Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.
عوام کا یہ سمندر آپ کو TV چینلز نہیں دکھائیں گے۔
لیکن سوشل میڈیا پر حق کی آواز نہیں دبائی جا سکتی، انشاءﷲ۔
پاکستانی عوام نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں، ماشاءﷲ۔
اللّه ہماری اس ظالم حکمرانوں کے ٹولے سے جان چھڑواۓ۔
روز فسطائیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنا اور عمران خان کے خاندان کو نشانہ بنانا عسکری حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے۔
ان کی اہلیہ سے لے کر بہنوں، بھانجوں اور بھتیجوں تک، خاندان ک�� افراد پہلے بھی گرفتاریوں اور مختلف کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ اب قاسم زمان خان کی 3-MPO کے تحت گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10 شہریوں کو گرفتاری اور حراست کے معاملے میں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کسی شہری کو محض سیاسی وابستگی، رشتہ داری یا ا��تلافِ رائے کی بنیاد پر، کسی ثابت شدہ جرم کے بغیر، حراست میں رکھنا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ ریاستی جبر ہے۔
پاکستان میں آئین کو نظرانداز کرنے، قانون کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا یہ سلسلہ صرف عمران خان یا ان کے خاندان کا مسئلہ نہیں—یہ ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی میدان میں دیا جانا چاہیے، خاندان کے افراد کو یکے بعد دیگرے حراست میں لے کر نہیں۔
سیاسی انتقام بند کرو۔ غیر قانونی گرفتاریاں بند کرو۔ آئین اور قانون کی بالادستی بحال کرو۔
پاکستان کسی فرد یا حکومت کی جاگیر نہیں—یہ 25 کرو�� عوام کا ملک ہے۔
"دیکھیں مسئلہ غیر قانونی یا نا قانونی کا نہیں ہے—اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، یہ بڑے بدقسمت ہیں۔ ہمارے جتنے بھی جج ہیں، چیف منسٹرز ہیں، یہ سب 60 سال سے اوپر ہو چکے ہیں اور ان کے پاس 15 سے 20 سال باقی ہیں۔ اس 15-20 سال کو قبر سے پہلے ٹھیک کرنے کے لیے یہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ ان سے بڑا بدقسمت کون ہوگا؟ اللہ نے ان کو اس قوم کو ٹھیک کرنے کا موقع دیا تھا لیکن یہ الٹے راستے پر چل پڑے۔"
"جہاں تک خان صاحب اور ان کی بہنوں کا ��علق ہے، یہ تو خوش قسمت ہیں۔ جیل میں بندہ کوئی گناہ نہیں کر سکتا—نہ کسی کی غیبت کر سکتا ہے اور نہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان کی غیبت ہو رہی ہے۔ جنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ 'اگر میں کسی کی غیبت کروں تو اپنی ماں کی کروں، تاکہ میرے گناہ انہیں مل جائیں اور ان کی نیکیاں مجھے مل جائیں'۔ تو سوچیں اس وقت خان صاحب کو کتنی نیکیاں مل رہی ہوں گی! اور ان کی بہنیں اس جدوجہد کو سعادت اور فخر سمجھ کر کر رہی ہیں، کوئی سزا سمجھ کر نہیں—اور جو لوگ اسے سعادت سمجھتے ہوں، انہیں آپ کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"
"یہ لوگ جتنا چاہے ظلم کر لیں، ہمارے درجات ہی بلند ہو رہے ہیں۔ آج سے 500 سال پہلے بھی فرعون جیسے لوگ تھے، اب وہ کہاں ہیں؟ اور 500 سال پہلے خان صاحب جیسے لوگ بھی تھے جو فرعونوں کے خلاف لڑتے تھے—آج 500 سال سے قبر میں ایک شخص مصیبت میں ہے اور دوسرا چین و سکون میں ہے۔ اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں مصیبت والی آخرت چاہیے یا ��کون والی۔ کیا یہ لوگ اللہ کو ناراض کر کے اپنی دنیا یا آخرت بنا سکتے ہیں؟ ایک آدمی نے 100 قتل کیے تھے، لیکن جب اس نے سچی توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ اس لیے میری ان کے لیے کوئی بددعا نہیں ہے، بلکہ میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے۔"
عمران خان کے بہنوئی اور ڈاکٹر عظمی خان کے شوہر احد خان کی گفتگو
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ عمران خان صاحب کے بہنوئی احد خان، جو شاید کبھی میڈیا پر نہیں آئے اور نہ ہی عدالتوں میں نظر آئے، آج انہیں بھی عدالتوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔
احد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بھی غیر قانونی طور پر جیل میں قید ہیں، جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں وہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اللہ نے ججز کو قوم کی اصلاح کا موقع دیا تھا، مگر وہ غلط راستے پر چل پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی بہنوں کو آپ ہرا نہیں سکتے۔
💔🥹 .... I feel so small and selfish in front of these exemplary role models for women. These are the type of women we need for our country and ummah . I love them so so much. May Allah have mercy on Pakistan 🙏 😢
وکیل علیمہ خان کی گفتگو 🚨
9 دن ہو چکے علیمہ خان،عظمی خان، نورین خان کو گرفتار کئے ہوئے، انہیں ادویات دینے کی اجازت نہیں۔ میڈیا ہر چل رہا ہے کہ انہوں نے بھوک ہٹرتال کر رکھی ہے
حاجرہ نیازی !
