آوازِ ضمیر —•—
ٹرمپ کا نام نہاد “امن منصوبہ” درحقیقت ایک سیاسی جبر کا خاکہ ہے، جو نہ صرف فلسطینیوں کی خودمختاری کو روندتا ہے بلکہ اسرائیلی جارحیت کو عالمی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ امن نہیں، ایک طرفہ اطاعت اور حماس کو غیر مشروط سرنڈر کروانے کی سازش ہے ہم اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں فلسطین کوئی تجربہ گاہ نہیں، جہاں عالمی طاقتیں اپنی مرضی کے تجربات کریں فلسطین ایک قوم ہے، ایک تاریخ ہے، ایک جدوجہد ہے اور اس جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔
اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اگر آج ہم نے فلسطین کے بچوں، عورتوں، شہداء اور زخمیوں کی آہ و فریاد نہ سنی، تو کل ہماری اپنی نسلیں بھی اسی ظلم کا شکار ہو سکتی ہیں۔
یہ وقت ہے یکجہتی کا، اور ہم اللّٰہ کے حضور جوابدہ ہیں اور مظلوموں کی حمایت ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔
#palestine
@Ahmad_Noorani سر جس بیدردی سے رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا گیا دنیا میں کوئی فورس اپنے ہی سپاہیوں کیساتھ ایسا کبھی نہیں کرتا۔
کم سے کم میرے علم میں نہیں۔
ویڈیو ثبوت حاضر ہے۔
یہ جتنی ماشاءاللہ پیاری بچی ھے ۔۔ خدا سب کی عزتیں محفوظ رکھے ۔۔۔
مجھے دکھ ہوا وڈیوز دیکھ کر😟
کہ یہ کیسے کر لیتیں ،
یہ جتنی پیاری ھے اس کا تو صدقہ اربوں روپے میں ہونا چاھیے۔۔
مگر افسوس یہ سب سے خدا بچائے۔۔۔۔۔
اگر فیک ہیں تو اچھی بات ھے اگر اصلی ہیں تو توبہ تائب کیا جائے😟
اور مجھے نہیں بھیجے 😐
میں دیکھ چکی🙉
مناہل ملک کے بعد اب اس لڑکی امشا رحمان کی بھی وڈیو لیک ہو گئی ہے لڑکیوں سے بس ایک گزارش ہے کہ کچھ دیر کی لذت کیلئے والدین کی عزتیں پامال نہ کریں
آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟؟
ضلع گجرات کے انتظامی معاملات بہت خراب اور لاقانونیت عروج پر ہے، ق لیگی فارم 47 والے حکومتی پروٹوکول تو انجوائے کر رہے ہیں لیکن انکی نالائقی کا سارا ملبہ ہماری حکومت پر گر رہا ہے، عدم اعتماد سے لے کر الیکشن نگران حکومت کی کارستانیوں کی سزا ن لیگی امیدوار بھگت چکے ہیں اب قیادت کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے ہوں گے۔
اسرائیل بھی پاکستانی فوج کی طرح ہے، ظلم جبر کرنے کےبعد جب اسکا ردِعمل اجاتا ہے تو وہ ردِعمل کو ظلم کا نام دے دیتے ہیں جبکہ پاکستانی فوج بھی محکوم قوموں اور عوام پر ظلم کرنے کے بعد اگر مظلوموں نے احتجاج بھی کیا تو احتجاج کو انتشار کا نام دے کر مزید ظلم کرنے کےلٸے جواز بنا دیتے ہیں
ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔
یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔
پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔
یہ کہانی سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔
ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔
یہ کہانی ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔
ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔
یہ سبق پاکستان میں نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے لئے ہے۔
قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔
یہ قصہ پاکستان میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے.اور وہ سب دیکھنے کے باوجود ہر بار بےوقوف بن بھی جاتے ہیں۔
حنا پرویز بٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا یہ شرمناک رویہ قابل صد مذمت ہے۔ بشریٰ بی بی اگر واقعی روحانی خاتون ہے تو اس اقدام کی بھرپور مذمت کریں۔ پی ٹی آئی کے رہنما بھی مذمت کرکے یہ سلسلہ روکیں ورنہ کل مکافات عمل کے قانون کے تحت ان کی خواتین کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہوسکتا ہے۔
@MShehzadSpeaks bs kr du yaar qu Drama lgya hwa ha.... gareeb awaam ky bacho ko Pansa kr khud Press conference ki nikl gya Gareen phr wohi Andr Sar raha hai...ab Khud London jaa kr Punjabi nacha rha ha.....
ہمارا نظام انصاف تو خراب سے خراب تر ہو رہا ہے مگر ذرا دل پر ہاتھ رکھکر بتائیں گزشتہ نصف صدی میں۔۔۔۔کسی مذہبی جماعت شخصیت یا مسلکی گروہ نے کبھی اس ملک میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی ہو!
یہ ان لوگوں کی حالت ہے جو سینہ ٹھوک کر اپنے آپ کو پیغمبر کا جانشین قرار دیتے نہیں تھکتے!