Syrian rebels tell captured Assad regime soldiers:
“You killed our children, you killed our women with barrel bombs. You employed Russians and Iranians to kill us….But this is the religion of Allah, the religion of Muhammad. Go, for you are free.”
#Syria
@Advjalila behn wese to ap bht activist bnti lkn bagan me jo apky firqay ne kam kia ek b tweet ni ai apki ulta safaiyan dy rhi posts py k ye to edited hai bajaye apny firqay walo k kam dkh k, itna victim card bhi na khelein k munfkat jhalakna start hojye.
مورخہ 20 نومبر 2024 کو اوچت لوئر کرم کے مقام پر اہل تشیع اور اہل سنت کے مشترکہ کانوائے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں 39 افراد اہل تشیع کے ہلاک اور 27 زخمی ہوئے اسکے ساتھ ساتھ ایک آرمی کا جوان اور دو اہل سنت سویلینز بھی قتل ہوئے جن میں ایک عورت بھی شامل ہے۔
یہ واقعہ چونکہ اہلسنت علاقے میں واقع پیش آیا تو اس کے درعمل اہل تشیع نے دو مسافر اہلسنت افراد کو آگرہ اور سلطان اپر کے درمیان گاڑیوں سے اتار کر پتھروں سے شہید کردیا جبکہ دیگر 4 افراد کو اغوا کرلیا گیا جن کی بابت تاحال کوئی خبر نہیں!
اسی طرح کل ایک حاضر سروس F.C کے جوان پر زینبیون کے دہشتگردوں نے شرکو جو کہ پاک افغان بارڈر کے بالکل قریب واقع چھوٹا سا علاقہ ہے فائرنگ کرکے زخمی کیا۔
جبکہ باب کرم، ملی کلے اور میرباخیل چیک پوسٹ سمت پاڑہ چنار میں پاک آرمی کی انسٹالیشنز کو بھی جلادیا گیا۔
اوچت کے مقام پر اہل سنت عوام نے اسلامی و پشتو روایات پر عمل کرتے ہوئے ہلاک شدگان اور زخمیوں کو صحیح سلامت اہل تشیع عمائدین کے حوالے کیا۔ جبکہ دیگر 52 افراد( اہل تشیع) جنہوں نے اہلسنت کے گھروں میں پناہ لے رکھی تھی کو بھی صحیح سلامت انکے گھروں تک پہنچا کر امن پسندی اور خیرسگالی کا ثبوت دیا لیکن اس سب کے باوجود پھر بھی اہل سنت کو نہیں بخشا گیا اور رات بھر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔
یاد رہے کہ بگن کانوائے واقعہ پر اہلسنت کے تمام قبائل نے ناصرف شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ مذکورہ واقعہ سے لاتعلقی کا اظہاربھی کیا تھا۔
تھوڑا پیچھے جائیں تو 12 اکتوبر 2024 کو اہل سنت کانوائے پر کنج علی زئی کے مقام پر زینبیون کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا جس میں عورتوں بچوں اور علماء کرام کو انتہائ بے دردی کے ساتھ شہید کیا ،معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے کلہاڑیوں اور چاقووں کے وار سے شہید کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد 62 معلوم دہشتگردوں کی فہرست اہل تشیع کے حوالے کی گئ تاہم دہشتگردوں کو حکومت کے حوالے کرنے کے بجائے اپرکرم والوں نے الٹا ان کی پشت پناہی کی
سب جانتے ہیں کہ اوچت کے علاقے میں مقامی کمانڈر کاظم ایکٹو ہے اور ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہیکہ کانوائے پر حملے میں بھی ملوث ہے تاہم اہل تشیع نے بغیر کسی تحقیق کے اہل سنت کو قصوروار ٹھہرا کر الٹا ان ہی پر دھاوا بولدیا۔
کل مورخہ 22 نومبر 2024 کو مسلح شیعہ زینبیون دہشتگردوں نے نجی ملیشیاء کی وردیاں پہن کر سنی اکثریتی علاقے کے گاؤں بگن پر دھاوا بولا جب علاقہ مکین رات کے کھانے میں مصروف تھے اور کسی بھی حملے سے بلکل بے خبر تھے، حملے میں بازار کے کچھ حصے کو نذر آتش کردیا گیا جبکہ دیگر سرکاری املاک نادرا آفس بینکس اور پیٹرول پمپس وغیرہ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ گھروں میں گھس کر لوٹ مار بھی کی گئ۔
گاؤں پر اتنے اچانک حملے سے اہلسنت کا بہت نقصان ہوا ڈاکٹر طلا صاحب کی ایک بیٹی کو انکے کے سامنے قتل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق زینبیون کے اس حملے میں بوڑھوں بچوں خواتین سمیت کسی کو نہیں بخشاگیا۔۔۔۔۔
اور تو اور وحشی خونی درندوں نے یہ بھی کہا کہ اب جو صلح کے لئیے آئیگا اسکا بھی تابوت واپس جائیگا جسکا مظاہرہ آج زینبیون کیجانب سے سرکاری ہیلی کاپٹر پر حملے کی صورت میں ہوچکا۔۔۔۔
اہل سنت مشران بار بار سول سوسائٹی اور انتظامیہ سے یہی اپیل کررہے کہ خونریزی کرنے اور فسادات کو ہوا دینے والوں کو آخر ایک ہی بار کیوں نہیں اٹھا لیا جاتا
اگر یہ چند شرپسند عناصر ہیں تو ان پر آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا؟
آخر کب تک ہم اپنی عورتوں اور بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے!!!!
تحریر و ترتیب: آفتاب نذیر