شاہ فیصل کالونی میں گڑھے میں گرنے سے بزرگ کی المناک موت کے بعد، ان کے صاحبزادے نے دیگر افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے موقع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے گڑھا کے سائڈ پر پائپ رکھ کر بند کروا دیا ہے۔
@s_faisalhussain ایسا صرف لگتا نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس شہر کا کنٹرول پی پی کے ہاتھ میں ہے، جو گزشتہ اٹھارہ سالوں سے بتدریج اس شہر کو تباہی کی طرف دھکیلتی آ رہی ہے۔
ملینیم فلائی اوور کی بیوٹیفیکیشن کردی گئی ہے۔ یہ ڈمپر بھی سیف سٹی کیمروں میں نہیبں آیا ہوگا باقی جہالے اس پر بھی سائیکل ایمبولینس کی طرح داد تحسین کے ٹوکرے پھینکیں۔
Another masterpiece by PPP.
They changed the wide seperator to a simple divider, road carpeting done while the pole and these wires are on the road, last lane.
Also clean as F.
📍Aisha Manzil
جامعہ کراچی، جو کبھی خطے میں اعلیٰ تعلیم، بہترین تحقیق اور دانشورانہ گفتگو کا روشن مینار تھی، آج بدترین انتظامی زوال، بے جا سیاسی مداخلت اور بدسلوکی کی زندہ مثال بن چکی ہے۔
جس عظیم ادارے نے اس ملک کو نامور سائنسدان، مفکر، ادیب اور باوقار سیاست دان دیے، اسے آج مسلسل سیاسی بندر بانٹ اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر اس کی روح کو فلج کر دیا گیا ہے۔
کسی بھی قوم یا شہر کو تباہ کرنے کے لیے وہاں بمباری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے تعلیمی اداروں کا نظام درہم برہم کر دینا ہی اس کی تباہی کے لیے کافی ہوتا ہے—اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے یہ کام نہایت کامیابی اور بے حسی کے ساتھ سر انجام دے رہی ہے۔
قائم مقام کلچر، میرٹ کی پامالی اور من پسند افراد کی وائس چانسلر کی کرسیوں پر بٹھانے کی کوششیں دراصل کراچی کے تعلیمی مستقبل کا قتل عام ہیں۔ اس ادارے کی تباہی محض ایک یونیورسٹی کا زوال نہیں، بلکہ پورے شہر کے مستقبل پر شب خون ہے۔
عوام سے مہانہ 400روپے Municipal and Utility Charges کے الیکٹرک کے بل میں لینے کے بعد سعید غنی صاحب فرمارہے ہیں کہ انکی حکومت نے اربوں خرچ کردیئے، سندھ حکومت کا خزانہ بھی خالی ہوگیا تو شہر صاف نہیں ہوگا جب تک لوگ کچرا جگہ پر نئیں ڈالیں گے، تو اب وہ حکم صادر فرمادیں کہ MUCT بھرنے کے باوجود لوگ اپنا کچرا “جام چلرو” یا گوند پاس لینڈ فل ڈالنے خود جائیا کریں کیونکہ اب سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے یہ بھی نہں ہوگا۔ کیونکہ شہری تو کچرا جمع کرنے والوں کو اپنے گھر کا کچرا جمع کرادے دیتے ہیں،جسے کچرے والےہر محلے کی کچرا کنڈی پر پھینک جاتے ہیں، جو SSWM کا کلکٹنگ پوائنٹ ہے، بعد میں سندھ سالڈ ویسٹ کئ گاڑی اگر کچرا اٹھا بھی لے تو وہ اکثر اوقات لیاری ندی میں جا کر ٹرک الٹ آتی ہیں۔ پروف کیلئے ویڈیو لگادی ہے۔ تو براے کرم اپنی ہر ناکامی کا الزام کراچی والوں پر دھر کر انکا صبر آزمانا بند کر دیں۔
