I strongly condemn the attack on the Rangers’ Headquarters in #Karachi and express my grief over the martyrdom of #Rangers personnel in this attack. However, I also strongly condemn Pakistan’s air strikes on civilian homes in the Afghan provinces of #Paktia, #Paktika, and #Kunar in response to this attack, and I express my sorrow over the deaths of innocent #Afghan women and children in these attacks.
These attacks on civilian in #Afghanistan will provide justification for a retaliatory response from Afghanistan against Pakistan and will further increase the severe tensions between the two countries, potentially pushing the situation towards war.
I strongly condemn the terrorist attack carried out on the Rangers’ Headquarters in Karachi. I believe that #Pakistan should have lodged a strong protest with Afghanistan over this attack and raised the matter at the United Nations and other international forums. If a retaliatory attack was deemed necessary, then it should have targeted Afghan military positions or military posts to settle the matter, so that civilian lives were not lost. Unfortunately, Pakistan carried out air strikes on civilian homes in Afghanistan, resulting in the deaths and injuries of dozens of innocent Afghan women and children. This is not only being stated by the Afghan government, but international media, the United Nations Assistance Mission in Afghanistan, @UNAMAnews the @UN Special Rapporteur for Afghanistan @SR_Afghanistan are also reporting in their official statements that Pakistan’s air strikes killed 28 civilian women and children and injured 49 others. What harm had these innocent women and children done to anyone?
I, along with the MQM Coordination Committee and the Central Executive Committee, strongly condemn the terrorist attack on the Rangers’ Headquarters in Karachi. We express our deep sorrow over the martyrdom of Rangers personnel and extend our heartfelt condolences to the families of those who lost their lives. At the same time, we strongly condemn the air strikes carried out in Afghanistan, express our grief over the deaths of innocent women and children, and extend our sympathy and solidarity to our Afghan brothers.
In response to these air strikes in Afghanistan, there may also be attacks from Afghanistan, and if civilians become targets in such retaliatory attacks, then the responsibility will lie with those military officials and current rulers who ordered air strikes on civilian populations in Afghanistan.
I would like to say to the Government of Pakistan and the military authorities: if someone attacks your military bases or defence installations, you have every right to defend yourself and respond to those attacks. But for God’s sake, do not target civilian populations, residential buildings, and innocent women and children in retaliatory attacks.
I also say to the Afghan government that it should take action against those terrorist elements who come from Afghanistan and carry out attacks against Pakistan, or expel them from its territory.
Pakistan’s civilian and military authorities should think today about how those Afghans who were once your closest friends have now become your enemies. You involved Afghan people in the war against Russia in order to serve American interests and drive Russia out of Afghanistan; you provided them with military training, money, weapons, and every kind of support. In the name of jihad, you created militant organisations, recruited people from across Pakistan, and sent them to Afghanistan to fight against Russia.
After Russia’s withdrawal, a government of your own mujahideen was established in Afghanistan. Then you created the Taliban and supported them financially and militarily in every way. The Taliban government was established there. After providing so much support, you should have had a very good friendship with your Afghan brothers — but why did hostility emerge instead of friendship with the Afghan Taliban?
1/2
کشمیری رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری، بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ایم کیو ایم کے کارکنان گرفتار اور لاپتہ ہیں۔
