*‼️پاکستان میں کیا ہورہا ہے؟ ملک میں کون خوش ہے؟*
*عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ہے؟*
*عمران خان کی ب��نوں کی ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی؟ کراچی میں سہیل آفریدی کو جلسہ کیوں نہ کرنے دیا گیا؟ PTI کیوں خاموش رہی؟*
*ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا تازہ وڈیو لاگ*
پاکستان میں کیا ہورہا ہے؟ ملک میں کون خوش ہے؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ہے؟ عوام کو انصاف کیوں نہیں مل رہا ہے؟
عمران خان کی بہنوں کی ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی؟ کراچی میں سہیل آفریدی کو جلسہ کیوں نہ کرنے دیا گیا؟ PTI کیوں خاموش رہی؟
جین زی سوچے اور سوال اٹھائے۔
کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟
آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر PTI کے رہنماؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کےباعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔ پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پرنہ صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی۔اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔
پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریا سے لندن پہنچ گئے جس کے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟
یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جو آج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھر کون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟
اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر صاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟
1/2
نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے جارحانہ ردعمل، سندھ اسمبلی میں اشتعال انگیز اوردھمکی آمیز تقاریر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کوسندھو دیش کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا مستقبل میں ” تیرا دیش میرا دیش…… سندھو دیش سندھودیش“ کے نعرے گونج سکتے ہیں؟ صدرمملکت آصف زرداری جوکہ بمعہ اہل وعیال لندن میں قیام پذیر ہیں، کیا ان حالات میں وہ پاکستان واپس جائیں گے؟ آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لاہور میں قومی پالیسی مکالمے کے عنوان پر ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ”نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی نہیں روک سکتا، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، اسی طرح سندھ میں نئےانتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور کسی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا“۔ محسن نقوی صاحب کے اس بیان پر پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو، ناصر حسین شاہ، امتیازشیخ اور دیگر رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے اس بیان کو سندھ میں مداخلت قراردیا ہے اور وزیراعظم سے اس بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں کے بیانات پر وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتےہوئےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبوں کےقیام کی حمایت کررہی ہے مگر سندھ میں مخالفت کررہی ہے یہ اس کا دہرامعیار ہے۔ایک طرف پیپلز پارٹی کے رہنمااورارکان اسمبلی کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں اوردوسری طرف سے وفاقی وزرا کی جانب سےجواب پر جواب دیاجارہا ہے اور آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات کا جواب میں آج پھر واضح الفاظ میں کہہ دیا ہےکہ صوبے اور انتظامی یونٹس ہرحال میں بنیں گے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ الطاف حسین اور میری ایم کیوایم نےملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کےقیام کی بات نہیں کہی ہے بلکہ یہ بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی ISPR کی جانب سے کی گئی ہے۔