آج دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے پشتون علاقے میں آکر پشتون کی سرزمین سرانان پر حملہ کر ڈالا ۔
پاس کے نام نہاد غیرت مند پشتون تماشا دیکھتے رہے ۔۔۔
یہی کام ایف سی کرتی تو احتجاج کرتے ۔۔۔
اس حملے پر اپکو محمود خان اچکزئی بھی لب کشائی کرتا نظر نہیں آئے گا۔
مگر اب بس !!!! پشتون قوم اب اگر خاموش بیٹھی تو اپکو اپنے علاقوں میں جنگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا ۔ وقت آگیا ہے کہ متحد ہوجائے۔ اب بس ۔۔۔۔
#Balochistan
اور مزید یہ کہ یہ وہی ہیں جن کےبارےمیں جولانی نےکہا تھا کہ ہمارےمنہج کو سمجھنا ہو شیخ سامی العریدی سے رجوع کریں
جب اپنے فائدے تک بات تھی تو دکتور کو جبھہ النصرہ کا شرعی عام بنایا تھا لیکن جب امریکا سےمفاد حاصل کرنےکی باری آئے تو ان پہ پابندیاں لگا کے فدان ھاکان سے پینگیں بڑھا لیں
امارت کی کابینہ میں کافرہ عورت (LGBT Supporter) ہے؟
امریکی اتحاد کا حصہ ہے؟
پارلمان ہےیا اہل حل و عقد کی شوری؟
فیصلوں کا مرجع قرآن و سنت ہے یا پارلمان؟
سوری پارلمان میں جس طرح کی بےحیاء عورتیں بیٹھی ہیں اس طرح تو افغان جمہوری حکومت میں نہیں ہوا کرتی تھیں امارت تو دور کی بات ہے
شیخ سامی العُریدیؒ کا 17 صفحات کا رسالہ اور اصولوں کی عجیب دنیا
شیخ سامی العُریدیؒ شامی عالمِ دین اور مجاہد تھے۔ آپ جبہۃ النصرۃ میں رہے اور بعد ازاں حراس الدین میں بھی ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ 20 جون کو مختلف ذرائع سے آپ کی شہادت کی تصدیق ہوئی۔ آپ کی متعدد علمی تصانیف موجود ہیں، جن میں عقائد، منہج اور داعش کے غلو و باطل نظریات کے رد پر بھی کام شامل ہے۔
اب ایک بھائی نے شیخؒ کا ایک رسالہ منظرِ عام پر لایا ہے اور خود کو ان سے نسبت بھی دیتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ انہیں شیخؒ کی شہادت تک کا علم نہیں! یوں لگتا ہے اصول یہ ہے:
جہاں سے جو چیز ملے، فوراً آگے چھاپ دو؛ تحقیق اور پس منظر پھر کبھی دیکھ لیں گے۔
مزید لطف یہ کہ 17 صفحات کے ایک مختصر رسالے کو باقاعدہ ’’کتاب‘‘ بنا کر ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے شیخؒ نے شامی حکومت پر برسوں تحقیق کرکے کوئی ضخیم علمی و تحقیقی مقالہ لکھا ہو۔
حالانکہ شیخؒ کی پوری علمی میراث سامنے رکھی جائے تو یہ رسالہ اس کے مقابلے میں شاید ایک فیصد بھی نہ بنتا ہو۔
لیکن انتخاب بھی دیکھیے!
