جیڑھے شخص کوں سارے چھوڑ ونجن میں اُس انسان دے نال کھڑاں۔
میں نال کھڑاں ما دھرتی دے میں اپنی شان دے نال کھڑاں۔
اج سارے ڈاکو مل گئے ہن میں تاں عمران دے نال کھڑاں۔
میں پاکستان دا واسی ہاں میں پاکستان دے نال کھڑاں ..
#کیا_غدار_حکومت_کرینگے
@TeamPakAlpha__
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن کے سیکنڈ فیز میں پاکستان تحریک انصاف نے ساری جماعتوں کا صفایا کردیا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کس کے ساتھ کھڑی ہے خیبرپختونخوا پھر سے کپتان کا
#کیا_غدار_حکومت_کرینگے
@TeamPakAlpha__
سکیورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمر ان خان پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، وزیراعظم کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے،
(اطہرکاظمی)
#کیا_غدار_حکومت_کرینگے
جج نے کہا:- ٹھیک ہے، جلدی لےکر آؤ۔
ملا صاحب انتظار کرتےکرتے تھک گئےلیکن وہ شخص نہیں آیا، ملا صاحب اٹھے اور رکھ کےایک زور کا تھپڑ جج کو مارا اور کہا:-
”اگر وہ زیور لاۓتو تم رکھ لینا“
آجکل کے ججوں کے ساتھ ایسا ہی کرناچاہۓ۔ تاکہ وقت پہ فیصلے ہوسکے۔ اور غریبوں کا پیسہ ضاٸع نہ ہوں۔
پاکستان کی عدلیہ کے فیصلے
ایک دفعہ ملانصیرالدین بازار سے جا رہےتھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔
ملا صاحب نے غصےسے پیچھے دیکھا،
وہ شخص گھبرا کربولا:-
معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے۔ ۔
ملا صاحب نے کہا:-
نہیں - - - انصاف ��وگا،
چلو عدالت چلتے ہیں۔
جاری 👇
@MKA1_0
ملا نےجج صاحب کےسامنے اپنا مدعا پیش کیا۔جج نےاس شخص کا خوف دیکھ کرکہا:-
کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دوگے یا ملا صاحب آپ کو بھی تھپڑ لگائیں؟
اس شخص نےکہا:-
جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گا، لیکن ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میری بیوی کے پاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔
جاری 👇
زن کو نا زن بنادینے والی مغربی معاشرت کی ’’مَیّا‘‘ مرگئی ہے۔ وہاں کی عورتیں اب ’’ماں‘‘ بننے کو تیار نہیں ہوتیں۔ صحیح معنوں میں ’’ماں‘‘ بن جائیں تو تقریباً تین سال تک ’’آزادیِ نسواں‘‘ اور ’’مساوات�� مردو زن ‘‘ کے لولی پاپ سے دست کَش ہونا پڑتا ہے۔
👇
بوجھ بھی لاد دیا جائے تو اسے ’’مرد وزن کی مساوات‘‘ کہا جاتاہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک عورت بھی بے سوچے سمجھے یہ محاورہ استعمال کررہی ہے کہ ’’ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘‘۔ اقبالؔ ��ہتے ہیں:
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
👇
مرد اگر مرد نہ رہے تو یہ بات اس کے لیے گالی بن جاتی ہے۔ لیکن عورت سے نسوانیت اور نسائیت سلب کرلی جائے تو اسے ’’آزادیِ نسواں‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ مردوں کے ل��ے تو عورتوں کے وظائف سرانجام دینا فطری طور پر ممکن نہیں، لیکن عورتوں کا بوجھ بٹائے بغیر ان کے کندھوں پر مردانہ کاموں کا
👇
اسی ترکیب سے کس دی جاتی ہیں۔ تنگ موری کے پاجامے پر پنڈلی کے پاس جو شکنیں بطورِ خاص ڈالی جاتی ہیں وہ بھی چوڑیاں کہی جاتی ہیں اور ایسا پاجامہ ’چوڑی دار پاجامہ‘ کہلاتا ہے۔ مولوی نورالحسن نیرؔ مرحوم کی سند کے مطابق مہترانی، خاتون خاکروب یا بھنگن کو بھی چوڑی کہا جاتا ہے۔
👇
طور پر پہنتی ہیں اور اسے اپنے سہاگ کی علامت جانتی ہیں۔ دوسرے، چوڑی کی شکل کا بنا ہوا کوئی گول پُرزہ بھی چوڑی کہلاتا ہے، کسی پُرزے کو ڈھبری یا پیچ کس سے کسنے کے لیے جو چکردار کٹاؤ بنایا جاتا ہے اُسے بھی چوڑی کہتے ہیں۔ پُرزوں ہی کی نہیں، بعض اوقات سیاسی رہنماؤں کی چوڑیاں بھی
👇
شیخ رشید احمد صاحب کے الفاظ میں یہ ‘Manufacturing fault’ کہلائے گا۔
لغت میں لفظ ’چُوڑی‘ کے بہت سے معانی ہیں۔ ایک تو وہی جس کا ذکر شہلا رضا نے اپنے بیان میں کیا ہےیعنی لاکھ، کانچ، پلاسٹک یا سونے چاندی وغیرہ کا بنا ہوا وہ خوش نما دائرہ جسے مشرقی خواتین اپنی کلائیوں میں زیور کے
👇
غیرت اور احساس دلاسکیں کہ تم تو مرد ہو۔ اگرکم زوری اور نزاکت کا مظاہرہ کرناہی ہےتو لو یہ چوڑیاں بھی پہن لو۔
لہٰذا یہ اعلان کرنا کسی مرد ہی کو زیباہے کہ وہ مرد ہے۔ اُردو محاورے کےمطابق اگر کسی خاتون کےمتعلق یہ انکشاف ہو کہ وہ مرد ہےتو اسے اُس کا عیب یا تخلیقی نقص سمجھا جاتاہے
👇
کیوں کہ مولوی نورالحسن نیرؔ مرحوم اپنی ’نوراللغات‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’… ہاتھوں میں چوڑیاں ڈالنا (کنایۃً) نامردی اختیار کرنا۔ طنزاً جیسے چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھ جاؤ‘‘۔
دنیائے سیاست میں بھی بعض اوقات خواتین کی طرف سے مردوں کو چوڑیاں پیش کی جاتی ہیں تاکہ وہ مردوں کو شرم،
👇
ہوکر یہی بیان دُہرا دیا:’’شیخ رشید ایکشن کرکے دیکھ لیں۔ ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘‘
اچھا ہوا کہ چوڑیاں پہنےبغیر ہی شہلا نے شیخ کو ایکشن کی دعوت دےڈالی۔ چوڑیاں پہن کر ایسا کرنا خطرے سے��الی نہ تھا۔
’’چوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘‘مردانہ محاورہ ہے۔
مولانا کو تو یہ محاورہ زیب دیتا ہے
👇