میرے بابا گل شیر خان وزیر نے آج تک مجھے حرام کا نوالہ نہیں کھلایا۔ وزیر قبیلے کے ناطے بہادری میرے پختون خون میں رچی بسی ہے۔ وفاداری، جرات اور بہادری میں نے اپنے لیڈر عمران خان سے سیکھی۔ ہم نے اس وقت بھی اپنا وطن نہیں چھوڑا جب میرے ماں باپ نے میرے جوان بھائی جاوید عالم وزیر شہید کی بم دھماکے میں جلی ہوئی لاش وصول کی۔ عمران خان کے نام پر ڈیرہ غازی خان کے لوگوں نے وفا کی اور کیا خوب وفا نبھائی۔ مجھے "دھی رانی" کا لقب دیا۔ جھکنا، بک جانا یا ڈرنا میں نے کبھی نہیں سیکھا۔
مجھے دس سال کی سزا پاکستان سے محبت اور عمران خان سے وفاداری کی وجہ سے دی گئی۔ جو لوگ مجھے نشانِ ع��رت بنانا چاہتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں صرف خاندانِ شریف اور خاندانِ زرداری کی بیٹیاں ہی سیاست کر سکتی ہیں۔ یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی اور بھول ہے۔ میں سر اٹھا کر مقابلہ کروں گی اور اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ وفا نبھاؤں گی۔ اپنی سیاست، ڈیرہ غازی خان کے لوگوں اور اپنے خاندان کے وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی۔ انشاءاللہ، ڈیرہ غازی خان کے وڈیروں اور جاگیرداروں پر میری چادر بھاری ہوگی۔ یہ ملک میرا ہے، سیاست میری ہے اور یہ میدان بھی میرا ہے، انشاءاللہ۔
عمران خان زندہ باد، پاکستان زندہ باد، ڈیرہ غازی خان کے باشعور عوام زندہ باد!
زرتاج گل وزیر
کل ہی امن تحریک کے ساتھیوں کو پیغام دیا تھا کہ ہم بھلے اپنے علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں نکلیں لیکن ڈالری جنگ کی خواہش رکھنے والے آپریشن کا ارادہ کر چکے ہیں، انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ایک دفعہ پھر ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنا ہے اور اسی آڑ میں ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا ہے لہذا ہمیں اب پرامن مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف کرنے کے لیے جرگہ بلانا ہے، اور آج تیرہ میں نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں چلا دیں گئیں۔۔
آج آپ کو یہ بھی اطلاع دے دوں کہ پانچ ماہ قبل خیبر، تیرہ اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کی صوبائی حکومت اپنے صوبے کے حالات اور عمران خان کے پالیسی کے مطابق اجازت نہیں دے رہی لہذا اس مقصد کے حصول کے لیے اگلے ایک آدھ ماہ میں اراکین صوبائی اسمبلی کو نااہل کرکے حکومت تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ عالمی طاقتوں سے پختونخواہ کے وسائل کے حوالے سے کی گئی کمیٹمنٹ اور قبضے پر کوئی کمپرمائز نہیں ہوسکتا!
