متحدہ قومی موومنٹ کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان، جوہر عابد ایڈووکیٹ اور ادریس علوی ایڈووکیٹ، نے مقتول نوجوان علی رضا میر کے گھر جا کر قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے اہلِ خانہ سے تعزیت اور اظہارِ افسوس کیا، جبکہ قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
The harassment of journalists who are accurately reporting on the elections in Azad Kashmir, and the ban imposed by the Government of Pakistan on the international news channel Al Jazeera, are highly condemnable.
#RightsMovementAJK#Kashmir
The people of Kashmir have boycotted what they describe as the fraudulent elections being held in Azad Kashmir. Instead of casting their votes, they are protesting against the alleged oppression taking place there. According to the statement, in order to conceal this situation from the world, the government has shut down internet services in Azad Kashmir while also controlling the media.
It is claimed that all media outlets have been strictly instructed to broadcast only the election-related news officially provided by the government. Media representatives are allegedly being openly threatened, and journalists who report independently or accurately on the situation are allegedly being detained.
The statement further claims that Haider Kamal, a correspondent for the international news channel Al Jazeera @AJEnglish , reported on the boycott of the elections by Kashmiris, the low voter turnout, and the ongoing protests. It alleges that, in response to this reporting, the government has imposed a ban on #AlJazeera in Pakistan.
The statement describes this action as highly condemnable and characterizes it as an attempt to suppress press freedom. It calls for an end to these practices.
— Altaf Hussain
Address during an study circle on TikTok.
حکومت پاکستان کی جانب سے آزادکشمیر الیکشن کی صحیح رپورٹنگ کرنےوالے صحافیوں کوہراساں کرنااور انٹرنیشنل چینل الجزیرہ پرپابندی عائدکرنا قابل مذمت ہے
#RightsMovementAJK
کشمیری عوام نے آزادکشمیر میں ہونے والے جعلی الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے اور وہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے بجائے وہاں مظالم کےخلاف احتجاج کررہے ہیں۔ حکومت نے اس صورتحال کو دنیا سے چھپانے کے لئے ایک طرف تو آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ کی سروس بند کردی ہے اوردوسری جانب میڈیا کوبھی کنٹرول کیا جارہا ہے۔ تمام میڈیا کو سختی سے ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ الیکشن کے حوالے سے صرف وہی خبر نشر کریں جوسرکاری سطح پر انہیں فراہم کی جائے ، میڈیا کے نمائندوں کوکھلی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جو صحافی وہاں کی صحیح رپورٹنگ کرتا ہے اس کو اٹھالیا جاتاہے، انٹرنیشنل نیوز چینل الجزیرہ کے نمائندے حیدرکمال نے آزادکشمیر الیکشن کے حوالے سے صحیح رپورٹنگ کی اور اپنی رپورٹ میں کشمیریوں کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ اور ووٹنگ کاٹرن آؤٹ بہت کم ہونے اورکشمیریوں کے احتجاج کا زکر کیا توحکومت کی جانب سے پاکستان میں الجزیرہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے اور آزادانہ صحافت کو قید کرنے کا عمل ہے۔ یہ سلسلہ بند کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
When @AJEnglish's international news channel representative Haider Kamal did proper reporting on the elections, a ban was imposed on Al Jazeera in Pakistan
Says MQM founder Altaf Hussain
@AJENews@AlJazeera@AJTurk
@AltafHussain_90@AJEnglish
⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️
*IMPORTANT*
Founder & Leader of MQM
Mr. Altaf Hussain’s address delivered during his 442nd TikTok Intellectual Session on 3 August 2026.
