جہاز خریدا ہے بھئی
گندی ویڈیوز سے بلیک میل کیا ہے بھئی
الیکشن مینڈیٹ چھینا ہے بھئی
فوج سے ڈیل کی ہے بھئی
جعلی میڈیکل رپورٹس بنائی ہیں بھئی
اثاثوں کی منی ٹریل نہیں ہے بھئی
مشرف سے بھی ڈیل کی تھی بھئی
یاسمین راشد سے ہارے ہیں بھئی
مہر شرافت سے ہارے ہیں بھئی
سیٹیں سترہ ہی ہیں بھئی
مقدموں کا ایک انبار بنا ہوا تھا، تین سو سے زائد کیسز تھے۔ عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ میں اس سکور کو چیس کروں گا۔ انہوں نے اپنی قانونی ٹیم میدان میں اتاری اور انہیں impossible task دیا کہ 300 مقدمے لڑو۔ ہم نے 300 مقدمے لڑے اور جیت بھی لیے۔ اب اگر ایمپائر میں مسئلہ ہے اور آخری وکٹ نہیں گر رہی تو اتنا کریڈٹ تو دے دیں کہ انہوں نے 300 کیسز لڑ کر ثابت کیا کہ یہ تمام کیسز جھوٹے، بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی تھے۔
بیرسٹر سلمان صفدر
ہم نے جو باتیں عدالت کے سامنے آج رکھیں وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ عمران خان اور بشری بی بی سے کسی کی ملاقات نہیں ہو رہی۔ وکلا کو وکالت نامے سائن نہیں کروا کے دیے جا رہے۔ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے، کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ہر قسم کے کیس میں بے گناہی ثابت کر دی ہے، کچھ بھی ثابت کرنا باقی نہیں۔ اب آخری القادر کا کیس ہے جس میں زور و زبردستی ہو رہی ہے جو بالکل غیر مناسب ہے۔ ہمیشہ ہمیں عدالتوں سے امید رہی ہے کیونکہ اگر نظام عدل ختم ہو جائے اور انصاف ملنا بند ہو جائے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ہمیں یہ پیٹیشن دائر کرنے کی ضرورت نہ پڑتی اگر اسلام آباد ہائیکورٹ انصاف دیتی۔
بیرسٹر سلمان صفدر
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی
ہم پہلے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے جسٹس خادم حسین سومرو
"ایجنسیوں سے انصاف مانگیں عدالتیں بند کر دیں "
علیمہ خان کا بیان
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
ہم ایک ملاقات نہیں ہم چاہتے ہیں عمران خان کے سارے حقوق بحال کریں یہ ایک ملاقات کراکے پھر چھ مہینے کے لئے قید تنہائی میں ڈال دیں گے، ان کی ملاقاتیں بحال ہوں ان کا ہسپتال میں علاج ہو ، ان کا ٹی وی ان کی اخبار کتابیں تمام حقوق بحال کیے جائیں ان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔ علیمہ خان
محسن نقوی تیار ہے نورین نیازی کو بھیجنے کے لیے۔۔۔
ان کا ارادہ یہ کہ جب ہماری بہن اندر جائیں گی
کوئی نا کوئی تو دو باتیں کریں گی عمران خان کی
جیسے کی ہی کریں گی انہوں نے پلان کیا ہوا ہے۔۔۔
کہ عمران خان کو اگلے 6 مہینے کے لیے دوبارہ قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔۔۔
یہ صرف سہولت کاری ہورہی ہے۔۔۔
اس بات کا بہانہ بنا کے کہ اپ نے باہر آکر عمران خان کی بات کی ہے۔۔۔
اگلے 6 مہینے کے لیے ملاقات بند کردیں گے
اور ہم یہ قبول نہیں کریں گے
ہم تنگ آگئے ہیں اس ٹرک کی بتی سے۔۔۔
ہم 4 سال سے عدالتوں میں آرہے ہیں
قاضی نے کنفرم کردیا کہ یہ وہی کرتے ہیں جو ان کو پیچھے سے آرڈر اتا ہے
ہم ان سے انصاف کی امید نہیں رکھتے۔۔۔
علیمہ اپا
منافقت چیک کریں، پہلے بلاول نے ن لیگ کے وزیراعظم شہبازشریف کو اپنا وزیراعظم قرار دیتے ہوئے ان کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کردیا اور پھر اسی تقریر میں ن لیگ کو چیلنج کیا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کروا کر دکھاو اور واضح کیا کہ ن لیگ اتنی ان پاپولر ہے کہ ایک یونین کونسل میں بھی الیکشن میں جانے سے ڈرتے ہیں یہ ، لاہور تک میں بلدیاتی الیکشن کرانے سے خوفزدہ ہیں ، ساتھ ایم کیو ایم کو کہا کہ اگر شہبازشریف تم سے وعدے پورے نہیں کررہا تو حکومت میں کیوں بیٹھے ہو؟
تحریک انصاف کی قیادت کو جو لامتناہی فری ہٹ ملی ہے اس پر سنچری سکور کریں۔ ہر سطح پر 2018 اور 2024 کے انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو تسلیم کریں۔ سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھیں۔ تمام صوبائی تنظیمیں ہائیکورٹس کو تحقیقات اور کمیشن کے لیے خط لکھیں۔ وزیر اعلی ، چئیر مین ، سیکرٹری جنرل پریس کانفرنسز کرکے تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ فارم 45 و 47 سامنے رکھیں۔ 2018 کے وہ اراکین جو آج بھی تحریک انصاف میں ہیں وہ میڈیا پر حلف دیں کہ وہ کیسے الیکشن جیت کر آئے۔ اس مدعے کو اتنا اٹھائیں کہ آئندہ یہ لوگ 2018 کا 2024 سے موازنہ کرنے کی ہمت نہ کریں۔