پاکستان کے مجموعی حالات و واقعات تشویشناک ہیں۔ عوام اور عسکری اداروں میں یکجہتی ناپید ہے، پاکستان کی حکومت اور عسکری حکام اپنی روش کو بدلیں
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹس اینکرز، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کی پہچان کیسے ہو ؟ دیکھیے اس تازہ وڈیو لاگ میں ۔
وفا پرست اپنے اتحاد سے منفی پروپیگنڈے کی لہر کو ناکام بنائیں
2/2
آج کشمیری عوام پر جومظالم ڈھائے جارہے ہیں میں اس دردکواچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ مظلوم ہی مظلوم کے دردکوسمجھ سکتا ہے، اپنے حقوق کےلئے جدوجہد کرنے پر ہمارے خلاف بھی فوجی آپریشن کیا گیا، ہمارے ہزاروں معصوم وبے گناہ ساتھیوں کو سفاکی سے شہید کیا گیا، ہمارے رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئیں، ہمارے بے شمار ساتھیوں کولاپتہ کیا گیا، انہیں ماؤرائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پھینکی گئیں، ہمارے سینکڑوں ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انہیں اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں گمنام مقام پر دفن کردیا گیا،ان کے اہل خانہ کو ان کی لاشیں حوالےنہیں کی گئیں،ہمارے بے شمار ساتھی آج بھی جیلوں میں اذیتیں بھگت رہے ہیں۔ ایسے ظلم کانشانہ بننے والوں پر کیاگزرتی ہے، میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔ میں کشمیریوں کے غم میں برابر کاشریک ہوں اور حقوق کی اس جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ ہوں۔
میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نوازمیر اوردیگر کشمیریوں کی گرفتاریوں، ان کی جانوں کولاحق خطرات اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ اوراپنے اپنے ملک کی حکومتوں اورارکان پارلیمنٹ کوخطوط لکھیں اور پرامن احتجاج کریں۔ میں پاکستان کی حکومت سے پھر کہتاہوں کہ کشمیر میں فوجی آپریشن بند کیا جائے اورکشمیری عوام کوان کے حقوق دیے جائیں۔ شوکت نوازمیرسمیت تمام کشمیریوں کوفی الفور رہا کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹا ک پر 426 ویں فکری نشست سے خطاب
3جولائی 2026ء
#RightsMovementAJK
کشمیر میں فوجی آپریشن بند کیا جائے، شوکت نوازمیرسمیت تمام کشمیریوں کوفی الفور رہا کیاجائے۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
اس وقت پاکستان میں مسئلہ بلوچستان سنگین شکل اختیارکرچکا ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا کامسئلہ بھی انتہائی خطرناک ہوتاجارہا ہے، افغانستان سے بھی کشیدگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کےحکمرانوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ غیرحقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے ناراض ہیں۔ 78برسوں میں کشمیرکے نام پرانڈیاسے تین جنگیں بھی ہوئیں، کشمیریوں نے پاکستان کی خاطر بڑی قربانیاں دیں، پاکستان کے سیاسی وعسکری حکمرانوں اور عیارومکارسیاسی رہنماؤں نےکشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا اورکشمیری عوام کو ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کانعرہ دیا۔وہ کشمیریوں کو ایسے ہی نعروں کی لوریاں سناکر سلاتے رہے اور انہیں کشمیربنے گا پاکستان کے سہانے خواب دکھائےجاتے رہے۔ کشمیری عوام اس نعرے پر قربانیاں دیتے رہے، لیکن جب کشمیری عوام کی آنکھ کھلی اوروہ نیند سے بیدار ہوئے توانہیں معلوم ہوا کہ کشمیربنے گا پاکستان کا نعرہ حقیقت نہیں بلکہ محض ایک خواب تھا۔ کشمیرپاکستان تونہ بن سکاالبتہ آدھے سے زیادہ کشمیر ہندوستان کا حصہ بن گیا۔
تاریخی طورپر ریاست جموں و کشمیر تقسیم برصغیرسے قبل ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی جہاں ڈوگرہ راج تھا، جب 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اورہندوستان کی دیگرپرنسلے اسٹیٹس کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو بھی اس بات کااختیاردیاگیاکہ وہ چاہیں تو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیں، چاہیں توپاکستان میں شامل ہوجائیں یاچاہیں توخودمختارریاست کے طورپرآزاد رہیں۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھا اوراس سلسلے میں باقاعدہ الحاق نامے پر دستخط کرلیئے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کی رو سے پوری ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ بن گئی تھی لیکن پاکستان نے قبائلیوں کوبھیج کرریاست کشمیر پر حملہ کیااورکچھ علاقہ پر کنٹرول کرلیا، اقوام متحدہ نے سیزفائر لائن کھینچی جوایل او سی یالائن آف کنٹرول بن گئی، کشمیر کاجوحصہ پاکستان کے زیرانتظام ہوا اسے آزادکشمیر کانام دیدیا گیا لیکن کشمیری مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق نامے کی روسے ہندوستان دعویٰ کرتاہے کہ آزادکشمیراس کاحصہ ہے۔ 