پاک فوج کو اس آدمی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ دراصل آرمی چیف نے اپنے حلف اور آئینی حدوود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے میں ایک منتخب حکومت گرا کر گورنر راج لگایا۔
This is such a dishonest bullshit article. Unbelievable. The provincial government was not removed due to "islamist militancy" issue as the article repeats the military's lies without question. The govt was removed because KP govt decided to protest against Asim Munir's junta.
Laiba Ijaz didn't commit suicide just because her admission turned out to be fake, but because she was certain that filing a police case would be useless and the money was gone forever. It had more to do with her distrust in Pakistani criminal justice system
مولانا فضل الرحمن کی سخت پریس کانفرنس۔ بولے تمام معاملات طے ہو گئے تھے۔ میں پشاور جا رہا تھا صوبائی قیادت سے بات کرنے۔لیکن صبح دس بجے ڈار کا فون آیا ہم ایمرجنسی لگانے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہا گیا دہشتگردی کیوجہ سے۔ میں نے کہا کیا بلوچستان میں دہشتگردی نہیں ہے کیا وہاں امن و امان کی حالت خراب نہیں ہے؟
مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کا ریجیکٹ کر دیا‼️
مولانا کا جرنیلی اسٹیبلشمنٹ کے ”دہشت گردی“ والے چورن پہ کیا کہنا ہے ذرا غور سے سن لیجیے 🚨🚨
میں نے ابھی وفاقی حکومت کے نمائندوں کی پریس کانفرنس سنی ہے اور اس حوالے سے چند بنیادی حقائق اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔
میرے حوالے سے جو بات کی گئی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ہمارے لیے پاکستان کا امن، سلامتی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ سب سے اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔ لیکن میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہو، جب اس کے نتیجے میں امن قائم ہونے کے بجائے بدامنی بڑھتی جائے، تو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا؟ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا موجودہ پالیسی واقعی مطلوبہ نتائج دے رہی ہے؟
خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ چالیس سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کبھی افغان جنگ، کبھی وار آن ٹیرر اور کبھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ہمارے صوبے کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا گیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کاروبار تباہ ہوئے، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوا۔
آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو امن دو اور ہمارے صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کرو۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی قیادت میں ایک وسیع البنیاد امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، کاروباری نمائندوں، حکومتی شخصیات اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت تمام متعلقہ حلقوں نے شرکت کی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ اور قرارداد منظور کی گئی، جس میں امن کے قیام کے لیے واضح سفارشات اور مطالبات پیش کیے گئے۔
یہ قرارداد اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان متفقہ سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ صوبے کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں کی اجتماعی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی مسائل کے حل کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پہلے غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے تھے اور اب دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ قومی یکجہتی کے لیے مفید ہے اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کا متبادل۔
ایک طرف ہمارے صوبے کے وزرا، منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے واقعات سامنے آتے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت پر انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات اور قانونی تحفظ کو ہی نظرانداز کیا جائے تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کیسے قائم ہوگا؟
اسی طرح خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
وفاقی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ وفاقی نظام کے تحت اس کا جائز حق ہیں۔ امن و امان کی ذمہ داریاں صوبے پر ڈال کر اسے مطلوبہ وسائل سے محروم رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے وسائل فراہم کیے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمہ واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر وفاق واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے سیاسی بیانات کے بجائے عملی تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دینا ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔
One correction, both have not been arrested but 'abducted' by the ISI Sector Brig Omar Sharif, who reportedly been using 'Taliban Mercenaries' for such questionable abductions as KP Pashtun police is not cooperating in such illegal abductions of their own leadership.