کشمیرکا کونہ کونہ لہو لہو ہے لیکن حکومت کواس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور ایسے حالات میں الیکشن کاڈھونگ رچایا جارہا ہے۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK#Kashmir
آزادکشمیر کے ہرعلاقے میں کشمیری عوام اپنے حقوق کے لئے میدان میں ہیں جن میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ، مائیں، بہنیں اوربچے بھی شامل ہیں۔وہ صر ف اپنے بنیادی حقو ق مانگ رہےہیں لیکن اپنے حقوق کے لئے پرامن احتجاج کرنے پرانہیں گولیاں ماری جارہی ہیں، راولاکوٹ، میرپور اور دیگر علاقوں میں اب اسنائپرتعینات کردیےگئے ہیں جومظاہرین کوتاک تاک کرگولیاں مار رہے ہیں، پولیس، ایف سی اور دیگرسیکوریٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک سو سے زائد معصوم کشمیری شہید ہوچکے ہیں،جو کشمیری شہید ہورہے ہیں ان کی لاشیں بھی ورثاء کے حوالے نہیں کی جارہی ہیں، اسپتالوں پر بھی سیکوریٹی فورسز کاقبضہ ہے، جوزخمی اسپتال لائے جارہے ہیں،ان کے بارے میں بھی کچھ پتہ نہیں ہے، بے شمار لوگ لاپتہ ہیں، ایسے سنگین حالات میں آزادکشمیر میں الیکشن کرائے جارہے ہیں، کشمیری عوام نے ان جعلی الیکشن کابائیکاٹ کررکھا ہے جس کی وجہ سے پولنگ اسٹیشنز ویران پڑے ہوئے ہیں اورانتخابی عملہ گپ بازیوں میں مصروف ہے مگرحکومت دعویٰ کررہی ہے کہ عوام پولنگ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں، یہ جھوٹ، دھوکہ اورفراڈ ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام میڈیاکوبھی سختی سے ہدایت کردی گئی ہےکہ وہ الیکشن کے حوالے سے صرف وہی خبرنشرکریں جوسرکار کی جانب سے انہیں فراہم کی جائے، میڈیا کو کھلی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں، جو رپورٹروہاں کی صحیح رپورٹنگ کرتاہے، اس رپورٹر کو اٹھالیا جاتاہے، انٹرنیشنل نیوزچینل الجزیرہ کے نمائندے حیدرکمال نے الیکشن کے حوالےسے صحیح رپورٹنگ کی تو پاکستان میں الجزیرہ پر پابندی عائدکردی گئی ہے۔ آزادکشمیرمیں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کردی گئی ہے۔ اس طرح ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ وہ کشمیری جوبیرون ملک مقیم ہیں،جوپاکستان کوبھاری زرمبادلہ بھیجتے ہیں، آزاد کشمیرمیں ان کے گھروں پرقبضے کرکے وہاں چوکیاں بنالی گئی ہیں۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کوکوئی شرم نہیں آرہی ہے کہ وہ ایسے حالات میں عوام سے ووٹ مانگنے جارہے ہیں۔انہوں نے کشمیریوں پر مظالم ڈھائے، انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا اورآج بھی انہیں کشمیریوں کی نہیں اقتدارکی فکر ہے۔ یہ بات انتہائی قابل مذمت ہے کہ اپنے حقوق کے لئے میدان میں آنے والے کشمیریوں کوآج غدار، غیرملکی ایجنٹ کہاجارہا ہے اورمار مارکرانہیں حب الوطنی کاسبق پڑھایا جارہاہے۔میں کہتاہوں کہ حب الوطنی کاسبق سیکھنا ہے تو کشمیریوں سے سیکھوجوظلم سہہ کر اور محروم رہ کربھی حب الوطنی کادم بھرتے رہے۔ میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ جتنا جلد ہو کشمیریوں کے مطالبات کو مانیں، ان پر ظلم بندکریں، الیکشن کاڈھونگ بندکریں اورکشمیریوں کوان کے حقوق دیں۔
میں ظلم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے دلی ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتاہوں، میں ان کے دکھ میں شریک ہوں۔
میں کشمیری عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کی اس جدوجہدمیں کسی بھی صورت میں مایوس نہ ہوں، چاہےکوئی بھی ظلم ہو، سرینڈرنہ کریں اورجب تک آپ کاایک ایک مطالبہ نہیں ماناجاتا، آپ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اوریہ یادرکھیں کہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں، آپ اپنی قوم کے حقوق کی جدوجہد میں آج جوقربانیاں دے رہے ہیں وہ ضروررنگ لائیں گی اورآپ کی قربانیوں کی بدولت آپ کی آنے والی نسلیں ایک باعزت اورآزاد فضاء میں زندگی گزاریں گی۔
میں پورے پاکستان کے عوام سے درخواست کرتاہوں کہ وہ کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہارکریں اورمظلوم کشمیریو ں کی حمایت میں سڑکوں پرنہیں آسکتے تو وہ ٹی وی چینلز جوکشمیریوں کےخلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں، انہیں ایک گھنٹے کے لئے بندکرکے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہارکریں اورکشمیری شہدا کے لواحقین کے غم میں شریک ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹا ک پر 442 ویں فکری نشست سے خطاب
3 اگست 2026ء
https://t.co/ywJQGLXXzl
ایک انتہائی بدبودار غلیظ اور متعصبانہ تجزیہ.