دوسرے مرحلے میں خیبر اور وزیرستان کے بعد باجوڑ، مہمند اور ملحقہ علاقوں میں بھی اس ڈالری جنگ کو پھیلایا جائے گا اور چونکہ مالاکنڈ ریجن ہماری تحریک کے بعد سے نسبتاً پرامن ہے لہذا باجوڑ سے ملحقہ ضلع مالاکنڈ میں ٹارگٹڈ آپریشن کے نام پر سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ ملاکنڈ کے عوام کے لیے بھی پیغام ہے کہ جو خطرہ ٹل چکا تھا وہ پھر سے آپ کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگلے ہفتے سے آپ بھی سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کریں۔
خیبر پختونخوا کو تو سمجھ آگئی ہے لیکن اپنے باقی ہم وطنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ بھی دیکھ لیں کہ ریاست کے نام پر قابض مافیہ کیسے خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ کیا اب بھی آپ میں سے کسی کو شک ہے کہ یہ کھیل کون اور کس لیے کھیل رہا ہے؟ اب بھی کوئی شک ہے کہ ۲۰۲۲ میں دہشت گردوں کو کس مقصد سے واپس لانے کا پلان بنا؟ سرحد پر باڑ کے باوجود، وہ قافلوں کی شکل میں تشکیل کرتے رہے، ہم نے آواز اٹھائی، شور مچایا لیکن اس کو آئی ایس پی آر اور وزارت داخلہ نے پروپیگنڈا قرار دیا۔۔ کیا ہماری ہر بات درست ثابت نہیں ہوئی؟ مجبوراً ہم نے عوام کو کال دی اور عوامی طاقت سے اپنا امن حاصل کیا تو ریاست کو یہ بھی ناگوار گزرا، ”رینک اینڈ فائل“ کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ کیا تب ہم نے نہیں کہا تھا کہ اب پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے پھر دہشت گردی کی بریکنگ نیوز اور پھر آپریشن کا ماحول بنایا جائے گا؟ پھر ہمیں ہی ہمارے گھروں سے بے گھر کیا جائے گا اور وہی ڈالری کھیل رچایا جائے گا، کیا یہ سب درست ثابت نہیں ہوا؟ پھر نگران حکومت کے دوران ان کی آباد کاری کا آغاز ہوا اور مینڈیٹ چوری اور نئے الیکشن کے بعد سے آپریشن کا راگ الاپا جانے لگا؛ وہی اولڈ پلے بک جو چار دہائیوں سے جاری ہے۔ اور بے شرمی کا یہ عالم ہے کہ پختونخواہ کے بچے بچے کو اس بات کا علم ہے لیکن بجائے اس کے کہ ڈالری جنگ وسائل پر قبضے اور ریلیونٹ رہنے کے لیے ہماری زندگیوں سے کھیلنا بند کر دیں الٹا ہماری لاشوں پر بیانیے بنائے جاتے ہیں۔ اس پہ حکم کے لاشیں اٹھاؤ، بے گھری سہو، اُف تک نہ کرو کہ ہماری توہین ہوجاتی ہے۔۔
اگر کسی نے اس پورے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے تو رجیم چینج سے لے کر ابھی تک میری تمام ٹویٹس، ویڈیو پیغامات، اور امن تحریک کی تقاریر دیکھیں اور سنیں جو جو کہا تھا ایک ایک لفظ بدقسمتی سے سچ ثابت ہو رہا ہے مگر وٹس ایپ سے مینج ہونے والا میڈیا ایشوز اور ایونٹس پر فوجی پیغامات کے مطابق صرف ریکٹ کرتا رہا اور فوجی قیادت نے حالات اتنے خراب کر دیے کہ اب اس گند کو سمیٹنے میں نا جانے کتنا وقت اور کتنی جانیں قربان ہونی ہیں۔
میں آج اپنے امن کے سفیروں اور سالاروں کو بھی پیغام دیتا ہوں کہ کل میں نے جو پیغام بھیجا تھا اس کے مطابق جرگہ بلائیں، جب یہ ہمیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں بھیجنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو تب نکلنے کے بجائے آج نکل کر اپنا امن حاصل کریں۔ تمام ��ضلاع کے جرگے مشترکہ طور پر ایک گرینڈ قومی جرگہ بلائیں (اس کے لئے میں نے کوارڈنیٹرز منتخب کر دیے ہیں ان کے نام ٹویٹ میں لکھ کر ان کے لیے مزید مشکلات پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ پہلے ہی ڈرون کے خلاف ریاست کا جھوٹ بے نقاب کرنے پر ڈاکٹر امجد مشکل میں، ڈاکٹر حمید اور گل ظفر کے گھر پر بم حملہ ہوچکا،مہمند، خیبر، وزیرستان، لکی، بنوں،کرم اورکزئی کے دوست مشکل میں اور امن کے ساتھی شہید ہو رہے ہیں)۔
آخری بات، صوبائی حکومت سے بھی اپیل ہے کہ جیسے کچھ دن پہلے آپ نے بھی وہی باتیں کیں جو ہم کرتے آرہے ہیں آپ بھی آپریشن کے خلاف ہیں اور اگر آپ کو بھی بائی پاس کرکے یہ ظلم ہو رہا ہے تو آپ بھی اس قومی جرگہ کا حصہ بنیں اور ہمارے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں۔
ڈی ایچ اے 5 کے برساتی نالے میں بہہ جانے والے ریٹائرڈ کرنل کی ڈیڈ باڈی کی تصویر براہ راست لگانے پر اپنے فالوورز سے معذرت خواہ ہوں، اخلاقی طور پر یہ غیر مناسب تھا، ابھی تصویر کو ایڈٹ کر کے بلر کر دیا ہے۔۔!!
