جس نے رسولؐ کی اطاعت کی، اُس نے الله کی اطاعت کی (النساء 4:80). بہترین کلام الله کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے (بخاری 7277؛ مسلم 2005).
قالَ النبی ﷺ:
تم میں سے جو شخص بھی منکَر (برائی) دیکھے تو:
(1) وہ بدل دے اُسے اپنے ہاتھ سے،
(2) اگر اتنی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (اُسے بدل دے)،
(3) اگر اِس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل سے (اُسے بدلنے کی تدبیر، منصوبہ بندی، عزم کرے)، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے.
مسلم 177
قالَ النبی ﷺ:
بیشک میں اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (پیشواؤں، رہنماؤں، حاکموں) سے ڈرتا ہوں.
(یعنی مجھے اپنی امت کے بارے میں بڑا خوف اُن اماموں، علماء یا رہنماؤں سے ہے جو خود بھی گمراہی کو اختیار کئے ہوئے ہوں گے اور لوگوں کو بھی غلط راستے ہی کے فتوے دیں گے.)
ترمذی 2229
اے الله!
بے شمار درُود و سلام، رحمتیں و برکتیں اُس آخری رسول پر کہ جس پہ تو نے اپنے دین، ہدایت اور نبوت کی تکمیل فرمائی، جس نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر صراط مستقیم کی ہدایت عطا کی.
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
(بخاری 3370)
السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته
(بخاری 6230)
قالَ النبی ﷺ:
الله نے تم پر:
1) ماؤں کی نافرمانی اور اُن سے بدسلوکی،
2) لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا،
3) (واجب حقوق کی) ادائیگی نہ کرنا،
4) (کسی کا مال ناجائز) دبا لینا حرام قرار دیا ہے.
بخاری 2408، 5975
(مسلم 4483؛ مسند احمد 18375؛ حبان 5555؛ بیہقی 11340، 11341؛ مشکوٰۃ 4915)
نبی کریم ﷺ منع فرماتے تھے:
1) قیل و قال کرنے (فضول، بے فائدہ، غیر ضروری بحث اور بات چیت)،
2) زیادہ سوال کرنے،
3) مال ضائع کرنے،
4) اپنی چیز بچا کر رکھنے، اور دوسروں کی مانگتے رہنے،
5) ماؤں کی نافرمانی اور اُن سے بدسلوکی کرنے، اور
6) لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے.
بخاری 6473، 7292
قالَ النبی ﷺ:
الله کی قسم! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی یہ انگلی سمندر میں ڈالے (راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا)، پھر دیکھے کہ وہ انگلی کتنا پانی ساتھ لے کر واپس آتی ہے.
مسلم 7197
(ترمذی 2323؛ ماجہ 4108؛ حاكم 6510؛ مشکوٰۃ 5156)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو، جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے بیٹھے، پھر وہاں سے کوچ کر جائے، اور درخت کو اُسی جگہ چھوڑ دے.
ترمذی 2377
(ماجہ 4109؛ حاکم 7859؛ حبان 6352؛ مشکوٰۃ 5188)
قالَ النبیﷺ:
اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہشمند ہوگا، اور انسان کا پیٹ (قبر کی) مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی. اور الله توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے.
بخاری 6436
(مسلم 2418، 2415؛ ترمذی 2337؛ ماجہ 4235؛ احمد 13027، 13909؛ مشکوٰۃ 5273)
نبی ﷺ (اُس وقت) سورۃ التکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا:
آدم ؑ کا بیٹا کہتا ہے: میرا مال، میرا مال..
اے آدم ؑ کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرے لئے صرف وہی ہے جو:
1) تو نے کھا کر فنا دیا، یا
2) پہن کر بوسیدہ کردیا، یا
3) صدقہ کر کے آگے بھیج دیا.
مسلم 7420
(مشکوٰۃ 5169)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بیشک الله تعالیٰ رحیم ہے، حیٌّ ہے، کریم ہے. وہ اپنے بندے سے اس بات سے حیاء فرماتا ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور وہ ان میں بھلائی نہ ڈالے.
المستدرک للحاكم 1832، 1830، 1962
(حبان 876؛ ماجہ 3865؛ ابوداؤد 1488؛ ترمذی 3556؛ مسند احمد 24115)
رسول الله ﷺ نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
پانچ چیزوں کو، پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:
(1) جوانی کو پڑھاپے سے پہلے،
(2) صحت کو بیماری سے پہلے،
(3) امیری کو فقیری سے پہلے،
(4) فراغت کو مصروفیت سے پہلے،
(5) زندگی کو موت سے پہلے،
حاکم 7846
(ابی شیبہ 35460؛ مشکوۃ 5174)
قالَ النبی ﷺ:
تم الله سے دعا مانگو تو قبولیت کے پورے یقین کے ساتھ دعا مانگو. اور جان لو، بیشک الله ایسے دل کی دعا قبول نہیں کرتا جو:
1) غافل ہو (مطلوب چیز کا شعور ہی نہیں ہو)، اور
2) غیر ضروری مشاغل میں کھویا ہوا ہو.
ترمذی 3479
(الصحيحة 2738؛ مسند احمد 5605؛ مشکوٰۃ 2241)
قالَ النبی ﷺ:
تم میں سے کوئی ہرگز بھی اس طرح دعا نہ کرے:
یا الله! مجھے بخش دے، "اگر" تو چاہے.
یا الله! مجھ پر رحم فرما، "اگر" تو چاہے.
بلکہ پختہ یقین کے ساتھ دعا کرے، کیونکہ بیشک الله کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے).
بخاری 6339، 7477
(مسلم 6813)
قالَ النبی ﷺ:
دو کے سوا کسی اور میں حسد (رشک) نہیں:
1) ایک وہ آدمی جسے الله نے قرآن دیا اور وہ رات اور دن اس کے ساتھ قیام کرتا ہے، اور
2) دوسرا وہ آدمی جسے الله نے مال دیا اور وہ اسے رات اور دن خرچ کرتاہے.
مسلم 1894، 1895
(بخاری 5025، 7529؛ ماجہ 4209؛ ترمذی 1936؛ مشکوٰۃ 2113)
قالَ النبی ﷺ:
دو کے سوا کسی اور میں حسد (رشک) نہیں:
1) ایک وہ آدمی جسے الله نے مال دیا اور پھر اس کو راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق عطا کی، اور
2) دوسرا وہ آدمی جسے الله نے حکمت عطا کی، اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے.
بخاری 73، 1409
(مسلم 1896)
قالَ النبی ﷺ:
مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ
جو شخص میری طرف سے ایسی حدیث بیان کرے جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ (حدیث) جھوٹ ہے، تو وہ شخص خود بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے.
مسلم 1
(ماجہ 41، 38؛ مشکوٰۃ 199)