یہ ہے قیامت کی ٹیکنالوجی !!
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو
کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
کیا کوئی جانتا ہے کہ "رحمت اللہ" اور "رحمة الله" میں کیا فرق ہے؟
مجھے بھی پہلی بار پتا چلا
اللہ اس شخص کو جزائے خیر دے جس نے مجھے یہ بھیجا
واقعہ کچھ یوں ہے کہ
ایک دن ایک پروفیسر لیکچر ہال میں داخل ہوا
لیکن پروجیکٹر خراب تھا تو کمرہ تبدیل کر دیا گیا
جب ایک طالب علم نئے کمرے میں داخل ہوا
تو اس نے بورڈ پر "رحمت اللہ" لکھا ہوا دیکھا
اسے لگا یہ ایک فاش املائی غلطی ہے
کیونکہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسے "رحمة الله" لکھا جانا چاہیے
پروفیسر نے سب طلباء سے سوال کیا
کیا کوئی بتا سکتا ہے "رحمت" اور "رحمة" میں فرق کیا ہے؟
زیادہ تر طلباء نے کہا کہ یہ تو بس ہجے کی غلطی ہے!
تو پروفیسر نے وضاحت دی:
اگر لفظ "رحمت" ت کھلی ہو
تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ ایسی رحمت ہے جو پہلے رکی ہوئی تھی
لیکن اب اللہ نے اسے کھول دیا ہے
یعنی قبض کے بعد بسط
اور یہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک کے ساتھ ہی آتی ہے
مثال کے طور پر
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی بہت بڑھاپے میں تھے
اولاد کی امید ختم ہو چکی تھی
تب اللہ کی طرف سے خوشخبری آئی
قرآن میں آتا ہے: قالوا أتعجبين من أمر الله رحمت الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد
یعنی وہ رحمت جو بند ہونے کے بعد دوبارہ کھلی
ایسی ہی رحمت حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا پر نازل ہوئی
جب انہوں نے بیٹے کے لیے دعا کی
ذِكرُ رحمت ربك عبده زكريا
پھر آگے اللہ نے ان کو یحییٰ عطا فرمایا
اسی طرح اللہ فرماتا ہے
فانظر إلى آثار رحمت الله كيف يحيي الأرض بعد موتها
یعنی زمین مردہ ہو چکی تھی
پھر اللہ کی کھلی ہوئی رحمت سے زندہ ہو گئی
یعنی پھر سے زندگی مل گئی
یہ سب مثالیں "رحمت" والی ہیں
یعنی ت کھلی ہوئی
یعنی ایسی رحمت جو دوبارہ جاری ہوئی
اللہ کی قدرت اور وسعت کو ظاہر کرتی ہے
لیکن جب "رحمة" یعنی ت بند آتی ہے
تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ رحمت ابھی امید پر ہے
ابھی ملی نہیں
ابھی دعا مانگی جا رہی ہے
جیسے اللہ فرماتا ہے:
أمن هو قانت آناء الليل ساجدا وقائما يحذر الآخرة ويرجوا رحمة ربه
یعنی وہ اللہ کی رحمة کا امیدوار ہے
جو ابھی ملی نہیں
جو آخرت میں عطا کی جائے گی ان شاء اللہ
اسی طرح فرمایا:
فأما الذين آمنوا بالله واعتصموا به فسيدخلهم في رحمة منه وفضل ويهديهم إليه صراطا مستقيما
یعنی ان کو رحمة نصیب ہو گی
یہ وعدہ ہے
تو فرق یہ ہے:
رحمت = ت کھلی ہوئی = وہ جو اللہ نے قبض کے بعد عطا کی
رحمة = ت بند = وہ جس کی بندہ امید رکھتا ہے
اور آخر میں ایک دعا:
اے اللہ
ہمیں اپنی ہر دو رحمتوں میں شامل فرما
خواہ وہ بند ہو یا کھلی
ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے
اے اللہ
ہمیں وہ علم عطا فرما جو ہمیں فائدہ دے
اور ہمیں وہ باتیں سکھا دے جو ہم نہیں جانتے
تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:
"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا:
تین سو سال سے امت ذلت دیکھ رہی تھی پھر اللہ نے ہمیں خوشی کی خبر سنائی بھی دکھائی بھی
ایک چھوٹے سے ملک کو دنیا کی سپر پاور سے ٹکرا کے ان کے ناک کو زمین کے ساتھ لگا دیا ، تین سو سال پہ بعد پہلی دفعہ ہمارے ایران کے بھائیوں نے پوری امت کو خوشی نصیب فرمائی ، پوری امت کا قرضہ چکا دیا ، ہمارے ایرانی بھائیوں نے کر کے دکھا دیا ، جب کافر کا خوف دل سے نکل جائے تو وہ بکری بن جاتا ہے ، اور جب کافر کا خوف اندر ا جائے تو پھر ہم بکری بن جاتے ہیں ، ہماری پہچان نہ دیوبندی ہے نہ بریلوی ہے نہ شیعہ ہے نہ سنی ، ہماری پہچان مسلم ہے، مولانا طارق جمیل
🚨آج میں اداسی کے آنسو روتا رہا غزہ سے تعلق رکھنے والے 9 سالہ لڑکے کو IDF کے ایک سنائپر نے گولی مار دی اور کسی کو بھی اس کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور بچے نے تڑپ تڑپ کے تنہا ہی شہادت کو گلے لگا گیا۔میرا نظریہ ہے جہاں یہودی اور اسرائیلی ملے انکو درد ناک موت دینی چاہئیے