میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
حکمرانوں کے لیے شاید چند روپے کا اضافہ ایک معمولی عدد ہو، مگر عوام کے لیے پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی کا خرچ نہیں بڑھتا، روٹی، سبزی، دودھ، کرایہ اور ہر ضرورت مہنگی ہوتی ہے۔
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔
لیکن اب عوام کہہ رہی ہے:
بس! بہت ہو گیا!
اب اور نہیں!
27 ستمبر کو ہم ظلم و مہنگائی کے خلاف نکلیں گے اور ہمارا ہر قدم حقیقی آزادی کی طرف ہوگا!
#LongMarchOnSeptember27th
واشنگٹن DC پر، میجر عمران کی کہانی!
26 نومبر کو ڈی چوک میں ایک نمازی کنٹینر سے نیچے گرا دیا گیا۔ جس نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا,
میں اس وقت بطور کمپنی کمانڈر وہاں ڈیوٹی پر تھا۔مجھے سٹیٹ کی طرف سے احکامات ملے کہ آپ نے ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانا ہے، چاہے اس کے لیے فائرنگ کیوں نہ کرنی پڑے۔ لیکن میں نے اپنے لوگوں پر فائرنگ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔انکار کرنے کے بعد مجھے فوراً گرفتار کر لیا گیا اور دو ماہ تک اٹک جیل میں قید رکھا گیا۔ جب مجھے ضمانت ملی، تو فوج کی طرف سے میرے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی۔
ان حالات کے دوران، میں کسی طریقے سے ملک سے باہر نکل آیا ہوں۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
فوج بھی میری ملک بھی میرا
مان لیا مینڈیٹ چند فوجی افسروں نے لوٹا، پوری فوج نے نہیں مگر پھر میری فوج میرے مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے کھڑی کیوں نہ ہوئی؟
مان لیا ارشد شریف کے قتل کے پیچھے چند جرنیلوں پر الزامات ہیں، پوری فوج پر نہیں مگر پھر میری فوج نے ارشد شریف کے لیے کے لیے انصاف کیوں نہ مانگا؟
مان لیا لوگوں کو غائب کرنے والے چند ہیں، نازک اعضاء پر کرنٹ لگانے والے چند ہیں، سیاسی آوازیں دبانے والے چند ہیں مگر سوال یہ ہے کہ باقی سب کہاں ہیں؟
اگر عمران خان کو تنہائی میں رکھنا چند لوگوں کا فیصلہ تھا تو میری فوج میں وہ کون تھا جو کھڑا ہوا اور بولا یہ ظلم بند کرو؟
ہر ظلم کے بعد ہمیں بتایا جاتا ہے یہ پوری فوج نہیں، صرف چند لوگ ہیں
تو پھر میرا سوال بھی صرف اتنا ہے
اگر ظالم چند ہیں تو انہیں روکنے والے لاکھوں کہاں ہیں؟
میری فوج اگر واقعی میری ہے، تو میرے حق، میرے ووٹ، میری عزت اور میرے انصاف کے وقت میرے ساتھ کھڑی کیوں نہیں ہوتی؟
فوج بھی میری ملک بھی میرا
مان لیا مینڈیٹ چند فوجی افسروں نے لوٹا، پوری فوج نے نہیں مگر پھر میری فوج میرے مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے کھڑی کیوں نہ ہوئی؟
مان لیا ارشد شریف کے قتل کے پیچھے چند جرنیلوں پر الزامات ہیں، پوری فوج پر نہیں مگر پھر میری فوج نے ارشد شریف کے لیے کے لیے انصاف کیوں نہ مانگا؟
مان لیا لوگوں کو غائب کرنے والے چند ہیں، نازک اعضاء پر کرنٹ لگانے والے چند ہیں، سیاسی آوازیں دبانے والے چند ہیں مگر سوال یہ ہے کہ باقی سب کہاں ہیں؟
اگر عمران خان کو تنہائی میں رکھنا چند لوگوں کا فیصلہ تھا تو میری فوج میں وہ کون تھا جو کھڑا ہوا اور بولا یہ ظلم بند کرو؟
ہر ظلم کے بعد ہمیں بتایا جاتا ہے یہ پوری فوج نہیں، صرف چند لوگ ہیں
تو پھر میرا سوال بھی صرف اتنا ہے
اگر ظالم چند ہیں تو انہیں روکنے والے لاکھوں کہاں ہیں؟
میری فوج اگر واقعی میری ہے، تو میرے حق، میرے ووٹ، میری عزت اور میرے انصاف کے وقت میرے ساتھ کھڑی کیوں نہیں ہوتی؟
فارم ۴۷ حکومت کی ایک اور ظلم !