یہ کالم پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کے لوگ تعصب میں اس حد تک گر سکتے ہیں کے خود کے علاوہ پاکستان کی تمام قومیتوں کو غدّار قرار دے دیں.
@WusatUllahKhan@jang_akhbar@geonews@dawnnews @
https://t.co/jh2HdIc3Lw
ملک میں نئے صوبوں کےقیام کے لئے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے۔
الطاف حسین کاہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ جس ملک میں جتنے زیادہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے وہاں عوام کے مسائل کے حل میں اتنی ہی مدد ملے گی، عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے اِدھراُدھر بھاگنے کے بجائے علاقائی سطح پر ہی مسائل کرلیں گے، انہیں دوردرازشہروں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔میں برسوں سے یہ بات کہتا رہا کہ موجودہ سسٹم نہیں چل سکتالیکن میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی،آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف چوہدری صاحب وہی بات کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سسٹم تباہ ہوچکا ہے، گڈگورننس کےلئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانا چاہیے۔آج ڈی جی ISPR کہہ رہے ہیں کہ1972ء میں پاکستان کی آبادی 7کروڑ تھی، اُس وقت چار صوبےتھے،آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سےزائد ہوچکی ہے، پھر بھی چار صوبے ہیں ،لہٰذا نئے صوبے ہونے چاہئیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ISPR جنرل احمدشریف کی تقریر کےجواب میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کےرہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میں نئے صوبوں کےقیام کو قطعی ناممکن اور out of question قراردیا ہے، پیپلزپارٹی کےبعض رہنماؤں نے تو اسے سندھ کی تقسیم قرار دیکر یہاں تک کہہ دیاہےکہ”نئے صوبے بناکر دیکھو پھرتمہیں پتہ چلے گا“۔ پیپلزپارٹی نے یہ چیلنج الطاف حسین کو نہیں بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اورمحسن نقوی صاحب کوکیاہے اوران کی طاقت کوللکارا ہے کہ اگرفوج میں ہمت ہے تو صوبے بناکر دکھائے۔اب فیلڈمارشل صاحب اورمحسن نقوی ان دھمکیوں کانوٹس لیں گےیانہیں۔اگرانہیں اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہوتو الطاف حسین اس مشکل کوحل کرنے کےلئے یہ دلیل دیتاہےکہ آپ تویہ کہیں گےکہ ہم تو پیپلزپارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گڈگورننس اورملک کی ترقی کےلئےمزید صوبے بنارہے ہیں،جہاں تک سندھ کی تقسیم کی بات ہے توہم توپیپلزپارٹی کی تقلید کررہے ہیں،وہ اس طرح کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے1973ء میں سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کی تقسیم کردی تھی۔یہ کوٹہ سسٹم دس سال کےلئےنافذ کیا گیا تھا لیکن 53سال گزر جانےکےباوجود بھی کوٹہ سسٹم نافذ ہے، دیہی شہری کی تقسیم آج بھی موجود ہے۔
اور پیپلزپارٹی دیہی شہری کوٹہ کےنام پر سندھ کی تقسیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اس کوٹہ سسٹم کوجائزقراردے رہی ہے اوریہ دلیل دیتی ہےکہ کوٹہ سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنافذ کیا تھا، اگردیہی اورشہری کی بنیاد پر کی گئی یہ تقسیم اتنی ہی اچھی اور جائزتھی تویہ تقسیم صرف سندھ میں ہی کیوں کی گئی تھی؟ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی یہ تقسیم کیوں نہیں کی گئی؟ صرف سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابر لانےکےلئےنہیں بلکہ شہری علاقوں کے عوام سےتعصب کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔
سرکاری محکموں میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کےلئے نافذ کیا جانے والایہ کوٹہ سسٹم دیہی علاقوں کے غریبوں کے مفاد کےلئے نہیں بلکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی کوتقویت دینے کےلئےنافذ کیا گیا تھا، یہ سسٹم غریب سندھیوں کے بچوں کے لئے نہیں بلکہ سندھ کےوڈیروں کے بچوں کے مفاد کے لئے ہےجنہیں ان کے میرٹ کے خلاف داخلے دیے جاتے ہیں، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن میں مقابلوں کے امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہےاور اعلیٰ پوسٹوں پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ اردو بولنے والوں کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کوٹہ سسٹم کے تحت نہ صرف اردواسپیکنگ نوجوانوں کے ساتھ حق تلفی کی جاتی ہے بلکہ اہلیت رکھنے والے غریب سندھیوں کے بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جاتی ہے۔جس کاثبوت ہے کہ گزشتہ تین روز سے کراچی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفترکے سامنے سندھی بولنے والے نوجوان احتجاجی دھرنادیے ہوئے ہیں، وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور کھل کرکہہ رہے ہیں کہ ”سندھ پبلک سروس کمیشن وڈیرہ کمیشن ہے“۔ مجھے ان سندھی نوجوانوں سے ہمدردی ہے۔وڈیروں نے سندھ کےنام پر بہت کمایا ہےجبکہ غریب سندھیوں اور ہاریوں کے پاس کھانے کےلئے روٹی تک نہیں ہے۔
فیلڈ مارشل صاحب اور محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی سسٹم کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس میں تمام قوموں کوان کے حقوق میسر آئیں اورکسی کے ساتھ بھی کوئی حق تلفی نہ ہو۔
میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹوں کے قیام کی بات پر گالیاں اوردھمکیاں دینے والوں سے یہی کہوں گا کہ گالیاں اوردھمکیاں دینے کے بجائے شرافت کامظاہرہ کیجئے، بیٹھئے، ڈسکشن کیجئے، ڈائیلاگ کیجئے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 440 ویں فکری نشست سے خطاب
یکم اگست 2026
رمضان کعبہ کی اہلیہ اورحفیظ احمدکے بڑے بھائی کے انتقال پربانی وقائد جناب الطاف حسین کااظہارتعزیت
*دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان، سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں، قائد تحریک الطاف حسین*
اپنا حق مانگنے پر بے گناہ کشمیریوں کو گولیاں مارکر شہ رگ کوکاٹ دیا گیا ہے۔ الطاف حسین
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا#RightsMovementAJK#Kashmir
پاکستان کی حکومتیں اورتمام سیاسی وعسکری حکمراں آزادکشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیتے آئے ہیں، کشمیرکے عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے بھی دیے گئے، کشمیریوں کواپنے مفادات کے لئے استعمال کیا گیا لیکن جب سے آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے بنیادی حقوق مانگنا شروع کئے ہیں توانہیں حقوق دینے کےبجائے گولیاں ماری جارہی ہیں، راولاکوٹ، میرپور اور آزاد کشمیر کے دیگرعلاقوں میں کشمیریوں پر ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، پرامن احتجاج کرنے پر راولاکوٹ، میرپور کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اورلاہورمیں بھی کشمیریوں نےپرامن احتجاج کیا تو وہاں بھی کشمیریوں کولاٹھی چارج، آنسو گیس، فائرنگ اورطاقت کے ذریعے کچلا گیا، اپنے حقوق مانگنے والے کشمیریوں کو گولیاں مارکر، ان کا خون بہایا گیا، پاکستان کی شہ رگ کوزخمی کیا گیا، ریاستی مظالم کی وجہ سے اب تک 100 سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں، اگر کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو اصولی طورپرپورے پاکستان کو کشمیر کے دکھ اوردرد کو محسوس کرنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ پاکستان میں کشمیر کی صورتحال پر خاموشی ہے، کوئی کشمیرکے دکھ کومحسوس نہیں کررہا ہے اور وہاں حالات زندگی نارمل ہیں۔
