرقہ وارانہ پس منظر بھی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
بعض مبصرین کا مؤقف ہے کہ جب کسی خاص برادری، علاقے یا فرقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی یا انتظامی قیادت اقتدار میں آتی ہے تو اس کے زیرِ اثر افراد کو نسبتاً زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ اسی طرح راجپوت، گجر، کشمیری، پٹھان، بلوچ یا دیگر سماجی گروہوں کے بارے میں بھی ایسے تاثرات پائے جاتے ہیں کہ بعض اوقات ان کی نمائندگی یا اثر و رسوخ سرکاری معاملات میں کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ ایک عمومی تاثر ہے اور اس کی شدت مختلف ادوار، صوبوں اور اداروں میں مختلف ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اداروں میں تقرریوں کے فیصلے اکثر متعدد عوامل کے امتزاج سے ہوتے ہیں۔ کسی افسر کی پیشہ ورانہ صلاحیت، سیاسی قیادت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ، ادارہ جاتی ضروریات، اعتماد، تجربہ، علاقائی نمائندگی اور انتظامی ترجیحات سب عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام فیصلے صرف میرٹ پر ہوتے ہیں یا تمام فیصلے صرف برادری اور تعلقات کی بنیاد پر ہوتے ہیں؛ عملی صورت حال ان دونوں انتہاؤں کے درمیان واقع ہے۔
پاکستانی بیوروکریسی کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے مختلف سیاسی ادوار اور ریاستی بحرانوں کے باوجود ریاستی نظم و نسق کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم شفافیت، احتساب، کارکردگی پر مبنی ترقی اور پوسٹنگ کے نظام میں مزید اصلاحات کی ضرورت بدستور موجود ہے تاکہ عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ ہو سکے۔
اس کے علاوہ پاکستانی سول سروس میں غیر رسمی گروپس گروہی ڈھانچے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مختلف سروس گروپس، بیچز، علاقائی تعلقات اور بااثر سینئر افسران کے گرد ایسے نیٹ ورکس تشکیل پاتے ہیں جو اپنے اراکین کی پوسٹنگز، تبادلوں، ترقیوں اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ کے تحفظ کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ گروہی وابستگیاں بعض اوقات میرٹ اور پیشہ ورانہ کارکردگی سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں طاقت اور مواقع چند حلقوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ افسران جو کسی مضبوط گروہ، سرپرست یا نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہوتے، اکثر اپنے پورے کیریئر میں زیادہ مشکلات، محدود مواقع اور انتظامی تنہائی کا سامنا کرتے ہیں۔ یوں سول سروس کے رسمی قواعد کے ساتھ ساتھ غیر رسمی طاقت کے مراکز بھی کیریئر کی سمت اور رفتار کے تعین میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ عموماً ان گروپس کے ساتھ وابستہ سول سرونٹس کو کماو پوت کہا جاتا ہے۔
پاکستانی سول سروس، اس کے طاقت کے ڈھانچوں، سیاسی اثرات اور انتظامی حرکیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے "The Bureaucratic Coup" از تاریق محمود اعوان ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب پاکستانی بیوروکریسی کے تاریخی ارتقا، اختیارات کے استعمال، سول و عسکری تعلقات اور انتظامی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تنقیدی بحث پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب وین گارڈ بکس اور دوسرے کتب خانوں پر دستیاب ہے۔
+92 300 9552542
ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup کا آغاز پنجاب کے موجودہ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کے ایک واقعے سے کیا ہے۔