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، لاہور نے 20 افغان اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکال دیا جن میں 7 فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس شامل ہیں، یہ کتنی بڑی زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آپ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا بیرونِ ملک کی کسی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہوں اور آخری سال آپ کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟
کیا مستقبل کے 20 ڈاکٹروں کو نکالنے سے پاکستان محفوظ ہو گیا ہے؟
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
استغفرللہ میری روح کانپ گئی اس سوکالڈ مفتی کا بیان سن کر 💔 یہ ہیں وہ لوگ جو پاکستان کو اسلام سکھاتے ہیں تبہی تو اس ملک کا یہ حال ہے 💔
اس دو نمبر ملے کو سننا بند کریں سب عقل رکھنے والے لوگ ، میں بھی اسکو سنا کرتی تھی مگر کچھ عرصہ سے شکر الحمدللہ چھوڑ دیا تھا🙏🏽
#FreeImranKhanNow
اپنے حلقے سے بڑا انتخابی مینڈیٹ حاصل کرنے والے ایم این اے حاجی امتیاز چوہدری کی مسلسل اور بلاجواز حراست بنیادی انسانی حقوق، آئین اور عوامی جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔
ایک طرف ان کی 100 سالہ ضعیف والدہ شدید علالت کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں، تو دوسری جانب گوجرانوالہ جیل کے باہر ان کے قانونی وکلاء اور اہل خانہ کو 6 گھنٹے تک من گھڑت تاخیری حربوں کا نشانہ بنا کر ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے۔
یہ رویہ سیاسی انتقام اور آمریت کی بدترین مثال ہے جس میں پورے پورے خاندانوں کو زہنی اور جسمانی ازیت دی جا رہی ہے ۔ ان بوڑھے والدین کو کس طرح سے بتایا جائے کہ ان کی اولاد سچ کی خاطر ڈٹ جانے کی پاداش میں بیگناہ بغیر کسی جرم ملک پر قابض یزیدوں کی قید میں ہے۔
زیارت میں 18 فوجیوں کا جنازہ رات کے اندھیرے میں پڑھا کر خاموشی سے ان کے آبائی مقامات پر روانہ کر دیا گیا ہے
ابھی تک کسی سرکاری چینل یا نیوز چینل نے یہ خبر نہیں بتائی، حقیقت چھپانے سے نہیں چھپتی
پچھلے پانچ دن میں 73 پاکستانی فوج بلوچستان میں ہلاک ہوۓ اور 18 فوجیوں کی لاشیں جلا دی گئیں
عاصم منیر اپنے داماد جو اس کا بتیجھا بھی ہے اسے فوج سے نکال کر سول سروسز میں لے آیا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بتیجھے کی جلی ہوئی لاش آۓ اس لیے وہ غریب ماؤں کے بچے مروا رہا ہے
وہ ملک جس پر ایک لاکھ ہزار ارب کا قرضہ ہے، اس ملک کے صدر آسٹریا سے لندن پہنچ گئے ہیں، ملک کے وزیر داخلہ، وزیر قانون بھی لندن میں موجود ہیں، چند دن پہلے ملک کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم بھی لندن میں موجود تھے۔ دنیا میں کہاں حکمرانوں کے پاس اتنے غیر ملکی دوروں کا ٹائم ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش اصلی پاکستان تھا :
ہمارے پاکستان سے بڑا تھا مگر فوجیوں کے کنٹرول میں تھا - بنگالی ناراض تھے مگر غیرت مند تھے - ہم انکا مذاق اڑاتے تھے - کچھ سال تو فوجیوں کو برداشت کیا مگر پھر جو کرنا چاہیے تھا کر ڈالا - فوج کے پر کاٹ دیے ، جرنیلوں کو گھر بھیج دیا اور عوام کی حکومت قایم کر دی -
ہمیں بھی یہی کرنا ضروری ہے مگر ابھی پنجابی لوگوں کی غیرت نہیں جاگ رہی ، باقی ملک تیار ہے ، بلوچستان میں فوجی جا نہیں سکتے ، خیبر انکے ہاتھ سے نکل چکا ، کشمیر کا بھی سودا ہو گیا ، قبائلی علاقے فوج کو نہیں مانتے ، سندھ والے سودے بازی میں لگے ہیں اور زرداری کی ہوس ختم نہیں ہی نہیں ہوتی، صوبوں پر بھی لگتا ہے فوجیوں سے مال پکڑ لیا ، انکی زور دار مرسو مرسو والی تقریریں زیادہ غور سے مت سنیں سب دھوکہ ہے -
اب بھی وقت ہے بنگلہ دیش کی طرح فیصلے کر لیں اور ملک کو آزاد کروا لیں اس سے پہلے جرنیل سب کچھ ہڑپ کر جایئں - بنگلہ دیش نے کیا کیا خود پڑھ لیں -