@Arpitayadavv@grok@grok no, The person featured in the image is Aira Rawat, a cricket fan who gained significant social media attention after being photographed at a cricket stadium.
نوجوانی میں تقریروں میں یہ شعر اکثر پڑھا تھا؛
تو پرندے مار دے سرو صنوبر مار دے
تیری مرضی جسکو دہشتگرد کہہ کر مار دے
تیرا اس کے ماننے والو سے پالا پڑ گیا
جو پرندے بھیج کر لشکر کے لشکر مار دے
روایت ہے کہ ابرہہ خدائ کا دعویدار تھا۔ لیکن خلق خدا رب واحد کے کعبے کی زیارت کو جاتی تھی۔ ابرہہ کو گمان تھا کہ جب تک خانہ کعبہ سلامت ہے اسکی خدائ مشکوک ہی رہیگی۔ سو اس نے نعوذ باللہ کعبہ پر چڑھائ کا منصوبہ بنایا۔ جب ابرہہ کا لشکر مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا تو حضور پاک کے دادا حضرت عبدالمطلب جو کہ قریش کے سردار اور خانہ کعبہ کے والی تھے، اپنے قبیلے کو لیکر مکہ سے نکل گئے۔ کسی نے پوچھا کہ اے عبدالمطلب خانۂ خدا کا کیا ہوگا؟ عبدالمطلب نے جواب دیا اللہ اس کی حفاظت کرےگا۔ اور پھر مکہ کی پہاڑیوں سے اہلِ قریش نے ابرہہ کے لشکر کو ننھی ابابیلوں کے ہاتھوں غرق ہوتے دیکھا۔ صدیوں سے قران ابرہہ کے لشکر کی بربادی پر گواہ ہے۔
عبدالمطلب کا ایمان کمزور نہیں تھا، انہیں ابرہہ کا خوف نہیں تھا۔ انہیں اللہ کی کبریائ کا یقین تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا یہ لڑائی عبدالمطلب اور ابرہہ کی نہیں ہے۔ ابرہہ نے جسکی بڑھائ کو چیلنج کیا تھا اس ذات کی ناپسندیدہ ترین شے شرک ہے۔
لڑائ آج بھی فقط اتنی ہی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ “لا الٰہ الا للہ”؛ نہیں ہے کوئ خدا اللہ کے سوا اور وہ اسکی زمین پر خدائ کے دعویدار ہیں۔
ہم کہتے ہیں ہم غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکیں گے وہ کہتے ہیں وہ ہر اس سر کو کاٹنے پر قادر ہیں جو جھکنے سے انکاری ہے۔
ہم کہتے ہیں ہم کسی خوف و حرص کے بت کی پوجا نہیں کریں گے۔ وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کے علاوہ کوئ اور بولی بولنے والی زبانیں کھینچ لیں گے۔
طاقت کے نشے میں دھت ابرہہ کے ہاتھیوں کے مدمقابل آج بھی وحدہ لا شریک لہُ کا کلمہ ہے۔ اور وہ ذاتِ واحد معمولی پرندوں کے ذریعے لشکر غارت کرنے پر قادر ہے۔
آج عمران خان جیل میں اسی یقین کی رسی تھامے بیٹھا جسکی بنیاد پر عبدالمطلب نے مکہ کی پہاڑیوں کا رخ کیا تھا۔ عبدالمطلب جانتا تھا اسکا اللہ ہر دنیاوی خدا سے طاقتور ہے اور اسکا ایمان تھا کہ اللہ اس ظالم کے سامنے اسکے اعتقاد اور اسکی بے بسی دونوں کی لاج رکھے گا۔ عمران خان بھی جانتا ہے کہ عبدالمطلب کا رب سچا ہے۔
آج پاکستان کی تقدیر پاکستانی قوم کے اس فیصلے سے منسوب ہے کہ وہ ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلی گئ گھاس بنتے ہیں یا وہ پرندے کہ جنکی چونچوں میں پکڑے کنکریوں نے اللہ کے حکم سے ابرہہ کا غرور تاراج کیا تھا۔ عمران خان کی تقدیر بہرحال قوم کے اس فیصلے سے آزاد ہے۔