فیلڈ مارشل اور انکے چہیتوں نے خیر پختونخواہ کے حالات انتہائی خراب کر دیئے ہیں۔ قبائلیوں پر لگاتار گولیاں چلائی اور شیلنگ کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی من پسند کمپنیوں کو ریئر ارتھ منرلز دینے کے چکر میں ہر طرف آگ لگائی جا رہی ہے۔ لاکھوں ارب کے اس دھندے میں لوگ گولیوں سے مریں گے یا سسک سسک کر تابکاری سے مریں گے۔
اس پاگل پن کو روکنا ہوگا۔
اب پورا پاکستان وہ 'درد' محسوس کر رہا ہے، جس سے بلوچ 50 سال سے گزر رہا ہے:عادل راجہ
@soldierspeaks
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ سے طالبان کو پہلے نکالا جاتا ہے یا معدنیات کو ۔ جیو جرنیلا جیو۔ شہباز گل
@SHABAZGIL
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پہلے طالبان کو واپس لائے۔ پھر دہشت گردی کروائی۔ پھر اس کے بہانے حکومت پر قبضہ۔ اب جنرلز اصل کام کی طرف آئیں گے۔ لائے ہوئے دشت گرد اب دہشت گردی کم کر دیں۔ جنرلز معدنیات نکال کر بیچیں گے۔ اور کہیں گے دیکھو صوبے میں امن ہو گیا۔
باڑہ میں خیبر پولیس کا پی ٹی آئی ورکرز کے ساتھ یہ رویہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے،
وقت بدلتا ہے اور ان شاء اللّہ یہ وقت بھی گزر جائے گا، مگر یہ رویے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے!!
ضلع خیبر، تحصیل باڑہ میں عوامی مزاحمت دوسرے روز بھی جاری ہے!
خیبر پختونخوا کے باشعور نوجوان اور عوام ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدامات کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ عوامی مینڈیٹ، آئینی حقوق اور جمہوری اقدار کا احترام کیا جائے۔
ریاست کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، عوامی جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور ایمرجنسی و گورنر راج کے فیصلے پر فوری نظرِثانی کرتے ہوئے اسے واپس لینا چاہیے۔
عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں!
#سر_بکف_میدان_میں