ایسے نازک وقت میں صدرزرداری اور بلاول زرداری شادی کا بہانہ بناکر ملک سے باہر نکل گئے، آسٹریا کی پرنسز گلوریا سے بلاول کے رشتے کی خبریں میڈیا پر آنے لگیں اور تین دن بعد بلاول زرداری نے وی لاگ کے ذریعے اپنی شادی یا منگنی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہزادی گلوریا کو جانتے تک نہیں ہیں لیکن آسٹریامیں شہزادی گلوریا کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ان کی وڈیو سامنے آگئی۔ زرداری خاندان کے لندن آنے سے اندازہ ہوا کہ کوئی بہت سیریس مسئلہ ہے اور پھر وفاقی وزیرداخلہ کے دو ٹوک مؤقف سامنے آنے سے ان کے لندن آنے کا راز بھی کھل گیا۔موجودہ صورتحال ہر گزرتے دن کےساتھ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے انتہائی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف بلوچستان میں امن وا��ان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، بلوچستان میں ��لیحدگی کی جو تحریک چل رہی ہے وہ اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں بات چیت اور ڈائیلاگ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بلوچستان کے بارے میں یہ خبرنہیں دی جبکہ سوشل میڈیا کےذریعے اطلاعات ملی ہیں کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات میں متعدد فوجی اہلکارجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ KPK میں بھی لاوا اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے ابل سکتا ہے۔کیا ملک ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے ؟ارباب اختیار کو یہ تمام چیزیں سمجھنا چاہیے، اگر ایران کی طرح کسی بھی ملک کے عوام ایک قوم بن جائیں، یا عوام کی اکثریت ایک سوچ رکھتی ہو تو وہ ملک اپنی بساط کے مطابق دشمن کی فوج سے لڑسکتا ہے،آپ دشمن سے لڑ سکتے ہیں لیکن اگر گھرکے اندر مزاحمت چل رہی ہو جیسے کہ بلوچستان، KPK اور کشمیرکی صورتحال ہے، اگر کسی ملک میں اس قسم کی شورش اور مزاحمت پیدا ہوجائے تو اس کو روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں اگر سندھو دیش کا نعرہ لگ جائے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تلا�� کرنا سب کی ذمہ داری ہے، سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے؟ آخر ملک کےحالات کس طرف جارہے ہیں۔ میں ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہاہوں، میں نے گراس روٹ سے جدوجہد کا آغاز کیا اورملک کی تاریخ کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے لیکر سانحہ اوجھڑی تک، سب کچھ دیکھا ہے۔ میں اس کےپس منظرکو بھی اچھی طرح جانتا ہوں جو آج کی نسل نہیں جانتی۔میں اگرچہ 34 سال سے جلاوطن ہوں لیکن مختلف محاذوں پر کڑے سے کڑے حالات کا سامنا کرچکا ہوں۔ اسلئے آج کے حالات میں جتنا تجربہ مجھے ہے اتنا آج کسی سیاستداں کونہیں ہے۔
1/2
میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر حکومت سندھ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی سندھ کے دورے کے سلسلے میں گھوٹکی، میرپورخاص، خیبرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں گئے تو وہاں ہرجگہ عوام نے بڑی تعداد میں ان کا شانداراستقبال کیا۔ لیکن جب وہ اپنے دورے کے سلسلے میں حیدرآباد اور کراچی آرہے تھے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، سڑکیں کھود دی گئیں، کئی مقامات پر قافلے کو روکنے کے لئے خندقیں کھود دی گئیں،جگہ جگہ سڑکوں پر کنٹینرکھڑے کردیے گئےاور کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کرلی گئیں۔وہ بلاول زرداری جوسندھ کا دورہ کرنے پرسہیل آفریدی کاخیرمقدم کررہے تھے ان کی حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی اور ان کے احباب اور کارکنوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ یہ عمل قابل مذمت ہے، یہ کیا منافقت ہے۔