عدالتِ عالیہ پنجاب نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ جونیئر افسران کو سینئر افسران کی اسامیوں پر تعینات کرنا قانون اور میرٹ کے خلاف ہے، اور چیف سیکرٹری کو حکم دیا گیا کہ اس غیر قانونی عمل کو ختم کیا جائے۔ مگر یہاں ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی۔ خود چیف سیکرٹری، زاہد اختر زمان، اس وقت گریڈ 21 کے افسر تھے لیکن گریڈ 22 کی نشست پر تعینات تھے۔ یعنی جس نظام کو ختم کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا، وہ خود اسی نظام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اس تضاد سے بچنے کے لیے انہوں نے عدالتی حکم پر عمل کرنے کے بجائے پورا قانون ہی تبدیل کروا دیا۔ اس مقصد کے لیے پہلے ایک آرڈیننس جاری کروایا گیا جب پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی تھے، اور بعد میں اسے باقاعدہ قانون بنا کر Punjab Civil Servants Act کا حصہ بنا دیا گیا۔ قانون کی ستم ظریفی دیکھیں کہ یہ قانون اصل میں صوبائی افسران کے لیے بنایا گیا تھا، مگر بعد میں اسے مسلسل وفاقی افسران کے حق میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔ یوں ایک عدالتی فیصلے کو ختم کرنے کے بجائے قانون ہی بدل دیا گیا، اور نہ نگران حکومت کو اس کی اصل وجہ سمجھ آئی اور نہ بعد میں آنے والی منتخب حکومت کو۔ مریم نواز صاحبہ اور پنجاب اسمبلی کو اس واقعے کا ادراک ہونا ضروری ہے کہ کیسے بیوروکریسی انکو مینیج کرتی ہے ۔
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کس طرح اپنی طاقت اور مہارت سے انتظامیہ، مقننہ اور حتیٰ کہ عدلیہ کے فیصلوں کو بھی اپنے مفادات کے مطابق موڑ لیتی ہے۔ اب پنجاب میں یہ ایک صوبائی قانون ہے کہ افسر جس مرضی گریڈ میں ہو، اسکی کسی بھی انتظامی عہدے پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ صوبائی قانون کو جس مرضی سروس پر لاگو کر دیا جائے ، کوئی نہی پوچھے گا کیونکہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ بیوروکریسی کی depceptions کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup
وین گارڈ بکس اور دوسرے کتب خانوں پہ دستیاب ہے ۔
+92 300 9552542
Baku population 2.3 million 25 star hotels
Lahore population 15 million Google says 5. I know old useless ones only 2.
Why?
Ask why they did not allow any to be built.
Because judges and bureaucrat gated estate more important.
Then you want growth.
پاکستانی گورننس کا بنیادی تضاد!
پاکستان کا گوررنس سسٹم ایک تضاد پر کھڑا ہے اور اس باتت بحث نہی ہوتی۔
وفاق پاکستان لیجسلیٹولی چار گورنمنٹس میں تقسیم ہے ، جس میں وفاق، صوبائی ، مقامی CCI شامل ہیں۔
اب ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر حکومت کی اپنی سول سروس ہو تاکہ وہ اپنی پولیٹیکل انتظامیہ اور لیجسلیچر کو جوابدہ ہو۔ تاہم پاکستان میں جب مرکزی سول سروسز چاروں حکومتوں میں کام کرتی ہیں تو جوابدہی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور گورننس ناکام ہوتی ہے۔
اسی تضاد کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس تضاد پر تجزیہ ویڈیو میں دیکھیں ۔
https://t.co/ybgLRCcqe5
پاکستانی گورننس کا بنیادی تضاد!
پاکستان کا گوررنس سسٹم ایک تضاد پر کھڑا ہے اور اس باتت بحث نہی ہوتی۔
وفاق پاکستان لیجسلیٹولی چار گورنمنٹس میں تقسیم ہے ، جس میں وفاق، صوبائی ، مقامی CCI شامل ہیں۔
اب ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر حکومت کی اپنی سول سروس ہو تاکہ وہ اپنی پولیٹیکل انتظامیہ اور لیجسلیچر کو جوابدہ ہو۔ تاہم پاکستان میں جب مرکزی سول سروسز چاروں حکومتوں میں کام کرتی ہیں تو جوابدہی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور گورننس ناکام ہوتی ہے۔
اسی تضاد کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس تضاد پر تجزیہ ویڈیو میں دیکھیں ۔
https://t.co/ybgLRCcqe5