یہ کیسا انصاف ہے اور کیسی اندھیر نگری ہے؟ راولپنڈی میں پولیس نے اس شخص کو بے دردی سے قتل کر دیا اور اپنی جان چھڑانے کے لیے فوراً الزام لگا دیا کہ اس نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے مین اسٹریم میڈیا نے بھی بغیر کسی تحقیق کے اس مقتول کو دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا۔
لیکن اگر ذرا سی عقل اور منطق استعمال کی جائے تو اس پورے ریاستی بیانیے پر چند سیدھ�� اور منطقی سوالات اٹھتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں
اگر اس شخص نے واقعی فورسز پر فائرنگ کی تھی، تو جس تیزی سے ٹی وی چینلز پر اسے دہشت گرد ڈکلی��ر کیا گیا، اسی تیزی سے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج یا کوئی ویڈیو ثبوت قوم کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟
اگر یہ واقعی کوئی دہشت گردانہ حملہ اور مسلح مقابلہ تھا، تو مقتول کا وہ اسلحہ کہاں ہے جس سے اس نے فائرنگ کی؟ اور کیا فورسز کا کوئی اہلکار اس مبینہ فائرنگ سے زخمی ہوا؟
میڈیا نے کس عدالت یا تفتیشی ایجنسی کی رپورٹ کی بنیاد پر چند لمحوں میں یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ شخص دہشت گرد ہے؟ کیا یہ کوئی پہلے سے تیار شدہ سکرپٹ تھا جو لاش گرتے ہی نیوز اینکرز کو تھما دیا گیا؟
ایک شہری کی جان لے کر الٹا اسی کو غدار اور دہشت گرد ثابت کر دینا ظلم کی بدترین اور بزدلانہ شکل ہے۔ بغیر ثبوت کے ��سی کی لاش پر جھوٹ کا یہ محل کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے
کیا اس ملک میں کوئی ایسا قانون یا ادارہ بچا ہے جو ان ��ردی والے قاتلوں اور جھوٹ بیچنے والے میڈیا سے ان سوالات کا جواب مانگ سکے؟
مطالبہ کرتے جائیں 🚨
ہمیں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ساتھ عمران خان کا مکمل میڈیکل check-up چاہیئے اور وہ بھی ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں۔
سوشل میڈیا فرض سمجھ کر آواز اٹھائیں کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے
To my beautiful wife and our upcoming little blessing—I request all my friends and family to keep us in your special prayers. May Allah bring our baby into this world safely and bless them both with perfect health. Ameen! 🤲❤️
Our last dinner date before the baby arrives! ✨ A beautiful, bittersweet evening because a huge and blessed responsibility is just around the corner. For the next few months, it’s going to be all about home and taking care of our little one.
next
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ��ور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