2019ء میں ہندوستان نےاپنے آئین کے آرٹیکل 370کو ہٹا کر اپنے زیرانتظام کشمیرکو ہندوستان کے جغرافیے کاباقاعدہ حصہ بنالیاہے۔ اب وہاں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ یہ سب اطلاعات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کومل رہی ہیں اور کشمیری عوام بالخصوص نئی نسل اپنے بنیاد ی حقوق کے لئے آوازاٹھارہی ہے۔کشمیریوں کے نوجوانوں نے اپنے بنیادی حقوق کےلئےکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی بناکر جدوجہد شروع کی تو حکومت پاکستان نے ان کی جدوجہد کو سبوتاژکرنے کے لئے مذاکرات اورمعاہدہ کے نام پر کشمیرایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کااعلان کیا لیکن ان سے کئے گئے معاہدے پرکوئی عمل نہیں کیا گیا، کشمیری عوام سمجھ گئے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہےلہٰذا انہوں نے اپنے حقوق کےلئے دوبارہ جدوجہد کاآغاز کردیا اورپرامن احتجاج شروع کیاتوحکومت پاکستان کشمیریوں کی بات سننےکے بجائےان کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے، اپنے حقوق کے لئے باہرنکلنے والے کشمیریوں پر گولیاں چلائی گئیں،بے شمارکشمیریوں کو شہید کردیاگیا، ان کی لاشیں تک لواحقین کو نہیں دی جارہی ہیں، سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کے لیئے قائم ہونے والی تنظیم کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوکالعدم قراردیدیا گیاہے اوران کے رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نوازمیر کوفوج نے سفاکانہ انداز میں گرفتارکرلیاہے، ان کی گرفتاری بھی ایسے کی گئی جیسے وہ کوئی بہت بڑے دہشت گرد ہیں، اب اطلاعات مل رہی ہیں شوکت نواز کی زندگی شدیدخطرے میں ہے۔
میں نے کشمیریوں کی آزادی وخودمختاری اوران کےحقوق کے لئے ہمیشہ آوازبلند کی، میں نے ہمیشہ یہی مؤقف اختیارکیاکہ کشمیرصرف کشمیریوں کاہے، کشمیرکافیصلہ کرنے کا حق بھی صرف کشمیریوں کو ہے، میں نے کشمیری عوام سے ہمیشہ کہاکہ اگر انہیں حق خودارادیت دیاجائے تووہ کسی سے الحاق نہ کریں بلکہ آزاد وخودمختار کشمیر کےلئے جدوجہدکریں تواس پر کشمیریوں اورپنجابیوں نے مجھے برابھلا کہا، مجھ پریہ الزام لگایاکہ الطاف حسین ہندوستان کی زبان بول رہاہے لیکن میں کشمیریوں کے حق کے لئے آواز اٹھاتارہا، آج تمام کشمیری عوام وہی کہہ رہے ہیں جوبرسوں پہلے میں نے کہاتھا۔
1/2
(مزید پڑھئیے اگلے ٹوئیٹ میں)
الطاف حسین نے پاکستان کے فرسودہ ظالمانہ نظام
کے اسٹیٹس کو، کو توڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (نواز گروپ ) سمیت پاکستان کی سیاسی ومذہبی انتخابی ٹکٹیں فروخت کرتی رہی ہیں،ان
جماعتوں میں کسی نےبینرز لگانے اوردریاں بچھانے والے اپنے تعلیم یافتہ اورمحنتی کارکنوں کوانتخابی ٹکٹ نہیں دیئے۔انتخابات سے قبل یہ سیاسی ومذہبی جماعتیں انتخابی ٹکٹوں کے نرخ مقررکرتی ہیں اورپھر ملک کے بڑے اخبارات کے پہلے یاآخری صفحات پر اشتہارات دیتی رہی ہیں کہ جو افراد صوبائی اورقومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے وہ اپنی درخواستوں اورانتخابی فارم کے ہمراہ ناقابل واپسی فیس جمع کرائیں جوکہ کروڑوں روپے ہوا کرتی ہے اورغریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہونے کے باوجود محض اسلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتا تھا کہ وہ انتخابی ٹکٹ کیلئے کروڑوں روپے ادا کرنے سے قاصر ہوتا تھا۔ انتخابی ٹکٹوں کی خریدوفروخت کے علاوہ موروثی سیاست بھی چلتی ہے اور ان جماعتوں کےسینئرارکان اورکارکنان کو نظرانداز کرکے پارٹی کے لیڈروں اوران کے خاندان کے افراد کو انتخابی ٹکٹوں سے نوازاجاتارہا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں الطاف حسین کی ایم کیوایم واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اس روایت کوبدلا اور میرٹ کی بنیاد پر اپنے جماعت کے غریب اورمتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو بغیرکسی فیس کے صوبائی اسمبلی ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے انتخابی ٹکٹ دیئے، ان کی انتخابی فیس جمع کرائی ، انتخابی اخراجات برداشت کیے اور انہیں منتخب ایوانوں میں پہنچایا۔
پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو،بے نظیربھٹو، ن لیگ کے بانی نوازشریف، اے این پی کے بانی خان ولی خان،جے یوآئی (ف) کے بانی مفتی محمود ، جماعت اسلامی کے امیرمیاں طفیل اورپی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت ہرجماعت کے سربراہ نےصوبائی اسمبلی ،قومی اسمبلی اورسینیٹ کےانتخابات میں حصہ لیا لیکن ایم کیوایم کا بانی الطاف حسین ،پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جس نے کبھی کونسلر تک کا الیکشن بھی نہیں لڑا اور نہ ہی اپنے بہن بھائی کو الیکشن لڑایا بلکہ اپنے کارکنوں کومیرٹ کی بنیادپر اسمبلیوں میں بھیجا۔