آزاد کشمیرکوشہ رگ قراردیا جاتا ہے لیکن اپنا حق مانگنے پر ریاست کشمیر میں معصوم وبے گناہ کشمیریوں کو گولیاں مارکر، انہیں مظالم کا نشانہ بنا کراوران کاخون بہا کراس شہ رگ کوکاٹ دیا گیا ہے، اب کشمیر شہ رگ نہیں رہا، پاکستان کی فورسزنے کشمیریوں کو گولیاں مارکر، ان کامحاصرہ کرکے،ان کاخون بہاکر اس شہ رگ کو خود ہی اپنے سے کاٹ کر رکھ دیا ہے، اسے اپنے سے جدا کردیا ہے، لہٰذا اب کشمیریوں پر ظلم کرنے والے وہاں سے اپنا بوریا بسترگول کرلیں اورکشمیر کا مستقبل کشمیریوں پرچھوڑدیاجائے، اس کافیصلہ وہی کریں گے۔
میں ظلم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے کہتاہوں کہ آپ کے زخموں اوردکھ درد کو صرف الطاف حسین سمجھ سکتا ہے، ہمارے بزرگ جنہوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی،جب وہ 1947ء میں پاکستان کے لئے اپناسب کچھ چھوڑ کر ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے لیکن ان کے ساتھ حق تلفیاں کی گئیں، جب ہم نے ایم کیوایم بناکر ان ناانصافیوں اورحق تلفیوں کے خلاف جدوجہد شروع کی توہمارے خلاف 19جون 1992ء کوفوجی ا ٓپریشن شروع کردیا گیا، ہمارے خون سے ہولی کھیلی گئی، ہمارے ہزاروں معصوم وبے گناہ ساتھیوں کو سفاکی سے شہیدکردیا گیا، لیکن افسوس کہ اس وقت پنجاب اور کشمیر سمیت پورے ملک نے ہم پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی بلکہ اس ظلم کی حمایت کی۔ ہماری دعاہے کہ کشمیریوں یا کسی بھی قوم پر وہ ظلم نہ ہو جو مہاجروں پر ڈھایاگیا۔
میں کشمیریوں کے لئے برسوں سے آوازاٹھاتا رہا ہوں، آج بھی اٹھارہا ہوں اور اٹھاتا رہوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں کوان کاحق ملنا چاہیے اوران کے خلاف طاقت کااستعمال بند ہونا چاہیے۔
میں کشمیریوں سے بھی کہوں گا کہ ان مظالم کی وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہیں۔ میں کشمیری جین زی اورتمام نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ کاکروچ پارٹی کے نوجوانوں سے کی مثال سامنے رکھیں اورتمام مشکل حالات کے باوجود اپنی جدوجہدکوجاری رکھیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 439 ویں فکری نشست سے خطاب
31 جولائی 2026ء
🚨مسلح افراد کی فائرنگ سے ایم کیوایم کے سینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت اور بیٹے فصیح رحمانی کے زخمی ہونے کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ
سمیع رحمانی کی شہادت کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے، قاتلوں کوفی الفور گرفتار کیا جائے۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ*
لندن……29 جولائی 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایم کیوایم کے سینئر کارکن اور فیڈرل بی ایریا سیکٹریونٹ 153کے سابق یونٹ انچارج سمیع الدین رحمانی کی شہادت اوران کے بیٹے فصیح رحمانی کے زخمی ہونے کے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے۔ ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے جاری کردہ اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ سمیع رحمانی کی شہادت کا یہ واقعہ کراچی میں امن وامان کی تباہ شدہ صورتحال کاایک منہ بولتا ثبوت ہے، شہر میں جرائم پیشہ عناصر دندناتے پھررہے ہیں اور شہرمیں کسی بھی علاقے میں عوام کی جان ومال کوکوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ سمیع الدین رحمانی کی شہادت کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے اورقاتلوں کوفی الفور گرفتارکیا جائے۔ رابطہ کمیٹی نے سمیع رحمانی شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکیا اوران کے زخمی صاحبزادے فصیح رحمانی کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
ایم کیوایم کے سینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت پر متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تعزیت