ہمارے والد نے اس ملک کے لیے سب کچھ قربان کر دیا – اپنی راحت، سکون اور سلامتی چھوڑ کر پاکستان کے مستقبل کی خاطر جدوجہد کی۔
آج وہ خاموش کر دیے گئے ہیں، اذیت میں ہیں، قید میں ہیں اور ہم سے مکمل طور پر جدا کر دیے گئے ہیں۔ جب سے ہمیں شعور آیا، انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو سکھایا کہ کرپٹ حکومت کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ آج انہیں ��سی جرم کا الزام دیا جانا ایک سفاک اور ناقابلِ برداشت ستم ظریفی ہے۔
پاکستان کا قومی ہیرو، سابق وزیراعظم، ملک کی سب سے مقبول جماعت کا بانی، اور کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن، عمران خان کو ذہنی طور پہ ٹارچر کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کو اور بشریٰ عمران کو قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔گرمی میں، تندور جیسے کمرے میں۔ انہیں ابھی تک کتابیں بھی نہیں دی گئیں اور نہ ہی ان کے پاس ٹی وی ہے۔ پانی بھی ابھی تک گندہ ہی مل رہا ہے۔ تمام بنیادی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
کوٹ لکھپت لاہور میں قائم کی گئی ملٹری سٹائل کورٹ نے ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفرا چیمہ، میاں محمود الرشید، افضال پاہٹ اور علی حسن، خالد قیوم اور ریاض حسین کو 10-10 سال کی سزا سنا دی
عدالتی یحیٰی خان (یحیٰی آفریدی) کے فیصلے کے پر آدھی آدھی رات تک ملٹری ٹرائل کے انداز سے یہ کیسز چلا کر فیصلہ دیا جہاں نہ کوئی ثبوت تھا نہ کوئی گواہ
إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ
حماد اظہر کے والد، سابق ایم این اے میاں اظہر صاحب کے انتقال پر دلی افسوس ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور حماد اظہر سمیت تمام اہل�� خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
حماد اظہر کے والد ایم این اے، سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر صاحب کا انتقال ہوگیا۔اللہ تعالی جنت الفردوس میں جگہ دے،آمین!
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان ،مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم، چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ اور دیگر مرکزی قیادت اب سے کچھ دیر بعد 10 بج کر 40 منٹ پر خیبر پختونخواہ ہاؤس اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
یا اللہ خیر یا اللہ خیر ۔اتنے بڑے دکھ کے یقین نہیں ا رہا میاں اظہر انکل وفات پا گئے یا اللہ یہ کیسی عجیب خبر ہے ۔اللہ تعالی رحم کرے پتہ نہیں کیسا دن ہے ایک کے اوپر ایک عجیب خبر ارہی ہے تکلیف دہ خبر ہے یا اللہ حماد اظہر کو اور ان کے پورے گھر والوں کو اللہ تعالی صبر دے اللہ تعالی طاقت دے کہ اتنے بڑے ازمائش میں سے گزر سکیں ۔اللہ تعالی انکل کے درجات بلند کرے جنت الفردوس میں بہت اعلی مقام دے ۔اظہر میاں انکل بہت ہی پیارے بندے تھے یقین نہیں ا رہا پتہ نہیں کیا الفاظ لکھوں۔اس سے بھی بڑی تکلیف دہ بات یہ کہ حماد اظہر ان کے ساتھ اخری وقت بھی نہ گزار سکے ۔بلکہ اپنے مصائب کا مقابلہ کرتے رہے ۔کیسی ازمائش ہے اللہ تعالی یہ رحم کر سکتا ہے ۔میاں اظہر انکل تو انتہائی نفیس اور بہت ہی حلیم طبیعت کے سیاست دان تھے بہت ہی بڑا خلا ہے جو پورا نہیں ہو سکتا ۔