الطاف حسین نے پاکستان کے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ ،بے لگام سرمایہ دارانہ معاشرے میں غریب ومتوسط طبقے کی قیادت کا انقلاب برپاکرکے اپنی جماعت کے پڑھے لکھے افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیجا ، ایسا لیڈر پاکستان کی تاریخ میں الطاف حسین کے علاوہ کوئی نہیں ہے لیکن بعض اینکر پرسنز خواہ وہ پاکستان میں رہتے ہوں یا بیرون ملک جلاوطن رہ کرپوڈکاسٹ چلاتے ہوں وہ ہرخرابی کاذمہ دار الطاف حسین کو قراردیتے ہیں، الطاف حسین اورایم کیوایم پر جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔
کیایہ حقیقت نہیں ہے کہ نوازشریف ، بے نظیربھٹو سمیت تمام جماعتوں کے رہنماؤں پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے لیکن الطاف حسین پر آج تک کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا ۔الطاف حسین نے پاکستان کے فرسودہ ظالمانہ نظام کے اسٹیٹس کو ، کو توڑا ہے ،قیام پاکستان سے لیکرآج تک ملک میں دولت کی سیاست کے طلسم کو توڑا ، اسی لئے کرپٹ عناصر الطاف حسین کو پسند نہیں کرتے ،کرپٹ حکمرانوں نے فوج کے جرنیلوں کے ساتھ مل کر آدھاملک کھالیا لیکن اینکرپرسنز، وی لاگرز اوریوٹیوبرز جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کادعویٰ کرتے ہیں لیکن الطاف حسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے پہلے فرسودہ جاگیردارانہ اورجنرل شاہی نظام کے خلاف زوردار اورتوانا آواز الطاف حسین نے بلند کی لیکن اس کے باوجود ایم کیوایم اورالطاف حسین کو ہی تمام خرابیوں کا ذمہ دارقراردیاجاتا ہے ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 426 ویں فکری نشست سے خطاب
3، جولائی 2026ء
ایم کیوایم کے کارکن سعید گدی کی شہادت طبعی موت نہیں بلکہ حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل ہے
……………………………………………………
آج صبح یہ افسوسناک خبرملی کہ ایم کیوایم حیدرآباد زون کے سینئر بزرگ کارکن محمد سعید گدی عرف سعید مہاجر کوحیدرآباد سینٹرل جیل میں حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل کردیاگیا……انا للہ وانا الیہ راجعون
#StopKillingMQMWorkers
سعید گدی شہید کاقصور یہ تھا کہ وہ ایم کیوایم کی 48 سالہ روایت برقراررکھتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کے عمل میں مصروف تھے، پہلے مستحقین میں ایم کیوایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت امدادی سرگرمیاں کی جاتی تھیں اور اب یہ سلسلہ وفافاؤنڈیشن کے ذریعے جاری ہے، گزشتہ رمضان المبارک کے موقع پر عید الفطر سے قبل محمد سعید گدی نے حیدرآباد میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مستحقین اورضرورتمندوں میں راشن، کپڑے اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیاتھا جس کی پاداش میں 19، مارچ2026ء کو پولیس نے محمد سعید گدی سمیت 8 کارکنان پردہشت گردی کایہ جھوٹا مقدمہ درج کرلیا کہ یہ لوگ پاکستان کے خلاف نعرے لگارہے تھے، مقدمے کے اندراج کے بعد سعید گدی اوردیگرکارکنان کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا، انہوں نے وکلاء کے مشورے سے انسداددہشت گردی کی عدالت میں ضمانت کیلئے درخواست جمع کرائی،27، مارچ 2026ء کو عدالت میں پیشی ہوئی تو انہوں نے جج کو بتایا کہ ہم امدادی سرگرمیاں کررہے تھے، ہم نے کوئی جلسہ جلوس نہیں کیا اورنہ ہی ریاست کے خلاف نعرے بازی کی ہے، ہم پر جھوٹا الزام لگایاگیا ہے،جج نے ضمانت منظورکرنے کے بجائے سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کردی، اس کے بعد ان آٹھوں کارکنان کو عدالت کے اندرسے گرفتارکرکے کئی روز تک لاپتہ رکھاگیا۔ 14، اپریل 2026ء کو محمد سعید گدی سمیت آٹھوں کارکنوں کی گرفتاری ظاہرکردی گئی اورانہیں جوڈیشنل کسٹڈی میں حیدرآباد سینٹرل جیل شفٹ کردیاگیا۔
65 سالہ محمد سعید گدی شہید شوگراوردل کے عارضے کے ساتھ ساتھ جلدی مرض Cellulitis میں بھی مبتلا تھے اس کے باوجود غیرقانونی حراست میں انہیں بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایاجاتارہا اورعلاج ومعالجے کی سہولت سے محروم رکھاگیا، جیل میں حراست کے دوران بھی انہیں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، سعید گدی شہید کے گھروالوں نے بھی جیل انتظامیہ سے علاج ومعالجے کی باربار درخواستیں کیں مگرسعید گدی کو طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے اذیتیں دی جاتی رہیں اور جب اتوارکی علی الصبح ان کی حالت غیرہوگئی اوروہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ یہ طبعی موت نہیں ہے بلکہ محمد سعید گدی کو حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل کیاگیا ہے۔