میری والدہ (نورین نیازی) اور خالاؤں کی خیریت کے بارے میں افواہوں کے سلسلے میں بیان:
بحیثیت خاندان ہم اپنی والدہ نورین نیازی اور خالاؤں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے حوالے سے شدید پریشان ہیں، جنہیں کوٹ لکھپت جیل، لاہور میں غیر قانونی طور پر قید اور حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد ��ے ہمیں ان تک رسائی نہیں دی گئی اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کے کسی بھی وکیل کو بھی ان سے ملنے یا بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ان تک براہ راست رسائی نہ ہونے کی وجہ سے، ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم ان کی خیریت کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں اور رپورٹوں کی آزادانہ تصدیق کر سکیں۔
یہ خواتین عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں باقائدگی سے طبی سہولیات اور روزانہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے،۔ ہمارے خاندان کو یہ جاننے کا بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ خیریت سے ہیں، انہیں مطلوبہ سہولیات میسر ہیں اور ان کے ساتھ انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ہم یہ سب اس سے پہلے اپنے ماموں عمران خان کے معاملے میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ جب ان کے خاندان اور وکلاء کو ان تک رسائی سے روکا گیا تو ان کی صحت کے بارے میں آئے دن نت نئی افواہیں اور متضاد خبریں گردش کرتی رہیں۔ جب تک ان کی حالت کا علم ہوا، ان کی بینائی کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
ہم صرف اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کہ ایک انسان کا بنیادی اور لازمی حق ہونا چاہیے، یعنی ہماری والدہ اور خالاؤں تک رسائی۔ ان کے اہل خانہ اور وکلاء کو ان سے ملنے، بات کرنے اور خود یہ دیکھنے کی اجازت دی جائے کہ وہ حفاظت سے ہیں اور انہیں وہ تمام طبی سہولیات مل رہی ہے جس کی انہیں ضرورت ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سرگودھا کے تگڑے زمیندار ہیں آدھے سرگودھا پہ ان کا گنا لگا ہوا ہے ! کیپٹن صفدر ۔۔
ابھی تک آدھے پہ ہی ہے ! مطیع اللہ جان کی شرارت 🤣🤣
دباؤ اپنی جگہ ، کچھ غلطیاں کمزوریاں اپنی جگہ ، سہیل آفریدی نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ باڈی لینگوئج بھی قابل دید ہے۔ گزشتہ روز پشاور اور آج چارسدہ موبلائزیشن کو بھی بریک نہیں لگائی اور ساٹھ ہزار اہلکار اسلام آباد و گرد و نواح بلوا کر فوج کو بند گلی میں بھی پھنسا دیا ہے۔
عمران خان کی تحریک کا نچوڑ ہی یہ ہے کہ ایک ایسا شخص وزیراعلی ہے جو عمران خان کے خاندان سے نہیں۔ جو روایتی سیاستدان نہیں۔ جو کوئی جاگیردار یا نو دولتیا نہیں۔ مڈل کلاس ہے اور نوجوان ہے۔ ��ہیل آفریدی کی کامیابی ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے۔
یہ درست ہے کہ فوجی قیادت نے پی ٹی آئی کو سندھ میں سپیس جان بوجھ کر اور پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھانے کیلئے دی ہے
مگر جس طرح دیوانہ وار اور بہت بڑی تعداد میں لوگ نکلے ہیں
اسے دیکھ کر سب پریشان ہیں
خصوصاً لاڑکانہ میں جس طرح عوام نکلی ہے ، پیپلز پارٹی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ دونوں حیران رہ گئے ہیں
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا
میاں محمود الرشید کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی بد ترین تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سوچنا چاہیئے کہ انکا زاتی عناد لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