شیخؒ کی عقیدہ، منہج، داعش کے غلو اور دیگر موضوعات پر تصانیف چھوڑ کر یہی رسالہ ہاتھ آگیا، اور پھر اسے اس انداز سے پیش کیا گیا گویا شیخ سامی العُریدیؒ کی زندگی کا سب سے بڑا علمی مشن احمد شرع صاحب کی حکومت پر تبصرہ کرنا تھا۔
اصل دلچسپ تضاد یہاں سے شروع ہوتا ہے
شیخ سامی العُریدیؒ نے شیخ عبدالرزاق المہدی حفظہ اللہ کے بعض تکفیری مسائل، خصوصاً حکمرانوں کی تکفیر کے حوالے سے موقف پر تنقید کی تھی۔
لیکن یہی بھائی جب شیخ المہدی کی شامی حکومت پر تنقیدیں دیکھتے ہیں تو انہیں حق گو عالم، مجاہد عالم، داعی وغیرہ کے القابات سے پیش کرتے اور ان کی باتیں نشر کرتے ہیں۔
تو بھائی ذرا اصول واضح کر دیں:
شیخ المہدی کے ساتھ ہیں یا شیخ العُریدیؒ کے؟
اور اگر دونوں علماء اپنے اجتہاد میں قابلِ احترام ہیں اور اختلاف کی گنجائش ہے، تو پھر احمد شرع صاحب کو ہی ہر اختلاف کے لیے تختۂ مشق کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اب آتے ہیں رسالے کے تین بڑے ’’بچھڑوں‘‘ کی طرف
رسالے میں تین امور کو سامری کے بچھڑے سے تشبیہ دی گئی ہے:
1۔ وطن پرستی / نیشن اسٹیٹ
کہ اسلام میں وطن کی بنیاد پر ایسی قومی تقسیم نہیں جس میں محض وطن کی وجہ سے لوگ برابر قرار پائیں۔
2۔ غیر اسلامی قوانین سازی اور شرعی نظام کا عدم نفاذ
3۔ اقوام متحدہ
جسے مصنف کفر کا گڑھ قرار دیتے ہیں اور اس کا حصہ بننے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔
مصنف پہلے ان امور کا شرعی بطلان بیان کرتے ہیں، پھر سلف کے تفسیری و فقہی اقوال، بعض معاصر مشائخ کے فتاویٰ وغیرہ سے استدلال کرتے ہیں اور آخر میں ان اصولوں کو موجودہ حالات پر منطبق کرتے ہیں۔
یہاں تک بحث اپنی جگہ۔
لیکن اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب یہی ترازو ہر طرف لے جایا جائے۔
نیشن اسٹیٹ صرف شام میں ہے؟
اگر قومی ریاست، سرحد، پاسپورٹ اور بین الاقوامی معاہدات بذاتِ خود اتنے ناقابلِ قبول ہیں تو پھر یہی اصول افغانستان پر بھی لاگو ہوگا۔
کیا افغانستان کی بین الاقوامی سرحدیں نہیں؟
کیا پاسپورٹ سسٹم نہیں؟
کیا دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدات نہیں؟
کیا بین الاقوامی سفارتی تعلقات نہیں؟
اگر یہ سب موجود ہیں تو پھر ایک جگہ ’’سامری کا بچھڑا‘‘ اور دوسری جگہ ’’حکمتِ عملی‘‘ کیوں؟
غیر اسلامی قوانین کا مسئلہ بھی ذرا یکساں رکھیں
اگر کسی حکومت کے غیر شرعی قوانین یا عملی فیصلے بنیاد بنا کر اس کے خلاف شیخؒ کا رسالہ بطور حجت پیش کیا جا سکتا ہے، تو پھر یہی معیار ہر اسلامی تحریک اور ہر حکومت کے لیے ہونا چاہیے۔
کیا افغانستان میں ہر قانون، ہر انتظامی ضابطہ اور ہر حکومتی عمل سو فیصد اس معیار پر پورا اترتا ہے؟
اور اگر کسی جگہ حالات، استطاعت، مصلحت، تدریج اور سیاسی مجبوریوں کو پیشِ نظر رکھا جا سکتا ہے تو پھر شام کو یہ رعایت کیوں نہیں؟
اور اقوام متحدہ کا معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہے
اقوام متحدہ کے نظریاتی و سیاسی کردار پر اعتراض اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ:
کیا کسی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ سیاسی تعامل، اس سے رابطہ یا اس کے نمائندوں سے معاملات کرنا لازماً اسی ادارے کے تمام عقائد و نظریات کو قبول کرنا ہوتا ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر معاملہ صرف شام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
اور یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے:
اگر اقوام متحدہ یا دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعامل اتنا ہی اصولی طور پر ناقابلِ قبول ہے، تو پھر خود القاعدہ کے ایران کے ساتھ تعلقات، رابطوں، معاہدات اور ایران میں بعض افراد کو پناہ یا قیام ملنے کے واقعات کو اسی اصول کی روشنی میں کیسے سمجھا جائے؟
بالخصوص جب ایران کو خود بعض جہادی حلقوں کے نزدیک ایک غیر اسلامی یا مرتد حکمران نظام سمجھا جاتا رہا ہو۔
تو سوال یہ بنتا ہے:
( جاری ہے )
جو عذر حضرت نے جولانی کو دیئے ہیں یہی عذر مداخلہ آل سعود کو دیتے ہیں
فرق کیا ہے ؟
بلکہ یہی عذر حکومت پاکستان کو بھی دیئے جا سکتے ہیں
اپنی مقدس گائے کو اتنے عذر دے سکتے ہیں پھر عاصم منیر کا کیا قصور ہے جن کو محروم رکھ رہے ہیں
@Qulb_O_Nazar اور اسی وجہ سے میں سوشل میڈیا سے دور رہتا ہوں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بحث مباحثے میں پڑ جاتا ہوں
یہ جانتے بوجھتے کہ فائدہ کچھ نہ ہوگا
اللہ ہمیں خیر کی طرف لپکنے والا اور خیر پھیلانے والا بنائے اور عافیت میں رکھے اللھم آمین
معاشرےمیں جرائم کی روک تھام کےلئے دو اہم ذرائع استعمال کئےجاتےہیں
روحانی/ اخلاقی تربیت اور حدود اللہ کی تنفیذ۔
جو نفوس تربیت کےمراحل سےگزرنےکےبعد بھی جرائم کا ارتکاب کریں تو ان کےلئےپھر شرعی سزائیں ہی حل ہوا کرتی ہیں
اور یہاں شرعی نظام نہ ہونےکی وجہ دونوں ذرائع ہی مفقود ہیں
۱/۲
راولپنڈی کے علاقہ ویسٹریج کے علاقہ محلہ سلیمان آباد میں 12 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ ملزم کو پکڑ کر متاثرہ بچی کے والد اور رشتہ داروں نے دھلائی کردی تھانہ ویسٹریج پولیس نے ملزم کو گرفتار تھانے منتقل کردیا12 سالہ فاخرہ 27 اگست کی رات گھر سے نکلی تھی۔۔۔
@esaeed_322@wahidi4you@Qulb_O_Nazar@Muhammad663_@AhmedAnsar70691@Muhammad111_ اور دوسرے اکاؤنٹ بنا کر بدکلامی کرنے سے انکار نہ ہی کریں تو اچھا ہے ورنہ اس کو منوانے کے لئے پھر بات آگے چلی جائے گی
آپ کا جو لوکل نمبر استعمال کرتے تھے اسی پہ ابراھیم سید (سابقہ جعفری مومن، ابراھیم غوری وغیرہ وغیرہ) کا ٹیلی گرام اکاؤنٹ بنا تھا
@AhmedAnsar70691@wahidi4you حضرت آپ کو جب بھی گالم گلوچ کا شوق پڑتا ہے آپ نیا اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں
بہتر ہے آپ “شیخ” کی تصویر لگے اکاؤنٹ سے ہی الزامات لگایا کریں تاکہ لوگوں کو آپ کی “بزرگی” کا بھی پتہ چلے۔
جتنا آپ شریف دکھنے کی کوشش کرتے ہیں اتنی کوشش شریف بننے پہ بھی کریں