محمد سعید گدی شہید کے ماورائے عدالت قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان کے تمام انسان دوست عوام کو اس ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرنی چاہیے۔ ظالم حکمراں اورریاستی اداروں کے جرنیلوں کو سمجھنا چاہیے کہ ایم کیوایم کے وفاپرست کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بناکر اورانہیں ماورائے عدالت قتل کرکے عوام کے دلوں سے الطاف حسین اورایم کیوایم کی محبت کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔شہید کے لواحقین کے علاوہ حیدرآباد کے وفاپرست عوام نے سعید گدی شہید کے جنازے میں بہت بڑی تعداد میں شرکت کرکے ثابت کردیا ہے کہ حیدرآباد کے عوام کو ایم کیوایم اورالطاف حسین سے جدا نہیں کیاجاسکتا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے لیکن ظلم وجبر اورناانصافی کی حکومت نہیں چل سکتی، پیار، محبت اورانصاف سے ملک کو محفوظ رکھاجاسکتا ہے مگرعوام پر ظلم وجبر، قتل وغارتگری کے طرز عمل سے سرحدوں کو محفوظ نہیں رکھاجاسکتا، یہ ایک کلیہ ہے کہ جہاں عوام پرظلم اورناانصافیاں کی جائیں وہ جغرافیے ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ محمد سعید گدی شہید کے ماورائے عدالت قتل کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جیل انتظامیہ پرقتل کامقدمہ درج کیاجائے اور جیلر سمیت تمام پولیس اہلکاروں کو گرفتارکرکے سزا دی جائے۔
وہ اینکرپرسنز، یوٹیوبرزاوروی لاگرز جوہرواقعہ کاالزام ایم کیوایم پر ڈال دیتے ہیں وہ ایم کیوایم کے بزرگ کارکن سعید گدی کے ماورائے عدالت قتل کے سفاکانہ واقعہ پرکیوں خاموش ہیں؟ انہیں ظلم کایہ واقعہ کیوں نظرنہیں آتا؟
میں محمد سعید گدی شہید کے لواحقین کاکرب سمجھ سکتا ہوں اوردکھ کی اس گھڑی میں سوگواران کے غم میں برابرکا شریک ہوں، میں اپنے مخلص اوروفادار ساتھی کی شہادت پر اپنی اوررابطہ کمیٹی کی جانب سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہارکرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ محمد سعید گدی شہید کے درجات بلندفرمائے اورسوگوارلواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔ (آمین ثمہ آمین)
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 427 ویں فکری نشست سے خطاب
5، جولائی2026ء
خدارا کشمیریوں کی آواز کوطاقت سے دبانے کے بجائے ان سے باضابطہ مذاکرات کئےجائیں۔الطاف حسین
#RightsMovementAJK
آزادکشمیر کی صورتحال روز بروز بگڑتی جارہی ہے، کشمیریوں پر ظلم کیاجارہا ہے، کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا ہے، کشمیری عوام اپناحق مانگنے کے لئے سڑکوں پرنکل آئے ہیں توان کوطاقت اورظلم وجبر کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔راولاکوٹ اورکشمیر کے دیگر شہروں میں کشمیر عوام پر گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں،
پاکستان کے حکمرانوں کوسوچنا ہوگا کہ جس کشمیرکے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد کواپنامفاد سمجھا، ” کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے کی حمایت کی اوراس کے ساتھ کھڑے رہے، اس کے لئے قربانیاں دیں، ہمیشہ فوج کاساتھ دیا لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اپناحق مانگنے پر وہی فوج کشمیریوں پر چڑھائی کررہی ہے، ان کوجبروستم کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ریاستی ظلم وجبر کی پالیسی کے نتیجے میں آج کشمیرمیں ہرجگہ آزادی کے نعرے بلند ہورہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگرکشمیر میں ظلم وستم کایہ سلسلہ جاری رہا توکشمیر کبھی پاکستان کاحصہ نہیں بن سکتا۔
لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ خدارا کشمیری عوام پر گولیاں چلانے،ان پر چڑھائی کرنے، ان کے رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے اوران کی آواز کوطاقت سے دبانے کے بجائے ان سے باضابطہ مذاکرات کئے جائیں، مذاکرات کے ذریعے ان کے جائز مطالبات مانے جائیں، ہرمسئلے کاحل طاقت سے نکالنے کے بجائے بات چیت کاراستہ اختیار کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔
جہاں تک الطاف حسین کاتعلق ہے تووہ گزشتہ 45 سال سے کشمیریوں کے حق حکمرانی کی حمایت کرتا رہا ہے،ان کے لئے آواز اٹھاتا رہا ہے، ان کی مکمل آزادی اور خودمختاری کی حمایت کرتارہا ہے اورآج بھی کرتا ہے۔ہم نے کشمیریوں کے حق کے لئے آواز اٹھاکر ان پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارافرض ہےکہ ہم مظلوم قوموں کے لئے کچھ کرنہیں سکتے تو کم از کم ان کےحق میں آوازبلند کریں، ان کے حق کی حمایت کریں اوروہ احتجاج کریں تو ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 427 ویں فکری نشست سے خطاب
5 جولائی 2026ء
پاکستان کاپورانظام حکومت اور ادارے حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں ۔ الطاف حسین
غریب ومتوسط طبقے کے عوام 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں
ملک میں تبدیلی صرف مشترکہ عملی جدوجہد سے ہی آسکتی ہے
……………………………………………………