لعنت اللہ علی المنافقین ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر466 ویں فکری نشست سے خطاب
6 ستمبر2026ء
22 اگست ایم کیوایم کے سچے کارکنوں کے لئے یوم عزم وفا ہے۔چند لوگوں کی غداریوں کے باوجود تحریک کے سچے کارکنوں نے تحریک اورنظریہ سے وفاداری نبھائی۔
#یوم_عزم_وفا_22_اگست#FreeImranKhan
ایم کیوایم کوتوڑنے کیلئے فوج نے ہردور میں منتخب حکومتوں کے ساتھ مل کر آپریشن کیے۔ ہمارے خلاف ظالمانہ آپریشن جاری رہا اورپورا ملک اس پر خاموش رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
18، مارچ1984ء کو ایم کیوایم کی بنیاد رکھی گئی، MQM نے کئی مرتبہ بلدیاتی اورعام انتخابات میں حصہ لیا،ملک کی مختلف حکومتوں نے ایم کیوایم کے ساتھ اتحاد اورمعاہدے کیے لیکن MQM یا الطاف حسین نےکب اور کس جگہ جلسے جلوس میں کہا کہ اگرہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم بندوقیں لیکر مسلح جدوجہد کریں گے؟ MQM نے کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا اورعلیحدگی کانعرہ لگانے والی جماعتیں نہ توعام انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اورنہ ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے اصول وضوابط کےتحت ملک کےآئین کےخلاف بات کرنے والی جماعت کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے جبکہ ایم کیوایم کو ہر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی کیونکہ ایم کیوایم آئین و قانون پر یقین رکھنے والی ایک سیاسی جماعت ہے۔ وہ بلٹ کے بجائے بیلٹ کے ذری��ے پاکستان کی تیسری بڑی اورسندھ کی دوسری بڑی جماعت بنی۔
ایم کیوایم کوتوڑنے اوراس کی آواز دبانے کیلئے اس کے خلاف متعدد مرتبہ فوجی آپریشن کیے گئے اورہردورمیں منتخب حکومتوں کے ساتھ مل کر فوج نے MQM کے خلاف فوجی آپریشن کیے۔
19، جون 1992ء کوبھی جب ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی تھی،اس وقت سندھ میں امن عامہ کی صورتحال کاجائزہ لیا جائے تو 1990ء سے 1992ء تک سندھ میں امن وامان کی صورتحال اتنی بہتر تھی کہ کسی بھی علاقےمیں ایک گھنٹے کیلئے بھی کرفیونافذ نہیں کیاگیا تھالیکن ان حقائق کے باوجود فوج نے نوازشریف کی حکومت کے ساتھ مل کر 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیوں کیا؟اس وقت PTV کے علاوہ کوئی اور ٹی وی چینل نہیں تھا اورپاکستان ٹیلی ویژن سے صبح شام MQM کے خلاف جعلی ٹارچر سیلوں اور من گھڑت جھوٹے ڈراموں پر مبنی فلمیں نشر کی جاتی تھیں، MQM کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا تو صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اسے سچ سمجھ لیا۔ فوجی آپریشن کے دوران کراچی،حیدرآباد اور شہری سندھ میں فوج وردی میں ٹینکوں کے ساتھ داخل ہوئی، بے گناہ کارکنان کا قتل عام کیا، مہاجرآبادیوں پر لشکر کشی کی اورمفتوحہ علاقوں کی طرح گھرگھر تلاشی لی گئی لیکن صوبہ پن��اب اور صوبہ خیبرپختونخوا سےاس غیرآئینی اور غیرقانونی فوجی آپریشن کے خلاف کوئی آوازنہیں اٹھی۔ MQM سے نفرت کرنے والے صوبہ پنجاب اور KPK کے عوام فوجی آپریشن کی حمایت کرتے رہے اور خوش ہوتے رہے کہ مہاجروں کے خلاف فوج جوکچھ کررہی ہےوہ درست اور جائز ہےکیونکہ الطاف حسین فوجی جرنیلوں کی کرپشن اورسیاست میں فوج کے کردار کے خلاف بات کرتا ہے۔ کاش اس وقت پنجاب اورKPK کے عوام مہاجروں کے خلاف فوج کے ناجائز اور غیرآئینی آپریشن کےخلاف آواز اٹھاتے تو آج خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ��ھی آپریشن نہیں ہوتا۔
الطاف حسین نےفوج کے غلط اقدامات اور زیادتیوں کےخلاف آوازاٹھائی تو ستمبر 2015ء میں لاہورہائیکورٹ کے ذریعے الطاف حسین کی تقریر پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی عائد کردی گئی، یہ پابندی چھ مہینے کےلئے تھی لیکن گیارہ سال گزر جانے کے باوجود آج تک یہ پابندی عائد ہے۔