لندن……29 جولائی 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کراچی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایم کیوایم کےسینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت اوران کے بیٹے فصیح رحمانی کے زخمی ہونے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے تمام لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ میں اور ایم کیوایم کے تمام کارکنان دکھ اور صدمے کی اس گھڑی میں آپ کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نےدعاکی کہ اللہ تعالیٰ سمیع رحمانی شہید کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اوراہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے بیٹے فصیح رحمانی کی صحتیابی کے لئے بھی دعاکی ہے۔
معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنا بند کی جائے، الطاف حسین
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا#RightsMovementAJK#Kashmir
کشمیر میں اپنے حقوق کےلئے پرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر پولیس اورسیکوریٹی فورسزکی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور درجنوں کشمیریوں کے شہیدوزخمی ہونے کے واقعات دلخراش ہیں۔ مظلوم کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے پرامن احتجاج کررہے ہیں، دھرنادیے ہوئے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے اورانہیں حل کرنے کے بجائے انہیں طاقت سے کچلا جارہاہے۔ان پرگولیاں برسائی جارہی ہیں۔ اب تک سینکڑوں کشمیری شہیدوزخمی ہوچکے ہیں۔ آج بھی راولاکوٹ، میرپور اور دیگرعلاقوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر نہتے کشمیری عوام نے پرامن مظاہرے کئے تھے لیکن نہتے کشمیریوں پر پولیس اورسیکوریٹی فورسز نے اندھادھند فائرنگ کی، ہرشہرمیں سڑکوں پر لاشیں اورزخمی پڑے رہے، بہت سی لاشوں اور زخمیوں کو بھی سیکوریٹی فورسز اٹھاکرلے گئیں، سیکوریٹی فورسز نے اسپتالوں پر بھی قبضہ کرلیااورزخمیوں کوعلاج کرانے نہیں دیا گیا۔
آج کشمیرکی خوبصورت وادی میں نہتے کشمیریوں کے خون سے جس طرح ہولی کھیلی گئی ہے،لیکن حکومت کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کوہدایت کردی گئی کہ وہ اس حوالے سے کوئی خبرنہ دیں تاکہ اس خون کی ہولی کودنیا سے چھپایا جاسکے لیکن اس کوچھپایا نہیں جاسکتا، انٹرنیشنل میڈیاپر اس کی رپورٹس آئی ہیں، اس بارے میں سوشل میڈیا پرجو وڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں انہیں دیکھ کردل خون کے آنسو روتا ہے، کیا اس طرح کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل کراورکشمیر کوخون میں نہلا کر کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے؟
میں حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ خدارا معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنا بند کی جائے، وہاں مظالم بند کئے جائیں۔ کشمیریوں کوان کا حق دیا جائے۔میں پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہونے والے معصوم کشمیریوں کو خراج عقید ت پیش کرتاہوں، ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتاہوں اورانہیں یقین دلاتا ہوں کہ الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم آپ کے غم میں برابرکی شریک ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 438 ویں فکری نشست سے خطاب
28 جولائی 2026ء
Gen-Z of Pakistan should play role to end oppression : Altaf Hussain
#Pakistan is in a critical condition. We need to unite, think deeply, and get ready to fight hard to free our nation from the harsh control of the ruling class and military power. To eliminate the current system of unfairness and suppression, the young people of Pakistan, particularly Generation Z, need to step up. Just like movements for change have occurred worldwide, the youth of Pakistan, together with everyone from different backgrounds, must come together to create change and liberate the country from its leaders.