پاکستان کاپورا نظام حکومت اورتمام ادارے رولنگ ایلیٹ یا2 فیصد حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں جبکہ ملک کے 98 فیصد غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس عوام غیراعلانیہ طورپر 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کا پوراسسٹم آج اس حکمراں اشرافیہ کے ہاتھوں جکڑا ہوا ہے، آج صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ حکمراں اشرافیہ میں شامل کوئی جاگیردار، وڈیرہ، سردار یا کوئی سرمایہ دار یااس کے خاندان کاکوئی فردکسی غریب یامڈل کلاس خاندان یااس کے کسی فرد کے ساتھ کوئی ظلم یازیادتی کرے تواس مظلوم کو کہیں انصاف نہیں ملتا، وہ تھانے میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے جائے توپولیس اس کامقدمہ درج نہیں کرتی اوراگرکہیں کوئی ایف آئی درج ہوبھی جائے تواس میں مظلوم کے ساتھ زیادتی کرنے والے حکمراں اشرافیہ کے فردکے لئے بچ نکلنے کاراستہ بنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگراس حکمراں اشرافیہ کا جاگیردار، وڈیرہ، سردار یاکوئی سرمایہ دار یااس کااوباش بیٹا کسی غریب کوقتل بھی کردے توپولیس اسے گرفتار نہیں کرتی، گرفتارکرلے توعدالت اسے سزانہیں دیتی بلکہ مقتول کے خاندان پر مقدمہ واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جاتاہے، قرآن کی آیات اور احادیث کواپنے مفاد کے لئے فروخت کرنے والے ملاؤں کے ذریعے دیت کے نام پر پیسہ لیکر خاموش ہوجانے پرمجبور کیاجاتاہے، قاتل کوپیسہ دیکررہاکرالیا جاتا ہے،وہ وکٹری کا نشان بناکرجیل سے باہر آجاتاہے،اس طرح غریب کے قتل کے بعد انصاف کابھی قتل کیا جاتاہے۔اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ظالمانہ نظام چل رہاہے اورجواس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائے اسے غدار و طن، دہشت گرد اور کرمنل قرار دیاجاتا ہے اوردنیا کاہرالزام اس پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جواپنے اصولوں کاسودا کرلے، کمپرومائز کرلے اس کی معافی ہے لیکن جواصولوں کاسودا کرنے سے انکار کردے اورظلم کوظلم کہے تو اس پرمظالم کے پہاڑتوڑے جاتے ہیں، اسی جرم میں الطاف حسین 34برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے، یہی پاکستان کاالمیہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے غریب، لوئر مڈل کلاس اورمڈل کلا س عوام ملک میں انصاف کے حصول سے مکمل طورپرمحروم اورمایوس ہوچکے ہیں۔
میں سوال کرتاہوں کہ عمران خان کا کیا جرم تھا کہ انہیں اوران کے عمررسیدہ رہنماؤں کو تین برسوں سے جیل میں قیدرکھا ہوا ہے؟ پاکستان میں کونسا صوبہ یاعلاقہ ہے جہاں مظلوم قوموں پر ظلم نہ ہورہاہو؟ مہاجروں پر 1992ء سے آپریشن کے نام پر ظلم ہورہا ہے، بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، پختونوں کا قتل ہورہا ہے، اب کشمیریوں پر بھی ریاستی مظالم ہورہے ہیں۔عوام جب تک اس ظالمانہ نظام کے خلاف نہیں اٹھیں گے اوراس ظلم سے نجات کے لئے جدوجہد نہیں کریں گے وہ مظالم کانشانہ بنتے رہیں گے۔انہیں یہ یاد رکھناچاہیے کہ حقوق کوئی طشتری میں رکھ کرنہیں دیتابلکہ اس کے حصول کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے بھی کہتاہوں کہ اگران کے لیڈر کمپرومائز کرچکے ہیں اوروہ جراتمندانہ فیصلے نہیں کررہے ہیں توکارکنوں خود گروپ بنا کرمیدان عمل میں آناچاہیے اورملک بھر کی سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہیے۔ پاکستان میں اگرچہ بولنے پر پابندی ہے لیکن اگرسب ملکربولیں گے توسب کی مشترکہ آوازیں اور عملی جدوجہد سے ضرور تبدیلی آسکتی ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 427 ویں فکری نشست سے خطاب
5 جولائی 2026ء
#StopKillingMQMworkers
*🚨ایم کیو ایم کے کارکن سعید گدی کی
حیدرآباد جیل میں طبعی موت یا حراست میں ماورائے عدالت قتل*
*‼️‼️‼️وڈیو رپورٹ* ‼️‼️‼️👇👇👇
https://t.co/wOSKn9gPcR
I strongly condemn the government’s decision to seal the shops of traders in Hyderabad, the second-largest city of Sindh. This is sheer injustice, an act of state intimidation, and a display of brutality.
These shops, located in the Chhoti Ghitti area of Hyderabad, were built many years ago by local traders through their hard-earned savings. However, under the cover of darkness, the government, through the police and civil administration, posted sealing notices on the shops and shopping plaza and proceeded to seal them. One of the buildings also houses a private hospital, and it too has been served with a notice of sealing.
This government action has created deep anxiety not only among the affected traders but also among the people of Hyderabad as a whole. The Sindh government’s decision to seal these shops amounts to the economic destruction of Hyderabad’s traders.
I strongly condemn this action and demand that the decision to seal the shops in Chhoti Ghitti be immediately withdrawn.