بے نظیر کی راولپنڈی میں ہلاکت ہوئ۔مگر ایاز لطیف پلید جیسے لوگوں نے کراچی میں ہزاروں گاڑیاں جلائ۔ بے شمار خواتین کی عزت تاراج کی۔ ۔
آج یہ اعتراف کررہے ہیں دہشت گردی کا۔۔
جب ہمارے آباو اجداد نے ظالم انگریزوں سے پاکستان لے لیا تو صوبہ کیا چیز ہے۔۔
جب وقت آے گا تو صوبہ بھی لے لیں گے
کراچی میں ڈالہ گردی کا ایک اور واقعہ، کلفٹن بلاک 4، بلاول ہاوس کے قریب اور روسی قونصلیٹ کے عقب میں واقع اپارٹمنٹ میں بگڑے امیر زادوں نے اصول و ضوابط کی بات کرنے پر بگڑے امیر زادے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر لہو لہان کردیا۔۔ گاڑی پر نمبر پلیٹ بھی اصل نہیں ہے
#ZarayeNews
پچھلے 18سال #کراچی پرمسلسل حکومت کر کے شہرکو تباہ حال کرنے والوں سےجب انکی کارگردگی پرسوال ہوتو گھبراہٹ میں زبان پرآخریہ ایک ہی نام کیوں آجاتا ہے؟ کوئی تووجہ ہوگئ۔
پیپلز پارٹی سےکوئی پوچھے کہ انہیں18 سال کراچی والوں کی زندگی “بہتر” بنانےسےکونسی "غیبی طاقت" روکتی رہی؟
لمبا عرضہ سی پیک گیم چینجر بتاتے رہے اب بتاتا جا رہا ہے کہ سی پیک کے مہنگے قرضے چکانے کے لئے اب سعودیہ سے سستا قرضہ مانگ رہے ہیں سستا ادھار تیل مانگ رہے ہیں
اٹھارہ ارب ڈالر کے سی پیک قرضے تو بجلی گھر بنانے پر لگے تھے ان کو انقلاب بتاتے تھے اب پھنس چکے
کراچی میں تین سال پہلے رولر اسکیٹس والی پولیس بھی لانچ ہوئی تھی، لوگوں نے جب بھی یہی کہا، بلاوجہ تنقید کی، یہ دنیا بھر میں موجود ہے، ہم نے کہا، جو کراچی کی سڑکوں کا حال ہے، پولیس والا چور پکڑنے کے بجائے منہ کے بل گرا پڑا ہوگا، اور پھر وہی ہوا۔ٹریننگ پر خرچہ سے لے کر رولر اسکیٹ سمیت تمام رقم ڈوب گئی۔ چلیں اب آپ سائیکل پر پیرامیدیکل فرسٹ ایڈ کا شوق پورا کر لیں۔ ان سڑکوں پر جب تک وہ کسی جائے وقوع پر پہنچے گا، یا تو اسکی سائیکل دو ٹکڑے ہو چکی ہوگی، یا خدا نخواستہ بندہ جانبر نہ رہ سکے گا۔ اس کام کیلئےEV موٹر بایئکس ہی سوچ لیتے بھائی؟ اور خدارا کبھی اپنی جماعت سے صوبے میں دو سال پہلے شروع ہوئی رویسکیو 1122 ایبولینس کی تعداد معلوم کی ہے؟ آج بھی Edhi Chipa نہ ہوں تو شہر میں لاشیں اٹھانا والا کوئی نہیں۔
انکے وزراء کی دوڑ ڈیفنس سے کلفٹن اور پھر شاہراہ بھٹو تک محدود ہے۔ جبھی کسی کو کراچی پیرس، تو دوسرے کو نیویارک معلوم ہوتا ہے، اورکوئی چیلنج کرتا ہے کہ سندھ کی سڑکیں ہی خراب نہیں۔
اگر #کراچی کی سڑکوں پر گھومتے ہوتے تو اپنی آسانی کیلئے ہی سڑکیں بہتر بنا دیتے۔
ہیلو وزیر اطلاعات، شرجیل میمن ،
یہ کورنگی کا مین روڈ ہے، کوئی گلی محلہ نہیں۔ وہ آپ نے چیلنج کیا تھا کہ سندھ کی ایک بھی سڑک خراب نہیں، تو عوام نے بھی کیمرے اٹھا کر ہر علاقے سے خراب سڑکیں دکھانا اپنا فرض سمجھ لیا ہے۔ تو اب باتیں بنانے کے بجائے کچھ کام ہوجاے؟
پاکستان میں اب فٹ بال کے فین بڑھ رہے فیفا ورلڈ کپ میں فٹ بال پاکستان کی استعمال ہوتی اب پاکستان کو ایک بہترین فٹ بال ٹیم بھی بنانی چاہئے فٹ بال کی گیم میں پاکستان کا ہونا بہت ضروری ہے کرکٹ سے جان چھڑائیں