یہ جانتے ہوئے کہ یہ سیاسی نابالغ یہ سب بھی نہیں کرپائیں گے ان کا ایڈوانس میں فٹے منہ۔
اگر تحریک انصاف یعنی بیرسٹر گوہر یا سہیل آفریدی بذریعہ یئیں یئیں عمران خان سے ایک آدھ ملاقات کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو کیا عمران خان ان کا استقبال کرے گا ؟ انکی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرے گا ؟ ان کو ایسی زبردست مزاحمت پر مبارکباد پیش کرے گا اور دعاؤں میں رخصت کرے گا؟
عمران خان جس روز وزیراعظم بنا تو عمران خان نے دھاندلی کے الزامات پر اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ اگر دھاندلی پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اگر کوئی حلقہ تحقیقات کے لیے کھولنا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اسکے بعد اپوزیشن نے کبھی بھی کسی کمیشن یا کسی حلقہ جاتی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بھی نوٹ کرنے والی بات ہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد اسی طرح کی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک انصاف نے 126 دن دھرنا دیا لیکن ن لیگ نے کمیشن نہیں بنایا۔ تین سال تک تحریک انصاف صرف چار حلقوں میں تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی لیکن نواز شریف کو تحقیقات کی جرات نا ہوئی۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2018 میں تحریک انصاف کی دھاندلی پیٹیشنز کی تعداد کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ تھیں۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے الیکشن کی رات جنرل باجوہ سے مدد مانگنے کا اعتراف ٹی وی پر کیا۔ تحریک بائیس ، سو ، پانچ سو ، ہزار اور بارہ سو ووٹس کے مارجن سے بھی کئی نشستیں ہاری لیکن نا کوئی جعلی فارم سینتالیس بنا نا ضرورت سے زیادہ ووٹ مسترد کرکے اپنا امیدوار جتوایا گیا۔
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
وفاقی بجٹ 2026 -27
⬅️اضافے
1. دفاع:
2550 ارب سے بڑھ کر 3000 ارب
2. بینظیر انکم سپورٹ
838 ارب سے بڑھ کر 850 ارب
⬅️کٹوتیاں
تعلیم
93 ارب سے کم ہو کر 74 ارب
صحت
80 ارب سے کم ہو کر 22 ارب
اس پر فٹے منہ روکنے کیلئے پیکا آرڈیننس ہے
ڈیل میں سب سے بڑی دو رکاوٹیں تھیں: ایران کے فنڈز اور امریکی پابندیاں۔
امریکہ نے 24 ارب ڈالرز فوری ریلیز کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ باقی بعد میں کریں گے۔
اور 60 دنوں کے لئے ایران کے تیل بیچنے پر پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔ ایران خوب تیل بیچے گا۔
ان 60 دنوں میں دوسرے اشیوز پر مذاکرات ہوں گے۔ اور اگر کامیاب ہوئے تو ڈیل ہوجائے گی۔
یہ کارنامہ قطریوں نے کر دکھایا یے۔ دونوں پارٹیوں کو راضی کیا۔شاباش! ایسے ثالثی کہتے ہیں۔
عمران خان کی ملاقات کی خبر کی اصلیت یوں سمجھیں کہ
پہلے حیدر سعید نے خان کے پمز جانے کی خبر اور قافلے کی ویڈیو شیئر کی تو کیس بنا کر اٹک جیل بند کر دیا گیا
اور آج خود خبر دے رہے ہیں
آسان سی بات ہے
آج کسی مطلب کیلئے یہ decoy رچایا جا رہا ہے۔ اور PTI اس میں سہولت کاری کرے گی
پہلی دفعہ قبل از وقت میڈیا پر عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کی خبر دی جا رہی ہے
بجٹ کیلئے ساری باتیں منوانے اور سہیل آفریدی کو راستہ دینے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے
ملاقات ہوئی تو اصل بات باہر نہیں آئے گی۔ اور اگر نہیں ہوتی تو باہر ملاقات ہونے کا بتایا جائے گا
اس ملاقات کی ویڈیو جاری کی جائے
ورنہ کسی پر یقین مت کریں
اور ٹھوک کے رکھیں
سہیل آفریدی کی کٹھ پتلی حکومتی نمائندوں سے اعلانیہ اور خفیہ ملاقاتیں ننگی بے غیرتی کے سوا کچھ نہیں، وہ بھی ان حالات میں جب مہینوں سے عمران خان کی کوئی خبر نہیں اور ان کا سیل اس گرم موسم میں تندور بن چکا ہوگا۔