خود کو ہر اس چیز کو بدلنے پر مجبور کریں جسے آپ بدلنے کی قدرت رکھتے ہیں، کیونکہ نفس کی خواہشات کے پیچھے چلنے والی زندگی انتہائی بدحال، بوجھل اور تھکا دینے والی ہوتی ہے، جو آپ کو شدید سستی اور بہت زیادہ مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیتی
خود کو سونے پر مجبور کریں۔
خود کو پڑھنے پر مجبور کریں۔
خود کو صفائی اور ترتیب پر مجبور کریں۔
خود کو اپنے ادھورے کام نمٹانے پر مجبور کریں۔
خود کو اپنی عادتیں بدلنے پر مجبور کریں۔
خود کو وقت پر عبادت کی ادائیگی پر مجبور کریں۔
*ہم اپنی زندگی میں بہت سی فضول سوچوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہے ہوتے ہیں اکثر معاملات میں ہمارا کوئی عمل دخل بھی نہیں ہوتا بس ہم بلا وجہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دے کر پریشان رہنا شروع کر دیتے ہیں، خوش رہیں اللّٰہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔*
جوانی، اکیلا پن، گھر کی ذمہ داریاں، طعنے، فکریں، ادھوری خواہشات، ناکامیاں، اکیلا پن، مستقبل، سسکیاں، تھکاوٹ، مشکلات، نا امیدی، اور پتہ نہیں کیا کیا سینے میں لیے اگر جی رہے ہیں تو کمال کر رہے ہیں..
"پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی لیکن اگر ان کو جُھکا لیا جائے تو برابر ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات زِندگی تب آسان ہو جاتی ہے، جب ہم جُھکتے ہیں یا نَرم روّیہ اِختیار کرتے ہیں."اور جو نہیں جُھکتے وہ اکیلے رہ جاتے ہیں ۔