اک بھائی صاحب بنکاک گئے
وہاں کی لڑکیوں کی تعریفیں سن چکے تھے
سیدھے بازار حسن کی دکان پر پہنچے
وہاں لڑکیوں کا جمگھٹا لگا تھا
اک خوبصورت لڑکی کو ان کی ورزش و مالش کے لیے بھیجا گیا،
کچھ دیر خر مستیوں کے بعد بھائی صاحب نے اس کے کان میں کھسر پھسر کی،
وہ فورا اٹھ کر چلی گئی
مادام دیکھ رہیں تھیں،
گاہک کو دکان سے مایوس باہر نہیں جانا چاہیئے
فورا زیادہ تجربہ کار لڑکی بھیجی،
وہ بھی کچھ دیر مستی کرتی رہی
پھر جب اس کے بھی کان میں وہ موصوف کچھ بولے
وہ زور سے بولی، بالکل نہیں
اور ناراضگی سے اٹھ گئی
اب ورٹیکل تشویشناک ہو چکی تھی،
مادام نے اک لڑکی لولو، جو کوئی گزارش و عرضداشت سے منع نہیں کرتی تھی,
اسے روانہ کیا
اس نے بھی چند لمحے بھائی صاحب کا دل لبھایا
مگر کان میں کچھ سنتے ہی بھائی صاحب کو تھپڑ رسید کر دیا
اور وہاں سے چلی آئی
اب مادام کے ہوش اڑ گئے
وہ خاصے عرصہ سے دل لبھانے کے کاموں سے دور ہو چکی تھیں،
پر اس شخص کی حرکتوں نے انھیں مجبور کر دیا
اور اپنا حلیہ درست کرتی ہوئیں موصوف کے پاس پہنچ گئیں
کچھ دیر مستی ہوتی رہی،
پھر بھائی صاحب نے سر اس کے کان کے قریب کیا
اور بولے
" پاکستانی روپیہ چلے گا "
مختصر پاکستانی تاریخی معاشی کہانی
🚨🇮🇷🇺🇸🇮🇱 Iranian Brig. Gen. Heydari:
"We can only think about ending this war, when wr have aveneged the blood of our leader. We will not stop fighting unless we impose our will on the Americans and Israelis"
Dubai is literally run on modern day slavery. Foreign workers from India, Bangladesh, Gambia, Kenya and Somalia are treated like slaves, passport confiscated etc. You have human rights in Europe which you won't get in Dubai.