Without such a movement, it appears extremely difficult to end the entrenched corrupt system and achieve Pakistan's progress and stability. If the people continue to rely only on slogans and speeches, nothing will change.
The legal system in Pakistan is controlled by those in power. Six judges from the Islamabad High Court reported to the Supreme Court that the government was trying to influence them to make beneficial decisions in specific cases. Instead of looking into these serious claims, the judges faced backlash and were moved to different high courts. This hinders the ability to achieve justice.
@ImranKhanPTI has been in jail for three years. Even though the High Court has given clear instructions, his lawyers are said to have been prevented from seeing him. It is alleged that he has gone blind in one eye during his time in detention, but he still has not been brought before the court. Do the judges of the higher courts not know about this matter?
I think the punishment given to Imran Khan related to the incidents of May 9, 2023, was also unfair.
He was taken into custody by Rangers while at the Islamabad High Court on May 8, 2023, just a day before the occurrences on May 9, and he stayed in their custody on that day. During the demonstrations happening all over the country on May 9, Imran Khan was not at any of those places. So, how can a case connected to the events of May 9 be linked to him? I am astonished that his lawyers did not bring up such a significant legal argument during the trial in front of the court.
If Shah Mahmood Qureshi from Pakistan Tehreek-e-Insaf could be cleared from the cases related to May 9 because he wasn't there, then why is Imran Khan being found guilty?
The present circumstances have gotten to a stage where a regular person looking for justice has no options. Even when individuals go to the higher courts instead of the lower ones, it is claimed that judges in the High Court face influence from those in power to make choices that please them.
Those judges who went to the Supreme Court saying they were under pressure, that their families faced harassment, and that they were being threatened, were instead punished rather than receiving protection.
To put an end to this oppression, young people in Pakistan, especially those from Generation Z, need to take action. Not long ago, in India, young people from Generation Z linked to the Cockroach Janta Party @CJP_for_India held protests even without an official leader or political group.
They encountered charges from police and acts of aggression, and there were reports of injuries or deaths among some young demonstrators. However, they persisted in their protests until the government agreed to their requests. The Minister of Education stepped down, and the young demonstrators ultimately achieved what they were fighting for.
The youth of Pakistan should come together and launch a united effort to change the country's system and put an end to unfair treatment and oppression. If they are willing to endure police charges, gas attacks, arrests, and make sacrifices like the Kakroach Janta Party demonstrators did, then even the strongest powers in Pakistan will have no choice but to give in.
Altaf Hussain.
London. UK.
436th public address via TikTok on July 25, 2026.
