ایک خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اور چادر چار دیواری کا تقدس بغیر کسی ڈر اور خوف کے پامال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے۔
آج صبح ایک بار پھر علیمہ خان کو جس انداز میں اغوا کیا گیا اور 3MPO کے تحت جیل منتقل کیا گیا، یہ بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اگر اختلاف عمران خان سے ہے تو مقابلہ بھی عمران خان کے نظریے اور سیاست سے کریں۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، اور خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانا کون سی سیاست، کون سا قانون اور کون سی اخلاقیات ہیں؟
ہماری مذہبی یا معاشرتی روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور میں کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ہراساں کر کے، اغوا اور گرفتار کر کے اور خاندانوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر نظریے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
Imran Khan’s sister Aleema Khan was snatched off the streets of Lahore. Family phones went dead. Her car appeared at a police station. Only then did the regime tell the media she had been arrested.
There was no fresh criminal case that justified grabbing her this morning. They used 3-MPO, preventive detention without charge,to disappear a woman whose only offense is speaking for her imprisoned brother.
This is how Field Marshal Asim Munir and his fellow generals are turning Pakistan into another North Korea, pick up family members first, invent the paperwork later, and dare the world to notice.
پنجاب پر مسلط گھٹیا جعلی حکومت اس بچی کا گھر اس لیے توڑ رہی ہے کیونکہ اس نے خیبر پختونخوا سے آئے مہمانوں کو ناشتہ کرانے کا جرم کیا ہے۔ پنجاب کی عوام غیرتمند ہے بہادر ہے اور نڈر ہے۔ جب یہ ہمارے لیے ناشتہ لا رہے تھے تو راستے میں پولیس نے ناشتہ بھی ضبط کر کے خود کھا لیا تھا۔ فیصلہ ساز، منصوبہ ساز ایک دفعہ پھر سوچ لے کہ ملک کو تقسیم کرنا ان کے فائدے میں ہے یا نقصان میں ؟
ہر وہ بندہ جو پاکستان کے ساتھ مخلص ہے وہ بھی ایسے اقدامات اور رویے پر ضرور اپنے گریبان میں دیکھ کر سوچیں کہ یہ مافیا ہمیں کس طرف لے کر جا رہا ہے ؟ ان کی خاموشی ایسے ظالموں کو مزید تقویت دے رہی ہے یا نہیں؟ آپ کی تھوڑی سے مزاحمت رویوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔
پاکستان کو ہم کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دینگے۔ پاکستان ہمارا ہے اور ہم سب ایک تھے، ایک ہیں اور ایک ہی رہینگے۔
اسکے ساتھ ساتھ میرے گھر کی ہر چیز لوٹ کر بھی ساتھ لے گے،گاڑی میں سارا سامان لاد کر لے گے، کوئی ہے میرا درد سننے والا 15 سال کرائے کے گھر میں رہنے کے بعد اللہ نے گھر دیا تھا جس کی بنیاد میری ماں نے رکھی تھی میرے باپ نے دن رات کھڑے ہو کر بنوایا تھا۔ جس کیلئے ایک ایک چیز بڑے پیار سے بناوائی تھی۔ ایک فلور کو صرف تیار کر کے شفٹ ہو گے تھے کرائے سے جان چھوٹ جائے آج میرے گھر کی ہر چیز توڑ دی گئی مجھے کون انصاف دے گا؟
میاں محمود الرشید کی بیٹی مریم کلثوم بتا رہی ہیں کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی والدہ کو دھکے دیے، جس کے باعث وہ گر گئیں۔ ان کا شوگر لیول خطرناک حد تک کم ہوگیا جبکہ آنکھ پر بھی چوٹ آئی۔مریم کلثوم کے مطابق تقریباً 35 پولیس اہلکاروں نے گھر پر دھاوا بولا، اہلِ خانہ کو ہراساں کیا اور ایک بزرگ خاتون کے ساتھ بھی مبینہ طور پر بدسلوکی کی۔
آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔ سرکاری افسر
جب تک میری عوام نہیں جائے گی میں نہیں جائوں گا۔ سہیل آفریدی
کس نے اجازت دی ہے روڈ بند کرو، عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہو، شرم نہیں ہو تمہیں۔ سہیل آفریدی