ہمارے خلاف ظالمانہ آپریشن جاری رہا اور پورا ملک اس پر خاموش رہا، یہاں تک کہ 22 اگست 2016ء آگئی۔ کراچی پریس کلب پر ریاستی مظالم کے خلاف جاری بھوک ہڑتالی کیمپ پر اپنے خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ جہاں انسانوں کی جانوں کاکوئی تحفظ نہ ہو، ان پر ظلم کیا جارہا ہواورکوئی انہیں اس ظلم سے بچانے والا نہ ہو، عدالت سمیت کوئی ادارہ فریاد سننے والا نہ ہو، کوئی انصاف فراہم کرنے والا نہ ہو، جہاں ایسا ظالمانہ نظام ہو، ہم اسے کس طرح زندہ باد کہیں؟ظلم کے خلاف آوازاٹھانے پر فوج نے 22 اگست 2016ء کوبھوک ہڑتالی کیمپ کوتباہ کیا، کئی کارکنوں کو گرفتارکیا، اسی رات ڈاکٹر فاروق ستار سمیت رابطہ کمیٹی کےکئی ارکان کو پکڑ کرہیڈکوارٹرگئے اوراگلی صبح وہ پریس کانفرنس میں الطاف حسین سے تعلقی کررہے تھے، اسی رات نائن زیرو کوفوج نے seal کردیا، وہاں فوج کاپہر ہ بٹھادیاگیا، کچھ عرصہ بعد فوج کی موجودگی میں ہی نائن زیروکوآگ لگادی گئی اورپھراسے بلڈوز کردیاگیا، 22 اگست 2016ء کوآج دس سال ہوگئے لیکن آج تک نائن زیرو پر فوج کا پہرہ ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا ملک کے کسی سیاسی لیڈر کے گھر کو سیل کیا گیا،اسے آگ لگا کر بلڈوز کیا گیا؟ حتیٰ کہ عمران خان کوگرفتارتوکیا گیا، لیکن کیا ان کے گھرکوسیل کیا گیا؟
1/2
2/2
اس وقت کشمیرکامسئلہ سنگین ہوچکا ہے، بلوچستان میں جنگ جاری ہے، KPK میں آئے دن ایف سی اورپولیس کی چوکیوں پر خودکش حملے اوربم دھماکے ہورہے ہیں، پنجاب کے عوام میں شدید بے چینی ہے، جبکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب اوران کے ساتھیوں کو تین سال سے جیل میں قید رکھا ہوا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں میں بے چینی ہے اورملک معاشی طورپر شدیدبحران کا شکارہے، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی خود اعتراف کررہے ہیں کہ ملک کانظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذاملک چلا نے اوراچھی گورننس کیلئے نئے صوبے بنائے جائیں۔
پاکستان کے اتنے نا��ک حالات میں کیا صدرپاکستان آصف علی زرداری کو پاکستان چھوڑنا چاہیے تھا؟ان حالات میں صدرمملکت، وزیراعظم کو تباہ شدہ صورتحال سے ملک کو نکالنے کیلئے مشاورت کرنی چاہیے تھی، سیاسی قیادت کواپنا آرام وسکون قربان کرکے دوررس نتائج کی حامل تدابیراختیار کرنی چاہیے تھی یا صدر کوملک چھوڑکرنجی دورے پرجانا چاہیے تھا؟ جبکہ اس وقت پاکستان میں انسرجنسی چل رہی ہے اوربغاوت کی صورتحال ہے۔ صدرآصف زرداری، بلاول زرداری پہ��ے ملک سے باہر ہیں جبکہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ آصف زرداری کی صاحبزادیاں بھی بیرون ملک روانہ ہوگئی ہیں۔ یہ پورازرداری خاندان اتنی نازک صورتحال میں ملک سے کیوں نکلا ہے؟پیپلزپارٹی نے بلاول زرداری کی منگنی اورشادی پر پوری قوم کو لگادیا جوکہ ایک بہانہ تھا جس طرح نواز شریف علاج کا بہانہ کرکے جیل سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور سپریم کورٹ نے ایک سزایافتہ مجرم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی تھی جبکہ اصل مقصد ملک سے فرار ہونا تھا۔میں پاکستان کے عوام کو دعوت فکر دے رہا ہوں کہ آصف زرداری ملک واپس نہیں جائیں گے، وہ کیوں وطن واپس نہیں جائیں گے؟ اور ان کے کیامنصوبے ہیں؟ ا س پر آئند�� فکری نشست میں گفتگو ہوگی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 463 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
3، ستمبر2026ء
جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر سندھ میں کیوں نہ بنیں؟
اگر سندھ دھرتی ماں ہے،توکیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان دھرتی ماں نہیں؟
…………………………………