@abhijeet_dipke
پاکستان میں ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے جین زی کوآگے آنا ہوگا۔الطا ف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، ہمیں ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا، غوروفکر کرنا ہوگا اورحکمراں اشرافیہ کے جابرانہ دور اور جرنیل شاہی سے نجات کے لئے سخت جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہونا ہوگا۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں، جین زی کوآگے آنا ہوگا، جس طرح پوری دنیا میں انقلابات آئے ہیں اسی طرح پاکستان کے نوجوانوں اورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ملک میں انقلاب برپا کرنے اورحکمراں اشرافیہ سے نجات کے لئے ملکر جدوجہد کرنی ہوگی، انقلاب کے بغیرپاکستان میں مسلط کرپٹ نظام اورحکمراں اشرافیہ سے نجات اورملک کی ترقی واستحکام بہت مشکل نظرآتا ہے، اگر پاکستان کے عوام صرف نعروں پر اورباتوں پر چلتے رہے تواس سے کچھ نہیں ہو گا۔
پاکستان میں نظام انصاف حکمراں اشرافیہ کے تابع کردیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بعض مقدمات میں مرضی کے فیصلوں کے لئے دباؤ ڈالنے کی سپریم کورٹ میں شکایت کی تھی،ان کی اس سنگین شکایت پر کاروائی کرنے کے بجائے انتقام کا نشانہ بنایا گیا اوران کے دوسری ہائیکورٹس میں تبادلے کردیے گئے ہیں، اس طرح انصاف کے راستے بند کئے جارہے ہیں۔عمران خان تین سال سے قید ہیں، ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے وکلاء کی ان سے ملاقات نہیں کروائی جارہی ہے، قید میں عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے لیکن انہیں پیش نہیں کیا جارہاہے، کیا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے علم میں یہ بات نہیں ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو9 مئی 2023ء کے واقعات میں جوسزا دی گئی ہے وہ بھی غلط دی گئی ہے کیونکہ عمران خان کو توایک روز قبل یعنی 8 مئی 2023ء کواسلام آباد ہائیکورٹ کے اندرسے رینجرز نے گرفتارکرلیا تھا اوروہ 9 مئی کووہ رینجرز کی حراست میں تھے، 9 مئی کوملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران جوبھی واقعات ہوئے تھے،عمران خان ان میں کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھرعمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات کامقدمہ عمران خان کے خلاف کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ مجھے حیرت ہے کہ اس کیس کے ٹرائل کے دوران عمران خان کے وکلاء نے اتنا اہم نکتہ عدالت کے سامنے کیوں نہیں اٹھایا؟جب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمودقریشی کو عدم موجودگی کی بنیاد پر 9مئی کے مقدمات سے بری کیا جاسکتا ہے تو عمران خان کوسزا کیسے دی جاسکتی ہے؟
موجودہ دوراس طرح کا ہوگیا ہے کہ صرف انصاف مانگنے کےلئے پاکستان کا شہری جائے تو کہاں جائے؟ جب وہ نیچے کی عدالت میں نہیں بلکہ عدالت عالیہ میں جائے توہائیکورٹ کے ججوں پر حکمراں اشرافیہ کی جانب سے دباؤ آجاتا ہے کہ” فیصلہ وہ کرنا جیسا ہم چاہیں“۔ وہ ججز سپریم کورٹ میں درخواست دیں کہ ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، ہمارے اہل خانہ کوہراساں کیا جارہا ہے، ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے، لیکن انہیں انصاف دینے کے بجائے سزا دیدی جاتی ہے۔ملک میں جاری اس ظلم وجبر کے نظام سے نجات کے لئے پاکستان کے نوجوانوں ،جین زی کو آگے آنا ہوگا، ابھی انڈیا میں جین زی نے کاکروج جنتا پارٹی نے مظاہرہ کیا جن کا کوئی لیڈرنہیں،کوئی جماعت نہیں، ان پرلاٹھی چارج کیا گیا، تشدد کیا گیا، کچھ نوجوان ہلاک اورزخمی بھی ہوئے لیکن نوجوانوں نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا، بالآخر حکومت کوان کے مطالبات ماننے پڑے، وزیرتعلیم کواستعفیٰ دینا پڑا اور نوجوان اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے۔
ہماری جین زی کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے نظام کوبدلنے کے لئے، ظلم و جبر کے خاتمے کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کا آغاز کریں، اگر وہ بھی اس جدوجہد میں کاکروج جنتاپارٹی کی طرح لاٹھی چارج، شیلنگ کا سامنا کرنے، گرفتارہونے اورقربانیاں دینے کے لئے تیارہوجائیں تویہاں بھی بڑی بڑی طاقتوں کوگھٹنے ٹیکنا پڑیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 436 ویں فکری نشست سے خطاب
25 جولائی 2026ء