I assure the shopkeepers of Hyderabad that I stand in complete solidarity with them and fully support their legitimate demands.
پاکستان میں سول سپرمیسی جتنی پست آج ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں تھی، ملک میں جمہوریت ناپید ہے، سول حکومت صرف نام کی ہے، حکومت غیرسیاسی لوگ کررہے ہیں، ملک کی حکومت ہی نہیں بلکہ تمام قومی سویلین ادارے عسکری عناصر چلارہے ہیں،عدالتوں کاجس قدر برا حال ہے اتنا بدتر کبھی نہیں تھا، عوام کو انصاف ملنے کے تمام دروازے بند کئے جارہے ہیں، ملک کی معیشت تباہ حال ہے اور بحیثیت ملک و قوم، ہماراسفر پیچھے کی طرف جارہاہے،یہ صورتحال نہایت افسوسناک اورمایوس کن ہے لیکن حقائق پر مبنی ہے۔اسی مایوس کن صورتحال کی وجہ سے جس شہری کوموقع مل رہاہے وہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک جارہاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ایسے حالات سے مایوس ہوکرملک چھوڑ کر جانا مسئلے کاحل نہیں ہے، مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم ملک میں رہ کرجدوجہد کریں تاکہ ملک سے ظلم اورناانصافی کے راج کاخاتمہ ہوسکے، ملک کاموجودہ نظام اورحالات بہتر ہوسکیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ بہت مشکل کام ہے، پوری دنیا میں عوام نے ایسے ہی حالات سے تنگ آکر تبدیلی کے لئے میدان عمل میں آکرجدوجہد کی، قربانیاں دیں اور اپنے ہاں موجود اسٹیٹس کو کوختم کیا اور نظام کوتبدیل کیا۔
میں اس بات پر خوش ہوں کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شعورتیزی سے پھیل رہا ہے اور میرا پیغام اب ملک بھر میں گھرگھرپہنچ رہا ہے اورجولوگ کل تک ملک کے مسائل کے اسباب کونہیں سمجھتے تھے اب وہ بھی سمجھنے پر مجبور ہیں کہ ملک میں موجود مسائل کی اصل وجہ کیا ہے اور کون لوگ قصور وار ہیں۔آج سب یہی سوچ رہے ہیں کہ اس بچے کچھے ملک کو کیسے بچایا جائے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے ایک طرح کی آمریت نافذ ہے، اپوزیشن کوانتقام کا نشانہ بناکر بے اثرکیا جارہا ہے۔ سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوتین سال سے قید کیا ہوا ہے، عدالت کے احکامات کے باوجود عمران خان کے وکلاء اوررہنماؤں کی ان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے، جیل میں ان کے ساتھ جوسلوک کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے، بعض لوگوں میں عمران خان کی زندگی کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں جیل میں ان کی زندگی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک فوج کے جرنیل انہیں معاف نہیں کردیتے اورجرنیل اس وقت تک عمران خان کومعاف نہیں کریں گے جب تک امریکہ اس کے لئے راضی نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عمران خان کے تمام چاہنے والوں کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی رہائی کیلئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کولاکھوں کی تعداد میں خطوط لکھیں، پرامن احتجاج کریں، اگر ان کی لیڈرشپ مصلحت یاکسی بھی وجہ سے اس کافیصلہ کرنے سے گریز کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو شہر شہر اپنے گروپ بنا کر خود پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 428 ویں فکری نشست سے خطاب
10جولائی 2026ء
کرچی دشمن پیپلز پارٹی کا ایک اور ہولناک منصوبہ 7 لاکھ بوری گندم چوری کرنے والے کو کرچی میں تعینات کردیا جب نیب نے ایکشن لیا تو اب کرچی میں آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے 122 اور 132 والا اٹا 160 اور 170میں فروخت ہو رہا ہے جاگ کرچی جاگ
https://t.co/cC6xe6BhYM
میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد
میں تاجروں کی دکانیں سیل کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ سراسر ظلم ہے، حکومتی غنڈہ گردی اور بربریت ہے ۔
حیدرآباد کے علاقے چھوٹی گٹی میں یہ دکانیں ، شہر کے تاجروں نے اپنی محنت کی کمائی سے برسوں پہلے بنائی تھیں، لیکن حکومت نے پولیس و انتظامیہ کے ذریعے رات کی تاریکی میں سیل کرنے کے نوٹس دکانوں اور شاپنگ پلازہ پر لگا کر انہیں سیل کردیا ہے، ایک عمارت میں نجی اسپتال بھی قائم ہے، اسے بھی سیل کرنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے حیدرآباد کے ان تاجروں ہی میں نہیں بلکہ پورے حیدرآباد کے شہریوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ دکانوں کو سیل کرنےکا سندھ حکومت کا اقدام حیدرآباد کے تاجروں کا معاشی قتل ہے۔ میں اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ چھوٹی گٹی کی دکانوں کو سیل کرنے کا اقدام واپس لیا جائے ۔