پاکستان انتہائی نازک صورتحال کی طرف تیز�� سے گامزن ہے، پاکستان میں یہ بحث ومباحثہ چل رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کررہی ہے، وہ کہتی ہے کہ پنجاب، KPK اور بلوچستان میں نئے صوبے بنادئیے جائیں لیکن سندھ میں نئے صوبے نہ بنیں، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور کہتے ہیں کہ سندھ دھرتی ماں ہے، تو کیا پنجابیوں کے لئے پنجاب دھرتی ماں نہیں ہے؟کیاپشتونوں کے لئے خیبرپختونخوادھرتی ماں نہیں ہے؟ کیابلوچوں کے لئے بلوچستان دھرتی ماں نہیں ہے؟ جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر صوبہ سندھ میں کیوں نہ بنیں؟نئے صوبوں سے سندھ کی تقسیم تو نہیں ہورہی ہے۔ ایک ملک میں چار صوبے بنے تو نہ ملک کوکوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی چارصوبے بننے سے ملک ٹوٹا، نئے صوبوں کے قیام سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صوبائی حیثیت برقراررہے گی۔ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنا سندھی قوم پرست تنظیموں اوربطورسیاسی جماعت پیپلزپارٹی کاحق ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ صوبوں کی تقسیم تین صوبوں میں جائز ہو لیکن ایک صوبے میں ناجائز ہو۔
دنیا کاکوئی ایک ملک بتائیں جس کی تاریخ اور جغرافیہ آج 2026ء میں وہی ہو جوآج سے 1000 سال یا 500 سال پہلے تھا۔
پیپلزپارٹی اورسندھی قوم پرستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاق اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی توپوں کارخ مہاجروں کی جانب ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہے،اس نے ہمیشہ وفاق اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کیلئے سندھ میں نام نہادقوم پرستوں کو پال رکھا ہے۔ آزاد سندھودیش کانعرہ لگانے والے تمام قوم پرست نہ صرف عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوہی ووٹ دیکر کامیاب بناتے چلے آرہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کیلئے کام بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام اورفوج اس حقیقت کوجان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے قوم پرستوں کاٹولہ فوج کو ڈرانے کیلئے رکھا ہوا ہے اسی لئے نام نہاد قوم پرست اورپیپلزپارٹی ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو ��ندھو دیش بن جائے گا۔ آج بھی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی والوں کی جانب سے بلاواسطہ دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی گئی تو کشت وخون ہوجائے گا اورسندھو دیش کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیرانتظام کشمیر بھارت کے جغرافیے کا حصہ نہیں تھامگر اب وہ بھارت کی یونین میں شامل کیاجاچکا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو آزادکشمیر کہاجاتا ہے، لیکن اب کشمیری عوام خود کہہ رہے ہیں کہ کشمیرآزاد نہیں ہے بلکہ وفاق پاکستان کے تحت اس طرح چلایاجارہاہے جیسے وہ پاکس��ان کا ایک صوبہ ہو۔ کشمیری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ حقوق دو تو ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، پانی، بجلی، گیس، آٹے کے معاملات خودچلانے اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پرگولیاں چلائی گئی جارہی ہیں اوراب تک 100 زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکاہے۔
1/2
‼️پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ میررضا شہید قتل کیس سے توجہ ہٹانے کیلئے نئے ایشوز کھڑے کر رہی ہے
ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین کا ٹک ٹاک پر تازہ وڈیو لاگ
@OfficialMQM@MqmcanadaO@AltafHussain_90
https://t.co/rjPWRFUBQO
This is my New X Account
@skhanzada_90
Request you all please follow this my new account because some one hacked my previous account @suhail_khanza.
Thanks 🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