السلام علیکم،
سوشل میڈیا پر کسی بھی حدیث کو آگے ش��ئر کرنے سے پہلے ان نکات کا لازماً خیال رکھیں:
1) اُس حدیث کا حوالہ نمبر موجود ہے؟
2) وہ حدیث معروف کتابوں میں موجود ہے؟
3) وہ حدیث غیر مقبول (ضعیف، موضوع، متروک، مرسل منقطع، معلق وغیرہ) یا منسو�� حدیث تو نہیں ہے؟
جزاکم الله خیرا
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
جب میں تمہیں رسول الله ﷺ سے حدیث سناؤں تو یہ بات سمجھو کہ، میں آسمان سے (زمین پر) گر پڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات (حدیث) منسوب کروں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی!
مسلم 2462
(بخاری 3611؛ ابوداؤد 4767؛ مسند احمد 912، 1086)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (تحقیق کے بغیر آگے) بیان کر دے.
مسلم 7، 8، 9، 11
(ابوداؤد 4992؛ ابی شیبہ 26131، 26132، 26133؛ حاكم 381، 382؛ مشکوٰۃ 156)
قالَ النبی ﷺ:
1) بیشک مومن اپنے گناہوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈرتا ہو کہ وہ پہاڑ اُس پر گر نہ جائے،
2) اور بیشک فاجر اپنے گناہوں کو ایک مکھی کی مانند ہلکا دیکھتا ہے جو اُس کی ناک پر بیٹھ گئی ہو، اُس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی.
بخاری 6308
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی، وہ مجھ سے نہیں ہے!
بخاری 5063
(مسلم 3403؛ نسائی 3219؛ مسند احمد 23870؛ دارمی 2215؛ خزیمہ 197،2024؛ حبان 14؛ مشکوٰۃ 145)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو نہ تو میری ��دایت و طریق سے راہنمائی لیں گے، اور نہ میری سنت کے مطابق عمل کریں گے. اور ان میں کچھ ایسے آدمی ہوں گے جن کی جسم انسانی، (لیکن) دل شیطانوں کے دل ہوں گے.
مسلم 4785
(مشکوٰۃ 5382)
عبدالله بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: رسول الله ﷺ نے فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے لوگ تمارے معاملات کے نگران (حکمران) ہوں گے جو:
1) سنت کو مٹائیں گے،
2) بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور
3) نماز کی مقررہ وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے.
ماجہ 2865
(السلسلة الصحيحة 1743؛ مسند احمد 3789)
قالَ النبی ﷺ:
بلاشبہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، پس (ان حالات میں) میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازمی اپنائے رکھنا، تم اس سے چمٹ جانا اور اسے داڑھوں سے مضبوط پکڑے رہنا.
ابوداؤد 4607 (ترمذی 2676؛ ماجہ 42، 43؛ مشکوٰۃ 165)
قالَ ﷺ:
عالِم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری تم میں سے ایک عام ادنیٰ آدمی پر. بیشک الله اور اُس کے فرشتے، اور آسمانوں اور زمین میں رہنے والے، حتیٰ کہ چیونٹیاں اپنے بل میں اور مچھلیاں لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں.
ترمذی 2685
(مشکوٰۃ 213)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
الله نے مجھے سختی کرنے والا اور (لوگوں کو) مشکلات میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ ��لله نے مجھے آسانی پی��ا کرنے والا معلم (استاد، تعلیم دینے والا) بنا کر بھیجا ہے.
مسلم 3690
(مسند احمد 8708؛ السلسلة الصحيحة 2014؛ مسند احمد 14569؛ مشکوٰۃ 3249)
معاویہ بن ابی حکم ؓ بیان کرتے ہیں:
میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان!
میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور آپ ﷺ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (استاد، تعلیم دینے والا) نہیں دیکھا! الله کی قسم! نہ تو آپ ﷺ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا، اور نہ مجھے برا بھلا کہا.
مسلم 1199
(ابوداؤد 930؛ مشکوٰۃ 978)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:
رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا: یا رسول الله! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، (بلکہ) مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے."
مسلم 6613
(السلسلة الصحيحة 3449؛ مشکوٰۃ 5812)
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:
میں نے دس سال نبی ﷺ کی خدمت کی، لیکن آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا، اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا.
بخاری 6038
(مسلم 6011؛ ابوداؤد 4774؛ ترمذی 2015؛ احمد 13052، 13065؛ حباب 2893، 2894؛ مشکوٰۃ 5801)