میں حیدرآباد کےدکانداروں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔
کشمیریوں کوحق دینے کے بجائے لاشیں دی جا رہی ہیں، اب کشمیری ”کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگائیں گے؟ الطاف حسین
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#11JuneAltafHai#RightsMovementAJK
فو ج نے ماضی میں کشمیریوں کے نام پر دنیا بھر سے کھربوں ڈالر وصول کئے، مذہبی جماعتوں نے کشمیریوں کے لئے کیمپ لگا کر عوام سے چندے لئے، اربوں روپے جمع کئے، کشمیری عوام کونعرہ دیاگیا کہ”کشمیربنے گا پاکستان“ لیکن آج 80 سال ہونے کے باوجود کشمیریوں کو ان کاحق نہیں دیاگیا، کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، لیکن جب کشمیریوں نے اپناحق مانگا تو کشمیریوں کوغدار کہا جارہا ہے، کشمیریوں کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کوانڈین ایجنٹ قراردیدیا گیا۔
11جو ن 1978ء کواے پی ایم ایس او کاپرچم بلند ہوا، مہاجروں اورتمام مظلوموں کے حقوق کی بات کی، کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف آوازاٹھائی، توپنجابیوں، پشتونوں، کشمیریوں، سب نے کہاالطاف حسین غدار ہے، الطاف حسین غداری کے ان الزامات پر صبرکرتارہا، سب کے طعنے سنتارہا، کراچی سے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا شروع ہوئے لیکن پھرجس نے حق کی بات کی اسے انڈین ایجنٹ کہا گیا، اب کشمیریوں نے حق مانگا توانہیں بھی غدارقراردے دیا گیا۔ وہ اپنے حق کے لئے احتجاج کررہے ہیں تو کشمیری عوام پر فوج کشی کی جارہی ہے۔پورے کشمیرخصوصاًراولاکوٹ میں رینجرز اور پولیس نے گھروں میں گھس کرلوٹ مار کی، دکانوں کولوٹا، پرامن مظاہرین پر اسٹیٹ فائرنگ کی،کتنے ہی کشمیری شہید کئے گئے، انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ کشمیرمیں صرف ہی مرد ہی شہید نہیں ہوئےبلکہ چھوٹے چھوٹے بچے تک شہید ہوئے۔آج جس طرح کشمیر میں مظالم کئے جارہے ہیں، کیا یہ ظلم وستم دیکھ کرکوئی کشمیری پاکستان میں شامل ہوناچاہے گا؟ کل تک کشمیر ی آپ کاساتھ دیتے تھے، آپ کےلئے جانیں دیتے تھے، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ نعرے لگاتے تھے، لیکن آج آپ انہیں ان کاحق دینے کے بجائے گولیاں اورلاشیں دے رہے ہیں، پھر” کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگے گا؟ کشمیری اب یہ نعرہ لگانانہیں چاہتے، اب کشمیری عوام صرف آزاداورخودمختار ریاست کشمیر چاہتے ہیں، وہ بھارت یا پاکستان، کسی کاحصہ بننا نہیں چاہتے۔ میرا کشمیریوں کویہی پیغام ہےکہ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی عزت وناموس کے لئے کسی کا حصہ بننے کے بجائے آزاد وخودمختار کشمیر بنائیں۔الطاف حسین نے کشمیریوں کی ہمیشہ حمایت کی، آج پھر میں کشمیری عوام کویہ یقین دلاتا ہوں کہ جب تک الطاف حسین کی جان میں جان ہے، وہ کشمیریو ں کی حمایت کرتا رہے گااورعمل کے میدان میں کشمیریوں کے لئے جوکرسکتاہے،کرتا رہے گا۔
میں حکومت پاکستان اور فوج کے جرنیلوں سے کہوں گا کہ وہ خدارا ہوشمندی سے کام لیں، کشمیریوں پر ظلم بند کریں اوراس بات کوسمجھیں کہ جہاں عوام پر حق مانگنے پر ظلم وستم ڈھایاجائے، وہاں کاجغرافیہ تبدیل ہوجاتا ہے۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے کہوں گا کہ آپ امریکہ اورایران میں ثالثی کرارہے ہیں، لیکن اپنے ملک میں عوام کے ساتھ مفاہمت کے بجائے ان پر ظلم ہورہا ہے، بلوچوں پر ظلم ہورہاہے، پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والوں کوانتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عمران خان کوقید میں رکھا گیا، گلگت بلتستان میں محرومیاں ہیں، سندھ میں لوگ احتجاج کررہے ہیں، مہاجروں کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ عمل نفرتوں کی آگ پر مزید تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ خدارا یہ ظلم بند کرایاجائے۔
الطاف حسین
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
13جون 2026ء
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران سے معاہدے کو ابراہم اکارڈ سےمشروط کردیا ہےاور عرب سمیت تمام اسلامی ممالک کو ابراہم اکارڈ میں لازماً شامل ہونےاور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط رکھ دی ہے۔عوام رائے دیں کہ:
”جب تک فلسطین آزاد ریاست نہیں بنتا، تب تک کیا پاکستان کو اسرائیل کوتسلیم کرنا چاہیے؟ “